بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت انسؓ نبی ﷺ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ جب بھی آپؐ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپؐ ظہر کی نماز کو عصر کے اوّل وقت تک مؤخر کر دیتے پھر دونوں کو جمع کر لیتے۔ اور مغرب کو مؤخر کر دیتے یہان تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے عشاء کے ساتھ جمع کر لیتے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور سفر کے ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھیں اور مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں بغیر کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھیں۔ ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپؐ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے اسی طرح میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تھا انہوں نے کہا کہ آپؐ نے ارادہ فرمایا کہ اپنی امت میں سے کسی کو تنگی میں نہ ڈالیں۔
حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے اس سفر میں جو آپؐ نے غزوئہ تبوک کے لئے فرمایا نمازیں جمع فرمائیں۔ آپؐ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء اکٹھی پڑھیں۔ سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کہ آپؐ کو اس پر کس بات نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ چاہتے تھے کہ اپنی امت میں سے کسی پر تنگی نہ ڈالیں۔
حضرت معاذؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے نکلے تو آپﷺ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھتے۔
عامر بن واثلہ ابو طفیل کہتے ہیں حضرت معاذؓ بن جبل نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے غزوئہ تبوک کے دوران ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کیں۔ وہ (عامر بن واثلہ) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ آپؐ کو اس پر کس بات نے آمادہ کیا؟ راوی کہتے ہیں کہ انہوں (حضرت معاذؓ) نے کہا کہ آپؐ نے چاہا کہ اپنی امت پر تنگی نہ ڈالیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر نیز مغرب اور عشاء بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کر کے پڑھیں۔ وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کہ آپؐ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا تاکہ آپؐ اپنی امت پر کوئی تنگی نہ ڈالیں۔ ابو معاویہ کی روایت میں (لِمَ فَعَلَ ذَالِکَ کے بجائے) مَا اَراد اِلیٰ ذَالِکَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں اکٹھی اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھیں۔ میں نے کہا اے ابو شعثاء! میرا خیال ہے کہ آپؐ نے ظہر کو تاخیر سے اور عصر کو جلدی پڑھا اسی طرح مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی۔ انہوں نے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں سات اور آٹھ (رکعت) ظہر عصر اور مغرب عشاء (جمع کر کے) پڑھیں۔
عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے کہ ایک روز عصر کے بعد حضرت ابن عباسؓ نے ہم سے خطاب کیا یہانتک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نکل آئے اور لوگ کہنے لگے نماز! نماز! راوی کہتے ہیں کہ ان (حضرت عبد اللہ بن عباسؓ) کے پاس بنی تمیم کا ایک شخص آیا جو وقفہ نہیں کرتا تھا اور باز نہیں آتا تھا نماز! نماز! کے الفاظ کہتا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کیا تم مجھے سنت سکھاؤ گے؟ اللہ تمہارا بھلا کرے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کرتے دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں اس بات سے میرے دل میں خلش پیدا ہوئی۔ چنانچہ میں حضرت ابو ہریرہؓ کے پاس گیا اور ان سے یہ پوچھا تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق کی۔