بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہ ﷺ کے عمل کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضورؐ دائمی (عمل) پسند فرماتے۔ وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا کس وقت آپؐ نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب حضورؐ مُرغ کی آواز سنتے تو کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سحری کے شروع وقت میرے گھر یا فرمایا میرے پاس سوئے ہوئے ہوتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ جب فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتے۔ اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے گفتگو فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے پھر جب وتر پڑھنے لگتے تو فرماتے اے عائشہ! اُٹھو اور وتر پڑھو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ رات کو اپنی نماز پڑھ رہے ہوتے اور وہ حضورؐ کے سامنے لیٹی ہوتیں۔ پھر جب وتر باقی رہ جاتے تو آپؐ اُنہیں جگاتے۔ وہ وتر پڑھتیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے رات کے ہر ایک حصہ میں وتر پڑھے ہیں۔ پھر آپؐ کے وتر پڑھنے کا معمول سحر کے وقت تک پہنچ گیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے رات کے ہر ایک حصہ میں وتر پڑھے ہیں۔ رات کے اوّل حصہ میں، اس کے درمیانی اور آخری حصہ میں۔ پھر آپؐ کے وتر پڑھنے کا معمول سحر کے وقت تک پہنچ گیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر ایک حصہ میں وتر پڑھے ہیں۔ پھر آپؐ کے وتر پڑھنے کا معمول رات کے آخری حصہ تک پہنچ گیا۔
زُرارہ سے روایت ہے کہ سعد بن ہشام بن عامر نے اللہ کی راہ میں غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا چنانچہ وہ مدینہ آئے انہوں نے چاہا کہ وہ اپنی وہاں کی جائیداد بیچ کر اس کے عوض اسلحہ اور گھوڑے خرید لیں اور رومیوں سے جہاد کریں یہاں تک کہ انہیں موت آجائے۔ جب وہ مدینہ آئے اور مدینہ کے کچھ لوگوں سے ملاقات کی تو انہوں نے انہیں اس سے روکا اور انہیں بتایا کہ چھ اشخاص نے اللہ کے نبیﷺ کی زندگی میں ایسا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ کے نبیﷺ نے انہیں روک دیا، اور فرمایا کیا میری ذات میں تمہارے لئے اسوئہ نہیں ہے؟ چنانچہ جب لوگوں نے ان کو یہ بتایا تو انہوں (سعد بن ہشام بن عروہ) نے اپنی بیوی سے جسے وہ طلاق دے چکے تھے رجوع کر لیا اور اس سے رجوع کے گواہ بھی ٹھہرا لئے۔ پھر وہ حضرت ابن عباسؓ کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہﷺ کے وتر (پڑھنے) کے بارہ میں پوچھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کے وتر کے بارہ میں سب سے زیادہ جاننے والے کا نہ بتاؤں؟ انہوں نے پوچھا وہ کون؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہؓ۔ تم ان کے پاس جاؤ اور اُن سے پوچھو، پھر میرے پاس آکر مجھے ان کا جواب بتانا جو وہ تمہیں بتائیں چنانچہ میں ان (حضرت عائشہؓ) کی طرف چل پڑا۔ (پہلے) میں حکیم بن افلح کے پاس گیا اور انہیں اُن کے پاس لے جانا چاہا۔ وہ کہنے لگے کہ میں تو ان کے پاس نہیں جانے کا کیونکہ میں نے انہیں ان دو گروہوں کے بارے میں کچھ کہنے سے روکا تھا لیکن وہ نہ مانیں اور اپنی رائے پر قائم رہیں۔ وہ (سعد بن ہشام) کہتے ہیں پھر میں نے انہیں (حکیم بن افلح کو) قسم دی۔ وہ جانے پر آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ ہم حضرت عائشہؓ کی طرف گئے اور ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے ہمیں اجازت دی۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے تو انہوں نے فرمایا کیا حکیم ہو؟ گویا آپؓ نے انہیں پہچان لیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپؓ نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا سعد بن ہشام۔ انہوں نے پوچھا کون ہشام؟ انہوں نے کہا عامر کے بیٹے۔ چنانچہ آپؓ نے کہا کہ اللہ ان پر رحم کرے اور ان کا ذکرِ خیر کیا۔ قتادہؓ کہتے ہیں وہ (ہشام بن عامر) احد کے دن شہید ہوئے تھے۔ پھر میں نے عرض کیا اے امؓ المؤمنین! مجھے رسول اللہﷺ کے اخلاق کے بارہ میں بتائیے! حضرت عائشہؓ فرمانے لگیں کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے نبیﷺ کے اخلاق قرآن تھے۔ وہ کہتے ہیں تب میں نے اٹھ کر جانے کا ارادہ کیا اور یہ کہ اپنی موت تک کسی سے کچھ نہیں پوچھوں گا۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ کے (رات کے) قیام کے بارہ میں بتائیے! آپؓ نے فرمایا کہ کیا تم یٰاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا کیوں نہیں؟ کہنے لگیں کہ یقینا اللہ عزوّجل نے اس سورت کے شروع میں رات کے قیام کا حکم دیا۔ چنانچہ اللہ کے نبیﷺ اور آپؐ کے صحابہ سال بھر عبادت کرتے رہے اور اللہ نے اس سورۃ کے آخری حصے کو بارہ مہینے آسمان میں روکے رکھا۔ پھر اللہ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف فرما دی اور رات کی عبادت جو فرض (سمجھی گئی تھی) نفل قرار پائی۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین! مجھے رسول اللہﷺ کے وتر کے بارہ میں بتائیے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم آپؐ کے لئے مسواک اور وضوء کا پانی تیار رکھا کرتے تھے۔ اور رات کے جس حصہ میں اللہ آپؐ کو بیدار کرنا چاہتا بیدار کر دیتا۔ آپؐ مسواک کرتے، وضوء کرتے اور نو رکعت پڑھتے اور ان میں سے صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد کرتے، اس سے دعا کرتے پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے۔ پھر بیٹھتے، اللہ کا ذکر، اس کی حمد کرتے، اس سے دعا کرتے، اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سناتے۔ پھر سلام کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ اور اے میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب اللہ کے نبیﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی آپؐ کا وزن کچھ بڑھ گیا تو آپؐ سات رکعت سے وتر کرتے اور پہلے کی طرح دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ نو رکعتیں ہو گئیں۔ اے میرے بیٹے! اور اللہ کے نبیﷺ جب کوئی (نفل) نماز پڑھتے تو پسند فرماتے کہ اس پر دوام اختیار کریں لیکن اگر نیند کے غلبہ یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کی عبادت نہ کر پاتے تو آپؐ دن میں بارہ رکعت پڑھ لیتے اور میرے علم میں نہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ ہی ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ ہی رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔ وہ کہتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس گیا اور انہیں آپؓ کی روایت سنائی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہؓ نے سچ کہا۔ اگر میں ان کے قریب ہوتا یا ان کے پاس جا سکتا تو ضرور جاتا یہاں تک کہ آپؓ مجھ سے اس بارہ میں بالمشافہہ بات کرتیں (سعد بن ہشام) کہتے ہیں میں نے کہا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپؓ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں ان کی بات آپ کے پاس بیان نہ کرتا۔ قتادہ زُرارہ بن اوفٰی سے سعد بن ہشام کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر وہ مدینہ گئے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کریں۔ دوسری روایت میں ہے کہ سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارہ میں پوچھا اور آگے راوی نے روایت بیان کی ہے اور اس میں کہا کہ انہوں (حضرت عائشہؓ) نے پوچھا کون ہشام؟ میں نے کہا ابن عامر۔ انہوں نے فرمایا (ابن) عامر کیا ہی اچھا آدمی تھا جو جنگِ اُحد میں شہید ہوا۔ زُرارہ بن اوفٰی سے روایت ہے کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر روایت بیان کی اس میں ذکر کیا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ کون ہشام؟ انہوں نے کہا ابن عامر۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا ہی اچھا آدمی تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ جنگِ اُحد میں تھے اور شہید ہوئے۔ اسی روایت میں ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں آپ کو ان کی روایت نہ بتاتا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن میں آپؐ بارہ رکعت پڑھتے۔