بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 131 hadith
حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے سوائے کھیتی اور بھیڑ بکریوں اور شکاری کتے کے، کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے کتا رکھا جو شکاری کتا نہیں نہ ہی جانوروں اور نہ ہی زمین (کی حفاظت) کے لئے ہے تو اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہونگے۔ ایک اور روایت میں ’’وَلَا اَرْضٍ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے کتا رکھا سوائے مویشی یا شکار یا کھیتی (کی حفاظت کے لئے) اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا۔ زہری کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ کے سامنے حضرت ابو ہریرہؓ کا قول ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ ابو ہریرہؓ پر رحم کرے وہ خود کھیتی کے مالک تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کتا رکھا اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا۔ سوائے کھیتی یا مویشی کے کتے کے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے کتا رکھا جو شکار یا بھیڑ بکری (کی حفاظت وغیرہ) کے لئے نہ ہو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا۔
حضرت سفیانؓ بن ابی زُہَیر جو شنوء ۃ قبیلہ کے ایک شخص اور رسول اللہﷺ کے اصحابؓ میں سے تھے کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کتا رکھا جو نہ اس کی کھیتی کے کام آتا ہو اور نہ مویشی (کی حفاظت) کے، اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا۔ راوی نے انہیں کہا کہ کیا آپ نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اس مسجد کے رب کی قسم۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سائب بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت سفیانؓ بن ابی زُہَیر اَلشَّنَئِیُّ ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا... باقی روایت سابقہ کے مطابق ہے۔
حُمید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالکؓ سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارہ میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے پچھنے لگوائے۔ ابو طیبہ نے آپؐ کو پچھنے لگائے تو آپؐ نے اسے غلہ کے دو صاع دینے کا ارشاد فرمایا، اور اس کے مالکوں سے بات کی، چنانچہ انہوں نے اس سے وصول کی جانے والی رقم میں کمی کردی۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا بہترین طریقِ علاج پچھنے لگانا ہے یا (آپؐ نے فرمایا) کہ یہ تمہاری بہترین دوا ہے۔ ایک اور روایت میں انسؓ بن مالک کے بجائے انسؓ کا لفظ ہے علاوہ اس کے یہ ہے کہ فرمایا تمہارا بہترین طریقِ علاج پچھنے لگوانا ہے اور عود ہندی ہے۔ اور بچوں کو (گلے پڑ جانے کی صورت میں حلق میں) دبا کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ہمارے پچھنے لگانے والے ایک نوجوان کو بلوایا اس نے آپؐ کو پچھنے لگائے۔ آپؐ نے اس کے لئے ایک صاع یا ایک مُد یا دو مُد دینے کا ارشاد فرمایا اور اس کے بارہ میں سفارش بھی کی چنانچہ اس کے لگان میں سے کم کر دیا گیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگوانے والے کو اس کی اجرت عطاء فرمائی اور آپؐ نے ناک میں دوا ڈالی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو بنی بیاضہ کے ایک غلام نے پچھنے لگائے اور نبی ﷺ نے اسے اس کی اجرت عطا فرمائی اور اس کے مالک سے بات کی چنانچہ اس نے اس کا لگان کم کر دیا۔ اگر یہ (اجرت) حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے عطا نہ فرماتے۔