حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑاؤ کیا ہماری آنکھ نہ کھلی جب تک سورج طلوع نہ ہوا۔ تب نبیﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی سواری کو اس کے سر سے پکڑ کر لے جائے کیونکہ اس پڑاؤ کی جگہ پر شیطان آ موجود ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ نے پانی منگوایا اور وضوء کیا۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ یعقوب نے (سَجَدَ سَجْدَتَین کے بجائے) صَلّٰی سَجْدَتَینِ کے الفاظ کہے (تو کہا)۔ پھر اقامت کہی گئی اور آپؐ نے صبح کی نماز پڑھائی۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا اور ارشاد کیا کہ تم اپنی ساری شام اور ساری رات چلو گے اور کل انشاء اللہ پانی تک پہنچ جاؤ گے۔ لوگ اس طرح چلے کہ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ حضرت ابو قتادہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ چلتے جاتے تھے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی اور میں آپؐ کے پہلو میں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو اونگھ آئی تو آپؐ اپنی سواری پر(ایک طرف) جھک گئے۔ میں آپؐ کے پاس گیا تو میں نے آپؐ کو جگائے بغیر سہارا دیا یہاں تک کہ آپؐ ٹھیک ہو کر اپنی سواری پر بیٹھ گئے۔ پھر آپؐ چلتے گئے یہاں تک کہ اکثر رات گزر گئی۔ (آپؐ پھر اونگھ کے باعث) اپنی سواری پر جھک گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آپؐ کو بغیر جگائے سہارا دیا یہاں تک کہ آپؐ پھر اپنی سواری پر ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ چلتے گئے یہاں تک کہ سحر کا آخری حصہ آگیا تو آپؐ پہلی دونوں مرتبہ سے بھی زیادہ جھک گئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپؐ مُڑ کر گر نہ جائیں۔ میں آپؐ کے پاس پہنچا اور آپؐ کو سہارا دیا۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ۔ آپؐ نے پوچھا کہ تم کب سے یوں میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ رات سے میں آپؐ کے ساتھ چل رہا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے نبیؐ کی حفاظت کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم ہمیں دیکھتے ہو کہ ہم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ پھر آپؐ نے پوچھا کہ کیا تم کسی کو دیکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ یہ ایک سوار ہے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ یہ ایک اور سوار ہے۔ یہاں تک کہ ہم جمع ہوئے اور ہم سات سوار تھے وہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہﷺ راستہ سے ایک طرف ہو گئے۔ پھر آپؐ نے اپنا سر رکھا اور فرمایا کہ ہماری نماز کا خیال رکھنا۔ ہم میں سے سب سے پہلے رسول اللہﷺ بیدار ہوئے اور دھوپ آپؐ کی پشت پر تھی۔ وہ کہتے ہیں ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔ پھر ہم سوار ہو کر چلنے لگے یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا تو آپؐ (سواری سے) نیچے اترے۔ پھر آپؐ نے وضوء کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا اور اس میں کچھ پانی تھا۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے ہلکا سا وضوء کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں کچھ پانی بچ گیا۔ پھر آپؐ نے ابو قتادہؓ سے فرمایا کہ اپنے اس وضوء کے برتن کو سنبھال کر رکھو، اس برتن سے عظیم الشان بات ظاہر ہوگی۔ پھر حضرت بلالؓ نے نماز کے لئے اذان دی۔ رسول اللہﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر ہر روز کے معمول کے مطابق آپؐ نے کام کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے تو ہم بھی آپؐ کے ساتھ سوار ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بعض بعض کے ساتھ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ اس کوتاہی کا کیا کفارہ ہے جو ہم سے نماز کے بارہ میں ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کیا اس معاملہ میں مَیں تمہارے لئے اسوئہ نہیں ہوں؟ پھر آپؐ نے فرمایا کہ سوجانے میں کوتاہی نہیں ہے بلکہ کوتاہی تو یہ ہے کہ کوئی نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت آجائے۔ جو ایسا کرے تو اسے چاہیے کہ جب وہ بیدار ہو تو وہ (نماز) پڑھ لے۔ اگر اگلا دن آجائے تو چاہیے کہ اسے (نماز کو) اس کے وقت پر پڑھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے لوگوں پر کیا گذری ہوگی۔ وہ کہتے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ لوگوں نے صبح اپنے نبی
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسِيرٍ لَهُ فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ - قَالَ - فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ وَكُنَّا لاَ نُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَنَامِهِ إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ ارْتَحِلُوا . فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا . قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ . فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ فَصَلَّى ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا . فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ قَالَتْ أَيْهَاهْ أَيْهَاهْ لاَ مَاءَ لَكُمْ . قُلْنَا فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ . قَالَتْ مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ . قُلْنَا انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَا فَأُنِيخَتْ فَمَجَّ فِي الْعَزْلاَوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلاً عِطَاشٌ حَتَّى رَوِينَا وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ - يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ - ثُمَّ قَالَ
حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھا ہم ساری رات چلتے رہے یہانتک کہ جب صبح قریب ہوئی تو ہم نے پڑاؤ کیا اور ہماری آنکھ لگ گئی یہانتک کہ سورج چمکنے لگا (راوی) کہتے ہیں کہ ہم میں سے سب سے پہلے جو نیند سے بیدار ہوئے وہ حضرت ابو بکرؓ تھے۔ اور ہم نبی ﷺ کو جب آپؐ سوجاتے آپؐ کی نیند سے جگایا نہیں کرتے تھے جب تک کہ آپؐ خود بیدار نہ ہوجائیں۔ پھر حضرت عمرؓ بیدار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس کھڑے ہوکر تکبیر کہنے لگے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے۔ جب آپؐ نے سر اٹھایا اور سورج کو خوب چمکتا ہوا پایا تو فرمایا کوچ کرو۔ پھر آپؐ بھی ہمارے ساتھ چلنے لگے یہانتک کہ جب سورج کی روشنی سفید ہو گئی، آپؐ اترے اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی الگ ہو گیا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ جب (حضورؐ) نماز سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا اے فلاں تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! مجھے جنابت ہو گئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا تو اس نے مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر آپ نے مجھے چند سواروں کے ساتھ فوری طور پر پانی کی تلاش میں آگے جانے کا ارشاد فرمایا۔ ہمیں بہت شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ اسی اثناء میں کہ ہم جا رہے تھے کہ اچانک ہم نے ایک عورت دیکھی جو اپنے پاؤں کو دو بڑی مشکوں کے درمیان لٹکائے (بیٹھی) تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا ہائے ہائے تمہیں پانی نہیں مل سکتا۔ ہم نے کہا تمہارے اہل اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا ایک دن رات کا سفر ہے۔ ہم نے کہا کہ ’’رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو‘‘ اس نے کہا کہ رسول اللہ کون؟ ہم نے اس کی مرضی نہ چلنے دی۔ ہم اس کو لے کر چلے اور ہم اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ آپؐ نے اس سے (پانی کے بارہ میں) دریافت فرمایا اس نے آپؐ کو وہی بتایا جو اس نے ہمیں بتایا تھا۔ نیز اس نے آپؐ کو یہ بتایا کہ وہ موتمہ ہے اس کے یتیم بچے ہیں۔ آپؐ نے اس کے پانی کے اونٹ کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو اس کو بٹھایا گیا پھر آپؐ نے دونوں مشکوں کے اوپر مونہوں پر کلی کی پھر اس کے پانی والے اونٹ کو کھڑا کردیا۔ پھر ہم سب نے پانی پیا اور ہم چالیس پیاسے آدمی تھے۔ یہانتک کہ ہم سب سیر ہو گئے۔ اور ہم نے اپنے پاس موجود ہر مشکیزہ اور چھاگل کو بھر لیا۔ اپنے ساتھی کو غسل بھی کروایا البتہ ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔ قریب تھا کہ (اس عورت کی) دونوں مشکیں پانی سے پھٹ جاتیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ۔ چنانچہ ہم نے اس کے لئے (روٹی کے) ٹکڑے اور کھجوریں اکٹھی کیں اور آپؐ نے اس کے لئے ایک گٹھڑی باندھ دی اور اسے فرمایا کہ جاؤ اور اپنے بچوں کو یہ کھلاؤ لیکن یہ جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کچھ کمی نہیں کی۔ جب وہ اپنے گھر آئی تو کہنے لگی کہ میں انسانوں میں سب سے بڑے جادو گر سے ملی ہوں یا یقینا وہ نبی ہے جیسا کہ وہ کہتا ہے۔ (پھر اس نے بتایا کہ) آپؐ کے یہ یہ کام تھے۔ پس اللہ نے اس قبیلہ کی شاخ کو اس عورت کی وجہ سے ہدایت دی۔ وہ عورت مسلمان ہوگئی اور وہ سب لوگ اسلام لے آئے۔ ایک دوسری روایت ہے کہ ہم رسول اللہ
قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ .
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ رات کو سفر میں پڑاؤ کرتے تو اپنے دائیں پہلو پہ لیٹ جاتے اور جب صبح سے تھوڑی دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو کو کھڑا کر کے اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی نماز بھول جائے اسے چاہیے کہ جب یاد آئے تو وہ نماز پڑھ لے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفّارہ نہیں ہے۔ قتادہ نے کہا کہ اَقِمِ الصَّلََاۃَ لِذِکْری الآیۃ (طٰہٰ: 15) اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔ ایک دوسری سند میں ہے کہ حضرت انسؓ نے نبیﷺ سے روایت کی جس میں راوی نے ان الفاظ کا ذکر نہیں کیا کہ ’’اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں‘‘
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے تو اس کا کفّارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے وہ نماز پڑھ لے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز سے سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب اسے یاد آئے وہ اس کو پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَقِمِ الصَّلََاۃَ لِذِکْری (طٰہٰ: 15) اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔
أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ . وَقَالَ النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا
. قَالَ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
أَحْسِنُوا الْمَلأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوَى
. قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي
کو گم پایا۔ تب حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہ
ﷺ
تمہارے پیچھے ہوں گے وہ تمہیں چھوڑ کر جانے والے نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ
ﷺ
تمہارے آگے ہیں۔ پس اگر وہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی بات مان لیتے تو ہدایت پا جاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم لوگوں تک پہنچے یہاں تک کہ کافی دن چڑھ گیا اور ہر چیز گرم ہوگئی اور وہ کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! ہم پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم ہلاک نہیں ہوئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ میرا چھوٹا پیالہ (سامان) کھول کر لے آؤ۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے وضوء کا وہ برتن منگوایا۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
پانی ڈالنے لگے اور ابو قتادہؓ انہیں پانی پلانے لگے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ پانی صرف اس لوٹے میں ہے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اچھی طرح پیٹ بھر کر پانی پیو تم سب سیراب ہو جاؤ گے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر رسول اللہ
ﷺ
پانی ڈالنے لگے اور میں انہیں پانی پلانے لگا یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ
ﷺ
کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا۔ وہ کہتے ہیں پھر رسول اللہ
ﷺ
نے پانی ڈالا اور فرمایا کہ پیو، میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! جب تک آپؐ نہ پئیں گے میں پانی نہیں پیوں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں کو پانی پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے (پانی) پیا پھر رسول اللہ
ﷺ
نے (پانی) پیا۔ وہ کہتے ہیں پھر لوگ سیر ہونے کی حالت میں آرام سے پانی تک پہنچے۔ وہ کہتے ہیں عبداللہؓ بن رباح نے کہا کہ میں یہ حدیث جامع مسجد میں بیان کر رہا تھا جب حضرت عمران بن حصینؓ نے کہا اے جوان! تم کیا کہتے ہو، میں بھی اس رات ان سواروں میں سے ایک تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ آپ اس حدیث کے بارہ میں زیادہ جانتے ہوں گے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو؟ میں نے کہا انصارؓ میں سے۔ انہوں نے کہا کہ پھر بیان کرو تم لوگ اپنی روایتوں کو زیادہ جانتے ہو۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے لوگوں کو روایت بتائی۔ حضرت عمرانؓ کہنے لگے کہ میں بھی اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں تھا کہ جس طرح تم نے اس (حدیث) کو یاد رکھا ہے اس طرح کسی نے اسے یاد رکھا ہو۔
بْنُ الْخَطَّابِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ أَجْوَفَ جَلِيدًا فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِشِدَّةِ صَوْتِهِ بِالتَّكْبِيرِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
لاَ ضَيْرَ ارْتَحِلُوا
. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
ﷺ
کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ ہم ساری رات چلے یہانتک کہ جب رات کا آخری حصہ صبح سے ذرا پہلے کا وقت تھا۔ ہم سو گئے اور ایسے سوئے کہ مسافر کے لئے اس سے زیادہ میٹھی نیند کوئی نہیں۔ پھر ہمیں سورج کی تپش نے جگایا۔ آگے راوی نے سلم بن زریر کی روایت کی طرح روایت بیان کی۔ کچھ کمی بیشی کی۔ انہوں نے روایت میں بیان کیا کہ جب حضرت عمر بن خطابؓ بیدار ہوئے اور انہوں نے دیکھا جو لوگوں پر گزری تھی چونکہ آپؓ بلند آواز والے اور بڑے طاقتور تھے آپؓ نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی یہانتک کہ رسول اللہ
ﷺ
آپؓ کی تکبیر میں آواز کی شدت کے باعث بیدار ہو گئے جب رسول اللہ
ﷺ
بیدار ہوئے تو انہوں نے آپؐ کے حضور اس تکلیف کی شکایت کی جو انہیں پہنچی تھی تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا کوئی ہرج نہیں، یہاں سے چلو۔ اور پوری روایت بیان کی۔