بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے جسے وہ نبیﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو اس کے سر کے پیچھے شیطان تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ لگاتے وقت کہتا ہے ابھی تم پر لمبی رات پڑی ہے۔ جب وہ بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اور جب وہ وضوء کرتا ہے تو اس سے دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ خوش مزاج اور ہشاش بشاش اُٹھتا ہے ورنہ وہ بد مزاج اور سست ہوتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنی کچھ نماز اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔
حضرت ابن عمرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں میں (بھی) نماز پڑھا کر اور انہیں قبریں مت بناؤ۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں اپنی نماز ادا کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے کیونکہ یقینا اللہ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر رکھنے والا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے اور اس گھر کی جس میں اللہ کا ذکر نہ کیا جائے زندہ اور مردہ کی مثال ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ یقینا شیطان اس گھر سے جس میں سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے بھاگتا ہے۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کھجور کی چٹائی سے ایک چھوٹی سی اوٹ بنا لی پھر اس میں نماز پڑھنے کے لئے رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے۔ راویؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگ آپؐ کی اقتداء میں کھڑے ہوگئے۔ اور آپؐ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ (اگلی) رات وہ (پھر) آگئے اور (نماز میں) شامل ہوگئے۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے پاس آنے میں تاخیر کی۔ وہ کہتے ہیں کہ حضورؐ ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی آوازیں بلند کیں اور دروازہ کنکر سے کھٹکھٹایا۔ چنانچہ رسول اللہﷺ ناراضگی میں ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہارا یہ عمل کئی رات جاری رہا اور میں نے خیال کیا کہ یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔ پس تمہیں چاہیے کہ تم اپنے گھروں میں (بھی) نماز پڑھو۔ کیونکہ سوائے فرض نماز کے آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ حضرت زید بن ثابتؓ سے ایک اور روایت ہے کہ نبیﷺ نے مسجد میں کھجور کی چٹائی سے ایک اوٹ بنائی اس میں رسول اللہﷺ نے کئی راتیں نماز پڑھی۔ یہانتک کہ آپؐ کے پاس لوگ اکٹھے ہوگئے۔ پھر راوی نے اس جیسی روایت بیان کی۔ اس میں مزید کہا کہ اگر وہ (نماز) تم پر فرض کردی جاتی تو تم اسے نبھا نہ سکتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کی ایک چٹائی تھی۔ آپؐ رات کو اس سے اوٹ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے اور دن کو اسے بچھا لیتے۔ لوگ بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ ایک رات لوگ جوق در جوق آئے آپؐ نے فرمایا اے لوگو! تمہیں چاہیے کہ تم وہ اعمال کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ نہیں تھکتا مگر تم تھک جاؤ گے۔ یقینا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے۔ خواہ وہ تھوڑا ہی ہو (راوی بیان کرتے ہیں) کہ آلِ محمدﷺ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا کہ وہ عمل جس پر سب سے زیادہ دوام ہو خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔
علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے سوال کیا۔ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین! رسول اللہﷺ کا طریقِ کار کیا تھا؟ کیا آپؐ (کسی کام کے لئے) کچھ دن مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں حضورؐ کے کام دائمی ہوتے تھے اور تم میں سے کون ایسی استطاعت رکھتا ہے جو استطاعت رسول اللہﷺ رکھتے تھے۔