بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
سالم بن عبد اللہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر جدھر بھی آپؐ کا رخ ہوتا نفل نماز اور وتر پڑھ لیتے البتہ آپؐ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے وقت سفر میں اپنی سواری کی پشت پر جدھر بھی اس کا رخ ہوتا نفل نماز پڑھتے دیکھا۔
انس بن سیرین کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب حضرت انس بن مالکؓ شام آئے تو ہم عین التمر مقام میں ان سے ملے۔ میں نے انہیں گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا جبکہ ان کا رخ اُس طرف تھا۔ ہمام نے قبلہ کے بائیں طرف اشارہ کیا تب میں نے ان سے کہا کہ کیا بات ہے کہ میں نے آپ کو قبلہ سے مختلف سمت نماز پڑھتے دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر میں رسول اللہﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو ایسا نہ کرتا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپؐ مغرب و عشاء جمع فرما لیتے۔
عبید اللہ سے روایت ہے کہ نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمرؓ جب سفر کے لئے جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء شفق غائب ہونے کے بعد جمع کر لیتے اور کہتے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپؐ مغرب و عشاء جمع فرما لیتے تھے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (انہوں نے کہا) کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپؐ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپؐ مغرب اور عشاء جمع فرما لیتے۔
سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپؐ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپؐ مغرب کی نماز میں تاخیر فرما لیتے یہاں تک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ جمع کر لیتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب زوال آفتاب سے پہلے سفر پر جاتے تو ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک مؤخر فرماتے اور پھر اترتے اور دونوں کو جمع کر لیتے۔ لیکن اگر آپؐ کے سفر پر جانے سے پہلے سورج کا زوال ہو جاتا تو ظہر کی نماز پڑھتے پھر سوار ہوتے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب سفر میں دو نمازیں جمع کرنے کا ارادہ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ عصر کا اوّل وقت ہو جاتا پھر دونوں کو جمع کر لیتے۔