وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلَ عَمَلاً أَثْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً . قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلاَّ رَمَضَانَ .
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کوئی کام شروع کرتے تو اس پر دوام اختیار کرتے اور جب آپؐ (کبھی) رات سوئے رہ جاتے یا بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعت پڑھتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پوری رات صبح تک عبادت کرتے نہیں دیکھا، نہ ہی آپؐ نے رمضان کے علاوہ (کبھی) پورا مہینہ مسلسل روزے رکھے۔
حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس کی نفل عبادت یا اس کا کچھ حصہ سوئے رہنے کی وجہ سے ادا نہ ہو سکا اور پھر اس نے اسے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان ادا کر لیا اس کے لئے لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو ادا کیا۔
رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلاَةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ . إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
صَلاَةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ
.
قاسم شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ارقمؓ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا کیا ان کو پتہ نہیں کہ نماز (چاشت) اس وقت کی بجائے ایک اور وقت افضل ہے۔ یقینا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ صلاۃ الاوّابین کا وہ وقت ہے جب اونٹوں کے بچّوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ قُبَاءٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ
صَلاَةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ
.
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اہلِ قُباء کی طرف تشریف لے گئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا صلاۃ الاوابین (اس وقت ہے) جب اونٹ کے بچّوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارہ میں پوچھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو (رکعت) ہے۔ پھر جب تم میں سے کسی کو صبح (ہو جانے) کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھے تو وہ اس نماز کو وتر کر دے گی جو اس نے پڑھی ہے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے رات کی نماز کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا دو دو (رکعت) اور جب تمہیں صبح (ہونے) کا ڈر ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو۔
حضرت عبداللہ بن عمر بن خطابؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! رات کی نماز کیسے پڑھنی چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ اور جب تمہیں صبح (ہونے) کا خیال ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا۔ میں آپؐ کے اور سائل کے درمیان تھا۔ اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! رات کی نماز کیسے پڑھنی چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا دو دو (رکعت) اور جب تمہیں صبح (ہونے) کا خیال ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور اپنی نماز کے آخر میں وتر ادا کرو۔ پھر کسی شخص نے آپؐ سے شروع سال میں سوال کیا (حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں) اور میں رسول اللہ ﷺ کے قریب اسی جگہ تھا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ وہی آدمی تھا یا کوئی اور۔ آپؐ نے اس سے بھی اس جیسی بات فرمائی تھی ایک دوسری روایت میں ثُمَّ سَأَلَہُ رَجُلٌ عَلٰی رَأْسِ الْحَوْلِ اور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔