بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں دو چیزیں خرچ کرے تو اسے جنت کے دربانوں میں سے ہر دروازے کے سب دربان بلائیں گے اور کہیں گے اے فلاں شخص آؤ۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ایسے شخص پر تو کوئی نقصان نہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی ان میں سے ہوگے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے آج کس نے روزہ رکھا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ آپؐ نے فرمایا آج تم میں سے کون جنازہ کے ساتھ گیا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں۔ آپؐ نے فرمایا آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ آپؐ نے فرمایا آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی؟ حضرت ابو بکرؓ نے کہا میں نے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی شخص میں یہ (باتیں) جمع نہیں ہوتیں مگر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
حضرت اسماءؓ بنتِ ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خرچ کرو یا فرمایا خوشبو چھڑکو (یا فرمایا) خوشبو پھیلاؤ اور بند کرکے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم پر بند کردے گا۔
حضرت اسماءؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا خوشبو پھیلاؤ یا (فرمایا) خوشبو چھڑکو یا فرمایا خرچ کرو اور بند کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا اور جمع کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے روک رکھے گا۔
عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے حضرت اسماءؓ بنتِ ابو بکرؓ کے متعلق بیان کیا کہ وہ نبیﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! میرے پاس تو کچھ نہیں ہے سوائے اس کے جو زبیرؓ مجھے دیں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا کہ میں اس میں سے خرچ کروں جو وہ مجھے دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جتنی تمہیں توفیق ہے دیا کرو اور جمع کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے روک رکھے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے کہ اے مسلمان عورتو! کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کے لئے (کوئی تحفہ) ہرگز حقیر نہ جانے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا سات (شخص) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ انصاف کرنے والا امام اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو اور وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہے۔ اور وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی کیلئے وہ اکٹھے ہوئے اور اسی کے لئے جدا ہوئے اور وہ شخص جسے کسی بڑے منصب والی خوبصورت عورت نے بلایا مگر اس نے کہا میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے کوئی صدقہ کیا اور اسے چھپا دیا یہاں تک کہ اس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ اور وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ رسول اللہﷺ سے حضرت ابو سعید خدریؓ یا حضرت ابو ہریرہؓ کی ایسی ہی روایت ہے اور انہوں نے کہا وہ شخص جو مسجد سے اٹکا ہوا ہے جب اس سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں واپس آجاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! کون سا صدقہ سب سے عظمت رکھتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اس حال میں صدقہ کرو کہ تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو اور غربت سے ڈرتے ہو اور کشائش کی توقع رکھتے ہو اور اس کا انتظار نہ کرو کہ جان حلق تک آجائے پھر تم کہو کہ فلاں کیلئے یہ ہے اور فلاں کا یہ ہے غور سے سنو! اب تو وہ فلاں کا ہو چکا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! کون سا صدقہ اجر میں سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا سنو تمہارے باپ کی قسم تمہیں ضرور اس بارہ میں بتایا جائے گا یہ کہ تم اس حال میں صدقہ کرو جبکہ تم تندرست ہو اور (مال کی) خواہش رکھتے ہو اور غربت سے ڈرتے ہو اور زندہ رہنے کی امید رکھتے ہو اور اس کا انتظار نہ کرو کہ جان حلق تک آجائے تم کہو کہ فلاں کیلئے یہ ہے اور فلاں کیلئے یہ ہے وہ تو فلاں کا ہو چکا۔ ایک اور روایت میں اَیُّ الْصَدَقَۃِ اَعْظَمُ کے بجائے اَیُّ الْصَدَقَۃِ اَفْضَلُ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے منبر پر جبکہ آپؐ صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔