بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اہل خیبر سے پھل یا فصل کی نصف پیدا وار پر معاملہ کیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر (کی زمینیں) پھل یا فصل کی نصف پیدا وار پر (یعنی بٹائی پر) دیں۔ آپؐ اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال سو وسق_ 80 وسق کھجور اور 20 وسق جَو _ دیا کرتے تھے۔ جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ نے خیبر (کی زمینیں) تقسیم فرما دیں اور نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ آپؓ ان کو زمین اور پانی کا مقررہ حصّہ الگ کر دیں یا ہر سال ان کے لئے (ایک خاص مقدار) وسق کی ضمانت دیں۔ اس پر ازواج مطہراتؓ کا طرز عمل مختلف تھا۔ بعض نے زمین اور پانی لینا اختیار کیا اور بعض نے ہر سال مقررہ وسق۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی اختیار کیا۔ ایک اور روایت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے اہل خیبر سے فصل یا پھل کی نصف پیدا وار پر معاملہ کیا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے زمین اور پانی اختیار کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبیﷺ کی ازواج کو (حضرت عمرؓ نے) اختیار دیا کہ وہ ان کے لئے زمین الگ کر دیں لیکن اس روایت میں پانی کا ذکر نہیں کیا۔ ایک اور روایت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہﷺ سے درخواست کی کہ انہیں ابھی رہنے دیں، پھل اور فصل کی نصف پیدا وار کی شرط پر کام کرنے دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تک ہم چاہیں گے ان شرائط پر ہم تمہیں یہاں رہنے دیں گے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ خیبر کی نصف پیداوار کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور رسول اللہﷺ خمس لیتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہود خیبر کو خیبر کی کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی تھی کہ وہ ان پر کام کے لئے خرچ کریں اور اس کے پھل کا نصف رسول اللہﷺ کا ہوگا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے یہود اور نصاریٰ کو حجاز کی سر زمین سے جلا وطن کردیا تھا اور یہ کہ رسول اللہﷺ نے جب خیبر پر فتح پائی تو یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا اور زمین پر جب غلبہ ہوگیا تو وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور مسلمانوں کی تھی تو رسول اللہﷺ نے یہود کو نکالنے کا ارادہ فرمایا تھا یہود نے رسول اللہﷺ سے درخواست کی کہ آپؐ انہیں وہیں رہنے دیں، اس شرط پر کہ وہ (مسلمانوں کو) ان پر کام سے مکتفی کردیں۔ نصف پیدا وار ان کی ہوگی۔ رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا کہ ہم تمہیں ان (زمینوں) پر جب تک ہم چاہیں ان شرائط پر رہنے دیتے ہیں۔ پس وہ وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کردیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی مسلمان کوئی درخت نہیں لگاتا مگر جو بھی اس میں سے کھایا جائے وہ اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو اس میں سے چوری ہو جائے وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ اور جو درندے اس سے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔
حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ ایک انصاری عورت حضرت ام مبشرؓ کے پاس ان کے کھجور کے باغ میں تشریف لائے۔ نبیﷺ نے ان سے دریافت فرمایا جس نے یہ کھجور کا باغ لگایا ہے وہ مسلمان ہے یا کافر؟ انہوں (حضرت ام مبشرؓ) نے کہا نہیں بلکہ مسلمان ہے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی مسلمان درخت نہیں لگاتا اور کوئی کھیتی کاشت نہیں کرتا جس سے کوئی انسان یا جانور یا کوئی بھی کھائے مگر وہ اس کے لئے صدقہ ہوجاتا ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کوئی مسلمان شخص کوئی پودا یا کھیتی نہیں لگاتا کہ اس سے جانور یا پرندہ یا کوئی اور کچھ کھائے مگر اس میں اس کے لئے اجر ہوتا ہے۔ ایک اور روایت میں (طَائِرٌ اَوْ شَیئٌ کی بجائے) طَائِرٌ شَیئٌ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ حضرت ام معبدؓ کے پاس باغ میں تشریف لائے اور دریافت فرمایا اے ام معبدؓ ! یہ کھجور کا باغ کس نے لگایا ہے؟ مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے کہا کہ مسلمان نے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی مسلمان درخت نہیں لگاتا جس سے کوئی انسان یا کوئی جانور یا کوئی پرندہ کھائے مگر وہ قیامت کے دن تک اس کے لئے صدقہ ہو جاتا ہے۔ بعض راویوں نے حضرت ام معبدؓ کی بجائے حضرت ام مبشرؓ اور بعض نے حضرت زید بن حارثہؓ کی اہلیہ کا نام لیا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا کوئی فصل بوتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ یا انسان یا کوئی جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لئے اس طرح صدقہ ہو جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبیﷺ حضرت ام مبشرؓ جو ایک انصاری خاتون تھیں کے کھجور کے باغ میں تشریف لائے اور رسول اللہﷺ نے دریافت فرمایا جس نے یہ کھجور کا باغ لگایا ہے وہ مسلمان ہے یا کافر؟ انہوں نے عرض کیا مسلمان، باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے مسلمان بھائی کے پاس پھل کا باغ فروخت کرو اور اس باغ کو کوئی آفت پہنچے تو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم اس سے کچھ لو تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو؟