بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 61 hadith
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو (شکار پر) چھوڑتا ہوں وہ اسے میرے لئے روک لیتے ہیں اور میں اس پر اللہ کا نام لیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لو تو تم (اس میں سے کھاؤ) میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں؟ آپؐ نے فرمایا اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں، جب تک ان کے ساتھ وہ کتا شریک نہ ہو جو ان کے ساتھ کا نہیں۔ میں نے آپؐ سے عرض کیا میں شکار کی طرف معراض (boomerang) پھینکتا ہوں اور اس کے ذریعہ اسے شکار کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جب تو معراض پھینکے اور وہ اسے زخمی کردے تو تم اسے کھا سکتے ہو لیکن اگر وہ اسے چوڑائی کے رُخ لگے تو تم اسے نہ کھاؤ۔
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے (شکار پر) چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو تو پھر وہ جو تمہارے لئے روک رکھیں اسے کھاؤ۔ اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں سوائے اس کے کہ کتا (خود اس شکار میں سے) کھائے۔ اگر وہ کھائے تو تم نہ کھاؤ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ اس نے اپنے لئے نہ پکڑا ہو اور اگر کوئی دوسرے کتے بھی شریک ہوں تو بھی نہ کھاؤ۔
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے معراض (boomerang) کے بارہ میں سوال کیا آپؐ نے فرمایا جب وہ دھار کی طرف سے لگے تو کھالو اور اگر چوڑائی کی طرف سے لگے اور اسے مار دے تو نہ کھاؤ کیونکہ وہ تو چوٹ سے مرا ہوا جانور ہے، پس تم اس میں سے نہ کھاؤ۔ اور میں نے رسول اللہﷺ سے کتے کے بارہ میں پوچھا آپؐ نے فرمایا جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لو تو کھا سکتے ہو اور اگر وہ خود اس میں سے کھالے تو تم نہ کھاؤ کیونکہ وہ تو اس نے صرف اپنے لئے روکا ہے۔ میں نے عرض کیا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاؤں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ اس کو کس نے روکا ہے؟ آپؐ نے فرمایا تو پھر تم نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر (اللہ کا) نام لیا ہے دوسرے پر (اللہ کا) نام نہیں لیا۔
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (boomerang) سے شکار کرنے کے بارہ میں سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر وہ دھار کی طرف سے لگے تو اسے کھالو اور اگر چوڑائی کی طرف سے لگے تو نہ کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ لگ کر مرا ہوا ہے۔ میں نے آپؐ سے کتے کے شکار کے بارہ میں پوچھا آپؐ نے فرمایا جو وہ تمہارے لئے روکے اور اس میں سے خود نہ کھائے تو اس میں سے کھا سکتے ہو۔ کیونکہ اس کا پکڑنا اس کو ذبح کرنا ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ کوئی اور کتا پاؤ اور تمہیں ڈر ہو کہ اس نے بھی اس کے ساتھ پکڑا اور اسے مار دیا ہے تو اس میں سے تم نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا تھا اور دوسرے پر نہیں لیا تھا۔
شعبی کہتے ہیں میں نے حضرت عدیؓ بن حاتم سے سنا۔ وہ نہرین میں ہمارے پڑوسی، شریک اور گہرا رابطہ رکھنے والے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا انہوں نے کہا میں اپنا کتا (شکار پر) چھوڑتا ہوں اور میں اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاتا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ ان دو میں سے کس نے پکڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم نے تو اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے اور دوسرے پر نہیں لیا۔
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا۔ جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لو۔ اگر وہ تمہارے لئے (شکار کو) روک رکھے اور تم اسے زندہ پاؤ تو اسے ذبح کر لو اور اگر تم یہ دیکھو کہ اس (کتے) نے اسے مار دیا ہے اور اس میں سے اس نے نہیں کھایا تو تم اسے کھا سکتے ہو اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاؤ اور اس نے شکار مار دیا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان دونوں میں سے کس نے وہ مارا ہے اور اگر تم اپنا تیر چلاؤ اور اللہ کا نام لو۔ پھر اگر وہ (شکار) ایک دن کے بعد تمہیں ملے اور تم اس میں صرف اپنے تیر کا ہی نشان پاؤ تو کھا سکتے ہو، اگر چاہو اور اگر تم اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ۔
حضرت عدیؓ بن حاتم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو۔ پھر اگر تم دیکھو کہ اس (تیر) نے اسے مار دیا ہے تو کھا سکتے ہو سوائے اس کے کہ تم اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ پانی نے اسے مارا ہے یا تمہارے تیر نے۔
حضرت ابو ثعلبہ خُشَنیؓ کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ہم ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکار کے علاقہ میں رہتے ہیں میں اپنی کمان کے ساتھ شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے یا اپنے اس کتے سے جو سدھایا نہیں گیا شکار کرتا ہوں۔ حضورؐ فرمائیں اس میں سے کون سا ہمارے لئے حلال ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ جو تم نے ذکر کیا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن ملیں تو ان (کے برتنوں) میں نہ کھاؤ اور اگر تمہیں (ان کے علاوہ برتن) نہ ملیں تو انہیں دھولو۔ پھر ان میں کھاؤ۔ اور یہ جو تم نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کے علاقہ میں رہتے ہو جو تم اپنی کمان سے مارو، اس پر اللہ کا نام لو پھر کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو تو اس پر اللہ کا نام لے لیا کرو پھر کھاؤ اور جو شکار تم سدھائے ہوئے (کتے) کے علاوہ دوسرے کتے سے کرو اور اس کو ذبح کرنے کا موقعہ پالو تو کھا سکتے ہو۔ ایک دوسری روایت میں کمان سے شکار کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو ثعلبہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اپنا تیر چلاؤ اور وہ (شکار) تم سے اوجھل ہو جائے اور پھر تم اسے پاؤ تو اس کو کھا سکتے ہو جب تک وہ سڑ نہ گیا ہو۔
حضرت ابو ثعلبہؓ، نبی ﷺ کا یہ ارشاد اس شخص کے بارہ میں بیان کرتے ہیں جو تین دن کے بعد اپنا شکار پاتا ہے تو اسے کھا سکتا ہے جب تک اس میں بو نہ پیدا ہو جائے۔ ایک اور روایت میں اس شکار کے بو پیدا ہونے کا ذکر نہیں اور کتے کے (شکار) کے بارہ میں فرمایا کہ تم اسے تین دن بعد اگر اس میں بو پیدا نہ ہوگئی ہو تو کھا سکتے ہو ورنہ اسے چھوڑ دو۔