حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا میں اپنے بندہ سے اس کے میرے متعلق ظن کے مطابق ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اللہ کی قسم اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو تم میں سے اپنی گمشدہ اونٹنی جنگل میں پا لینے پر ہوتا ہے اور جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ اس کے قریب آ جاتا ہوں۔ جو ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے میں دو ہاتھ اس کے قریب آ جاتا ہوں اور جب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ تم میں سے کسی کی توبہ پر اس سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے جتنی تم میں سے کوئی اپنی گم شدہ اونٹنی کے پانے پر۔
حضرت حارث بن سوید سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہؓ کے پاس جب وہ بیمار تھے ان کی عیادت کے لئے گیا تو انہوں نے ہمیں دو باتیں بتائیں۔ ایک بات اپنی طرف سے اور ایک بات رسول اللہﷺ کی طرف سے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ اپنے مؤمن بندہ کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو جنگل بیابان میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہو۔ اس پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو اور وہ سو جائے اور جاگے تو اونٹنی غائب ہو چکی ہو۔ پھر وہ اس کی تلاش کرنے لگے یہاں تک کہ اسے پیاس لگ جائے پھر وہ کہے کہ میں اپنی اس جگہ پر واپس جاتا ہوں جہاں میں تھا اور سو جاتا ہوں یہاں تک کہ میں مر جاؤں۔ پھر وہ مرنے کے لئے اپنا سر اپنے بازو پر رکھے لیکن جب وہ بیدار ہو تو اس کے پاس اس کی اونٹنی ہو جس پر اس کا زادِ راہ اور اس کے کھانے اور پینے کا سامان تھا۔ پس اللہ اپنے مؤمن بندہ کی توبہ پر اس (شخص) سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنی خوشی اسے اپنی سواری اور زادِ راہ (ملنے) پر ہوئی۔
سِماک بیان کرتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیرؓ نے خطاب کیا اور کہا یقینا اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنے زادِ راہ اور پانی کے مشکیزے اونٹ پر لاد کر چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ جنگل بیابان میں پہنچا تو قیلولہ کا وقت آگیا۔ وہ اترا اور درخت کے نیچے قیلولہ کیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس کا اونٹ کہیں چلا گیا۔ پھر جب وہ بیدار ہوا اور دوڑ کر ایک ٹیلہ پر چڑھا تو کچھ نظر نہ آیا۔ پھر وہ دوڑ کر دوسرے ٹیلہ پر گیا مگر کچھ نہ دیکھا۔ پھر تیسرے ٹیلے پر دوڑا لیکن کچھ نہ دیکھا۔ پھر وہ واپس آیا اور اس جگہ آگیا جہاں قیلولہ کیا تھا وہ وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس کے پاس اس کا اونٹ چلتا ہوا آگیا اور اس نے اپنی نکیل اس کے ہاتھ میں دے دی۔ پس یقینا اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنی خوشی اسے پہنچی جب اس نے اونٹ کو اس حالت میں پایا۔ سماک نے کہا شعبی کا خیال ہے کہ حضرت نعمانؓ نے اس حدیث کو نبیﷺ سے مرفوع بیان کیا یہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے یہ (بات) ان سے نہیں سنی۔
حضرت براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اس شخص کی خوشی کے بارہ میں کیا کہتے ہو جس سے اس کی اونٹنی چھوٹ گئی جو جنگل بیابان میں اپنی مہار گھسیٹتے چلتی جاتی ہے وہاں نہ اس (شخص) کا کوئی کھانا ہے نہ پانی ہے جبکہ اس اونٹنی پر اس کا کھانا اور پانی ہے۔ وہ اس کی تلاش میں لگ گیا یہانتک کہ اس پر بڑا گراں گذرا۔ پھر وہ (اونٹنی) ایک درخت کے تنے کے پاس سے گذری تو اس کی مہار الجھ گئی۔ پھر اس شخص نے مہار کو (اس درخت کے تنے کے ساتھ) الجھا ہوا پایا۔ ہم نے عرض کیا بہت زیادہ (خوش ہوگا) یا رسولؐ اللہ! اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم یقینا اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی اپنی اونٹنی (ملنے) پر خوش ہوا۔
اسحاق بن عبداللہ ابن ابو طلحہؓ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا اور وہ ان کے چچا تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سواری پر تھا۔ پھر وہ اس سے چھوٹ گئی جبکہ اس پر اس کا کھانا اور اس کا پانی تھا۔ پھر وہ اپنی سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سایہ کے نیچے آکر لیٹ گیا۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے۔ چنانچہ اس نے اس کی نکیل سے پکڑا۔ خوشی کی شدت سے کہا اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کے باعث الٹ کہہ دیا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ تم میں سے اپنے کسی بندہ کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جب وہ بیدار ہونے پر اپنے اونٹ کو موجود پاتا ہے جسے وہ جنگل بیابان میں کھو چکا تھا۔
أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
حضرت ابو ایوبؓ نے اپنی وفات کے قریب بیان کیا کہ میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی تھی جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی تھی۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ کسی ایسی مخلوق کو پیدا کر دے گا جو گناہ کرے گی اور پھر اللہ انہیں بخش دے گا۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسے ہو کہ تمہارے کوئی گناہ نہ ہوں کہ جنہیں اللہ تمہارے لئے بخشے تو اللہ ایسے لوگ لے آئے گا جو گناہگار ہوں گے اور وہ ان کو ان کے لئے بخش دے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ضرور تمہیں لے جائے گا اور کسی ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ سے بخشش طلب کریں گے اور اللہ انہیں بخش دے گا۔