بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مدینہ میں خطاب فرماتے ہوئے سنا۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! اللہ شراب (کی ممانعت) کے بارہ میں اشارے فرما رہا ہے۔ شاید اللہ اس بارہ میں کوئی حکم نازل فرمائے۔ پس جس کے پاس کوئی شراب وغیرہ ہو وہ فروخت کر دے اور اس سے فائدہ اُٹھا لے۔ وہ (حضرت ابو سعیدؓ) کہتے ہیں کہ زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے شراب کو حرام فرما دیا ہے۔ پس جسے یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس اس میں سے کچھ ہو تو وہ نہ پئے اور نہ اسے فروخت کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ اپنے پاس موجود شراب مدینہ کے راستوں میں لے آئے اور انہوں نے اسے بہا دیا۔
عبدالرحمان بن وعلہ السَّبَاِی جو اہل مصر میں سے تھے انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے اس (رس) کے بارہ میں سوال کیا جو انگور سے نچوڑا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کو شراب کا بھرا مشکیزہ دیا تھا تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے اسے حرام فرمایا ہے؟ اس نے کہا نہیں، پھر اس نے ایک شخص سے سرگوشی کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے فروخت کرنے کے لئے کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کی تجارت بھی حرام کی ہے۔ راوی کہتے ہیں اس نے مشکیزہ کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کے آخری حصہ کی آیات اتریں رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپؐ نے شراب کی تجارت کی ممانعت فرما دی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات سود کے بارہ میں اتریں تو وہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ باہر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپؐ نے شراب کی تجارت حرام فرما دی۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فتح مکہ کے سال جبکہ آپؐ مکہ میں تھے فرماتے سنا کہ یقینا اللہ اور اس کے رسولؐ نے شراب اور مردار اور خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام کر دی ہے۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! مردار کی چربی کے بارے میں آپؐ کا کیا ارشاد ہے؟ کیونکہ اسے کشتیوں پر ملا جاتا ہے اور چمڑے پر لگایا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں یہ حرام ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس موقع پر فرمایا اللہ لعنت کرے یہودیوں پر اللہ نے ان پر چربیاں حرام کیں اور انہوں نے ان کو پگھلا کر فروخت کیا اور ان کی قیمت کھائی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کو اطلاع ملی کہ سمرہؓ نے شراب فروخت کی تو انہوں نے کہا اللہ برا کرے سمرہؓ کا کیا انہیں علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ لعنت کرے یہود پر ان پر چربیاں حرام کی گئیں انہوں نے ان کو پگھلایا اور فروخت کیا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ بُرا کرے یہود کا اللہ نے اُن پر چربیاں حرام کیں اور انہوں نے ان کو فروخت کیا اور اُن کی قیمت کھائی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ ہلاک کرے یہود کو، ان پر چربی حرام کی گئی اور انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اُس کی قیمت کھائی۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سونے کے بدلے سونا فروخت نہ کرو مگر برابر برابر اور اس میں سے ایک کو دوسرے پر کم یا زیادہ نہ کرو اور چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت نہ کرو مگر برابر برابر اور اس میں سے کسی کو دوسرے پر کم یا زیادہ نہ کرو۔ اور ان میں سے غیر موجود چیز کو حاضر کے ساتھ فروخت نہ کرو۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ کو بنی لیث کے ایک شخص نے کہا کہ حضرت ابو سعید خدریؓ رسول اللہﷺ سے یہ (بات) بیان کرتے ہیں۔ قتیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہؓ تشریف لے گئے اور نافع ان کے ساتھ تھے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہؓ تشریف لے گئے اور میں اور لیث قبیلہ کا ایک شخص آپؓ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ آپؐ حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس اندر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چاندی کو چاندی کے بدلہ فروخت کرنے سے منع فرمایا ہاں سوائے اس کے کہ وہ برابر ہو اور سونے کو سونے کے بدلہ فروخت کرنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ وہ برابر ہو۔ تو حضرت ابو سعید خدریؓ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنی دونوں آنکھوں اور اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا رسول اللہﷺ فرما رہے تھے کہ سونے کو سونے کے بدلہ اور چاندی کو چاندی کے بدلہ فروخت نہ کرو سوائے اس کے کہ وہ برابر ہوں اور ایک کو دوسرے پر بڑھاؤ نہیں اور ان میں سے غیر موجود کو موجود کے بدلہ فروخت نہ کرو مگر یہ کہ وہ دست بدست ہو۔