بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن خطابؓ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضوء کیا تو پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی۔ نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا واپس جاؤ اور سنوار کر وضوء کرو۔ پس وہ واپس گیا (دوبارہ وضوء کیا) پھر نماز پڑھی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ وضوء کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرہ سے ہر وہ خطا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے کی ہوتی ہے اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ ساری خطائیں جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کی تھیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہیں اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ وہ ساری خطائیں نکل جاتی ہیں جن کی طرف اس کے پاؤں چل کر گئے تھے یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔
حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا تو اس کے جسم سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی (خطائیں) نکل جاتی ہیں۔
نُعیم بن عبداللہ مجمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور پوری طرح دھویا۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہا ں تک کہ کہنی کے اوپر کا حصہ (بھی دھونا) شروع کر دیا۔ پھر اپنا بایاں ہاتھ دھویا یہا ں تک کہ کہنی کے اوپر کا حصہ (بھی دھونا) شروع کر دیا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا یہا ں تک کہ پنڈلی کو (بھی دھونا) شروع کر دیا۔ پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا اور پنڈلی کو (بھی دھونا) شروع کر دیا۔ پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضوء کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم عمدگی سے پورا وضوء کرنے کے نتیجے میں قیامت کے دن روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہوگے۔ پس تم میں سے جو چاہے وہ (اپنی) اس روشنی اور چمک کو جتنا چاہے لمبا کرے۔
نُعیم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا۔ پس انہوں نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے یہاں تک کہ تقریبًا وہ کندھوں تک پہنچ گئے پھر انہوں نے اپنے پاؤں اوپر پنڈلیوں تک دھوئے پھر کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت قیامت کے دن اس حال میں آئے گی کہ وضوء کے اثر سے ان کا چہرہ اور ان کے ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے پس تم میں سے جو اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ اپنی چمک اور لمبی کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کرے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا میرا حوض ایلہ سے عدن کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ وہ برف سے زیادہ سفید اور شہد سے جو دودھ میں ہو زیادہ میٹھا ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور میں لوگوں کو اس سے اس طرح روکوں گا جس طرح کوئی شخص (دوسرے) لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض سے روکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس روز آپؐ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں تمہاری ایک نشانی ہوگی جو کسی اور امت کی نہیں ہوگی تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضوء کے اثر سے چہرہ اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حوضِ (کوثر) پر میرے پاس میری امت آئے گی اور میں لوگوں سے اس کی حفاظت کروں گا جیسے کوئی شخص دوسرے شخص کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے الگ کرتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا آپؐ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں تمہاری ایک ایسی نشانی ہوگی جو تمہارے علاوہ کسی اور کی نہیں ہوگی تم میرے پاس وضوء کے اثر سے روشن چہرہ اور چمکتے ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے اور تم میں سے ایک گروہ مجھ سے روکا جائے گا پس وہ (مجھ تک) نہیں پہنچ سکیں گے۔ تب میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ میں سے ہیں تو فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا کہ کیا آپؐ کو علم ہے کہ آپؐ کے بعد جو نئی نئی باتیں انہوں نے کیں۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا میرا حوض ایلہ سے عدن کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس طرح لوگوں سے اس کی حفاظت کروں گا جس طرح کوئی شخص اپنے حوض سے اجنبی اونٹوں کو روکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپؐ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں تم میرے پاس وضوء کے آثار سے روشن چہروں اور چمکتے ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے اور یہ تمہارے علاوہ کسی کو نصیب نہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ قبرستان تشریف لائے اور فرمایا اے مومن قوم کے گھر السلام علیکم انشاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔ میری خواہش تھی کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم آپؐ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا تم میرے صحابی ہو۔ بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو آپؐ کی امت میں ابھی نہیں آئے۔ آپؐ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی شخص کے سفید پیشانیوں اور سفید پاؤں والے گھوڑے پورے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہوں کیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا وہ میرے پاس اس حال میں آئیں گے کہ ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں وضوء کی وجہ سے سفید اور چمکدار ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا۔ سنو میرے حوض سے کچھ لوگوں کو روکا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ گھاٹ سے دور کیا جاتا ہے۔ میں انہیں آواز دوں گا کہ سنو ادھر آ جاؤ۔ تب کہا جائے گا کہ انہوں نے تیرے بعد (اپنے تئیں) بدل دیا تھا تب میں کہوں گا دور رہو، دور رہو۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ قبرستان تشریف لائے اور فرمایا اے مومن قوم کے گھر السلام علیکم انشاء اللہ ہم تمہیں ملنے والے ہیں۔ یہ روایت اسماعیل بن جعفر کی روایت کے مطابق ہے مگر مالک کی روایت میں یوں ہے فَلَیُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِیْ کچھ لوگوں کو میرے حوض سے دور کیا جائے گا۔