بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا اے ابو ذرؓ! میرے بعد کچھ ایسے امراء ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے۔ تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا۔ اگر تم نے اسے وقت پر پڑھ لیا تو وہ نماز تمہارے لئے نفل ہو جائے گی بصورت دیگر تم نے اپنی نماز بچا لی۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے دوست ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں اگرچہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہو جس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور یہ کہ میں نماز اس کے وقت پر ادا کروں۔ اگر تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو تم نے اپنی نماز بچا لی بصورت دیگر وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز اس کے وقت سے تاخیر کرکے پڑھیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا کہ آپؐ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ نماز اس کے وقت پر ادا کرو پھر اپنے کام کے لئے جاؤ۔ پھر اگر نماز کھڑی کی جائے اور تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لو۔
ابو العالیہ البراء کہتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز تاخیر سے پڑھائی تو میرے پاس حضرت عبداللہ بن صامت آئے۔ میں نے ان کے لئے کرسی رکھی اور وہ اس پر بیٹھ گئے تو میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کے فعل کا ذکر کیا تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا میں نے حضرت ابو ذرؓ سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا جیسے میں نے تمہاری ران پر مارا۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا تو آپؐ نے میری ران پر ہاتھ مارا۔ جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا اور پھر فرمایا کہ نماز اس کے وقت پر پڑھو اور اگر تمہیں ان (لوگوں) کے ساتھ نماز ملے تو پڑھ لو اور یہ نہ کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں اس لئے میں نماز نہیں پڑھوں گا۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اس وقت تم لوگوں کا کیا حال ہوگا یا تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں گے پس تم نماز اس کے وقت پر پڑھو پھر اگر نماز کھڑی ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو کیوں کہ یہ بھلائی میں اضافہ ہی ہے۔
ابو العالیہ البرّاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت سے کہا کہ ہم جمعہ کی نماز ایسے امراء کے پیچھے پڑھتے ہیں جو نماز میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے میری ران پر ایسا ہاتھ مارا جس سے مجھے درد ہونے لگا۔ پھر کہنے لگے کہ میں نے اس بارہ میں حضرت ابو ذرؓ سے پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا میں نے رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں سوال کیا تھا تو آپؐ نے فرمایا کہ نماز اس کے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز نفل قرار دے دو۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا کہ میرے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ نبیﷺ نے حضرت ابو ذرؓ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز تمہارے اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت پچیس درجہ افضل ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جماعت کے ساتھ نماز کسی شخص کے اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت پچیس درجہ افضل ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ فجر کی نماز پر رات کے اور دن کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو بے شک (یہ آیت) پڑھو {وَقُرآنَ الفَجْرْ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا} (بنی اسرائیل: 79) فجر کے قرآن کو لازم پکڑو۔ یقینا فجر کے وقت قرآن پڑھنا ایسا ہے جس کی گواہی دی جاتی ہے۔ شعیب کی معمر سے روایت میں خَمْسًا وَ عِشْرِیْنَ دَرَجَۃً کے بجائے بِخَمْسٍ وَ عِشْرِیْنَ جُزْئً ا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جماعت کے ساتھ نماز اکیلے آدمی کی پچیس 25 نمازوں کے برابر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت پچیس درجہ افضل ہے۔