بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز میں ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت کرتے رہے۔ آپؐ بنو عصیّہ کے خلاف دعا کرتے تھے۔
عاصمؒ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ سے قنوت کے بارہ میں پوچھا کہ کیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رکوع سے پہلے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع کے بعد قنوت فرماتے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت فرمائی جس میں آپؐ نے ان لوگوں کے خلاف دعا کی جنہوں نے آپؐ کے صحابہؓ میں سے بعض لوگوں کو جنہیں قرّاء (قرآن مجید پڑھنے اور پڑھانے والے) کہا جاتا تھا قتل کیا تھا۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو کسی سریّہ کے بارہ میں اتنا تکلیف میں نہیں دیکھا جتنا ان ستّر افراد کے بارہ میں جو بئر معونہ کے دن شہید کئے گئے۔ وہ قرّاء کہلاتے تھے۔ چنانچہ آپؐ ایک ماہ تک ان کے قاتلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے رعل، ذکوان اور عصیّہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی لعنت بھیجتے ہوئے ایک مہینہ تک قنوت فرمائی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک ماہ تک عرب میں سے بعض قبائل کے خلاف دعا کرتے رہے۔ پھر آپؐ نے اسے ترک فرما دیا۔
حضرت براء بن عازبؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ صبح اور مغرب (کی نماز میں) قنوت فرماتے تھے۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر اور مغرب میں قنوت فرمائی۔
خفاف بن ایماء الغفاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نماز میں دعا کی اے اللہ ! بنی لحیان، رعل، ذکوان اور عصیّہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی لعنت بھیج۔ غفار _ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم _ اللہ ان کو سلامت رکھے۔
حضرت خفاف بن ایماءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور کہا کہ غفار _ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم _ اللہ ان پر سلامتی نازل فرمائے اور عصیّہ نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی۔ اے اللہ ! لعنت بھیج بنی لحیان پر اور لعنت بھیج رعل اور ذکوان پر۔ پھر آپؐ سجدہ میں چلے گئے۔ خفاف کہتے ہیں اسی وجہ سے کفار پر لعنت بھیجنے کا طریق جاری ہوا۔ حنظلہ بن علی بن الاسقع نے حضرت خفاف بن ایماءؓ سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے سوائے اس کے انہوں نے فَجُعِلَت لَعنَۃُ الکَفَرَۃِ مِنْ اَجْلِ ذَلِکَ کے الفاظ نہیں کہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ غزوئہ خیبر سے لوٹے تو ساری رات چلتے رہے۔ پھر جب آپؐ کو نیند آئی تو آرام کے لئے پڑاؤ کیا اور بلالؓ سے فرمایا کہ آج رات ہماری (نماز کے وقت کی) حفاظت کرو۔ پھر حضرت بلالؓ نے جتنی ان کے لئے مقدر تھی نماز پڑھی اور رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ سو گئے۔ جب فجر کا وقت قریب آیا تو بلالؓ نے صبح پھوٹنے کی سمت رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کا سہارا لیا تو بلالؓ پر نیند غالب آگئی جبکہ وہ اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پس نہ تو رسول اللہﷺ جاگے، نہ بلالؓ اور نہ آپؐ کے صحابہؓ میں سے کوئی یہانتک کہ دھوپ ان پر پڑی۔ رسول اللہﷺ ان میں سب سے پہلے جاگے۔ رسول اللہﷺ فکر مند ہوئے اور فرمایا اے بلال! بلالؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ میری روح کو بھی اسی ذات نے روکے رکھا جس نے آپؐ کو روکے رکھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ روانہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سواریوں کو تھوڑا سا چلایا پھر رسول اللہﷺ نے وضو فرمایا اور بلالؓ کو حکم فرمایا انہوں نے نماز کی اقامت کہی۔ پھر آپؐ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی پھر جب آپؐ نماز پڑھ چکے تو آپؐ نے فرمایا کہ جو نماز بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے اسے پڑھ لے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اسے الذِّکرٰی پڑھتے تھے۔