بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کی امامت وہ کرے جو اُن میں سے سب سے زیادہ اللہ کی کتاب پڑھا ہوا ہو۔ اگر وہ علمِ قران میں برابر ہوں تو ان میں سے سنت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا اگر وہ اس سنت (کے علم میں) برابر ہوں تو جس نے ان میں سے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو اسلام لانے میں سب سے مقدّم۔ کوئی آدمی کسی آدمی کی عملداری میں اس کی امامت نہ کرے۔ اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر بغیر اس کے کہے کے نہ بیٹھے۔ اشج نے اپنی روایت میں سِلْمًا (یعنی اسلام لانے کے لحاظ سے) کی بجائے سِنًّا یعنی عمر میں بڑا کہا ہے۔
حضرت ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا کہ لوگوں کی امامت وہ کرے جو اُن میں سب سے زیادہ کتاب اللہ پڑھا ہوا ہو اور قراءت میں ان سب سے آگے ہو۔ اگر وہ علمِ قرآن میں برابر ہوں تو پھر ان میں وہ امامت کرے جو ہجرت کے لحاظ سے ان سب سے پہلے ہو۔ اگر وہ ہجرت کے لحاظ سے بھی برابر ہوں تو پھر جو اُن میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے اور کسی آدمی کی اس کے اہل میں اور اس کی عمل داری میں امامت نہ کرے اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کے کہے بغیر یا اس کی اجازت کے بغیر اس کی قابل احترام نشست پر بیٹھے سوائے اس کے کہ وہ تجھے اجازت دے یا فرمایا سوائے اس کی اجازت کے۔
حضرت مالک بن حویرثؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم قریبًا ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم آپؐ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور رسول اللہﷺ بڑے رحیم و نرم دل تھے۔ آپؐ کو خیال ہوا کہ ہم اپنے گھر والوں سے ملنے کے لئے مشتاق ہیں۔ اور آپؐ نے ہم سے ہمارے اہل جنہیں ہم چھوڑ آئے تھے کے بارہ میں پوچھا ہم نے آپؐ کو بتایا آپؐ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ اور ان میں رہو اور انہیں تعلیم دو اور انہیں احکام بتاؤ۔ جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک تمہارے لئے اذان دے پھر تم میں سے جو بڑا ہو اسے چاہیے کہ امامت کروائے۔ ایک دوسری روایت میں (اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ کے الفاظ کے بجائے) اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ فِیْ نَاسٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت مالک بن حویرثؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہے کہ میں اور میرا ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب ہم نے واپسی کا ارادہ کیا تو آپؐ نے ہم سے فرمایا جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان دو پھر اقامت کہو اور تم میں سے سب سے بڑا تمہیں امامت کروائے۔ ایک دوسری روایت خالد حذا ء سے اسی سند سے مروی ہے جس میں یہ زائد ہے کہ وہ دونوں قراءت میں قریب قریب تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب فجر کی نماز میں قراءت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنا سر اٹھاتے ہوئے کہتے سن لی اللہ نے اس کی جس نے اس کی حمد کی۔ اے ہمارے رب! تمام حمد تیرے ہی لئے ہے پھر کھڑے کھڑے کہتے اے اللہ! ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مُضَر (قبیلہ) کو پا مال فرما اور یوسفؑ جیسے سال ان کے لئے ڈال۔ اے اللہ! لحیان، رِعل، ذکوان اور عُصیّہ پر لعنت کر انہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی۔ (راوی کہتے ہیں) پھر ہمیں معلوم ہوا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ (آلِ عمران: 129) (ترجمہ) تیرے پاس کچھ اختیار نہیں، خواہ وہ ان پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے یا انہیں عذاب دے۔ وہ بہرحال ظالم لوگ ہیں۔ تو آپؐ نے یہ (دعا) ترک فرما دی۔ ایک دوسری روایت جو سعید بن مسیب سے حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اس میں ’’ان پر یوسفؑ کے جیسے سال ڈال دے‘‘ تک روایت ہے بعد کا ذکر نہیں۔
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے ان کو بتایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت کیا۔ جب آپؐ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اپنے قنوت میں یہ کہتے اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ عیاش بن ابو ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! کمزور مؤمنوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مُضَر (قبیلہ) کو پامال کر۔ اے اللہ! ان پر یوسفؑ کے سالوں جیسے سال ڈال۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعد میں یہ دعا چھوڑ دی۔ میں نے کہا میرا خیال ہے رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے دعا چھوڑ دی۔ وہ کہتے ہیں کہا گیا کیا تم ان لوگوں کو دیکھتے نہیں وہ آگئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اس دوران میں کہ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپؐ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو سجدہ کرنے سے پہلے یہ کہا۔ اے اللہ! عیاش بن ربیعہ کو نجات دے۔ پھر راوی نے اوزاعی کی طرح روایت کَسِنی یوُسُف تک بیان کی ہے اور اس کے بعد کا ذکر نہیں کیا۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے سنا بخدا میں رسول اللہﷺ کی نماز (کا انداز) تم لوگوں کے قریب کردوں گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ ظہر اور عشاء کی نماز اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے تھے مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کفار پر لعنت کرتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا۔ تیس (دن) صبح دعا کی۔ آپؐ رعل و ذکوان و لحیان اور عُصیّہ جنہوں نے اللہ، اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی، کے خلاف دعا کرتے رہے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اللہ عزّوجلّ نے ان لوگوں کے بارہ میں جو بئر معونہ میں شہید کئے گئے تھے۔ کچھ قرآن اتارا جسے ہم نے پڑھا یہانتک کہ بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا کہ ہماری قوم تک پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کرلی وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہیں۔ لفظ قرآن سے مراد وہ وحی بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعہ آپ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تھی۔
محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت کی؟ انہوں نے کہا ہاں رکوع کے بعد کچھ (دیر)
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت کی۔ آپؐ رعل اور ذکوان کے خلاف دعا کرتے رہے اور آپؐ فرماتے تھے کہ عُصیّہ نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی۔