بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت حکیمؓ بن حزام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا افضل صدقہ یا فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے کہ فراخی کی حالت قائم رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اس سے شروع کرو جس کی تم پرورش کرتے ہو۔
حضرت حکیمؓ بن حزام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے مانگا۔ آپؐ نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے آپؐ سے پھر مانگا۔ آپؐ نے مجھے پھر دیا۔ میں نے آپؐ سے پھر مانگا۔ آپؐ نے مجھے پھر دیا پھر فرمایا یہ مال خوشگوار اور میٹھا ہے جو شخص اسے بطیبِ خاطر لیتا ہے تو اس کے لئے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے ابن آدم! تیرا اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لئے بہتر ہے۔ اور تیرا اس کو روک رکھنا تیرے لئے برا ہے اور تجھے بقدر ضرورت رکھ لینے پر ملامت نہیں کی جائے گی اور تو اس سے شروع کر جس کی پرورش تیرے ذمہ ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
عبد اللہ بن عامر یحصبی کہتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ احادیث میں احتیاط کیا کرو سوائے ایسی حدیث کے جو حضرت عمرؓ کے دور میں (موجود) تھی کیونکہ حضرت عمرؓ لوگوں کو خدائے بزرگ و برتر کے بارہ میں ڈراتے تھے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں تو صرف خزانہ کا نگران ہوں جسے میں دوں اور طیبِ خاطر ہو تو اس کے لئے اس میں برکت رکھی جائے گی اور جسے میں اس کے مانگنے اور اس کی شدید حرص کی وجہ سے دوں تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
امیر معاویہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پیچھے پڑ کر سوال نہ کیا کرو۔ اللہ کی قسم! تم میں کوئی (شخص) مجھ سے کوئی چیز نہیں مانگتا کہ اس کا سوال مجھ سے کوئی چیز نکلوادے جبکہ میں اسے ناپسند کرتا ہوں اور پھر میں اسے دوں اور اس میں برکت بھی رکھ دی جائے۔ عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی سے روایت کرتے ہوئے بتایا جبکہ میں صنعاء میں ان کے گھر گیا انہوں نے اپنے گھر کے اخروٹ مجھے کھلائے اور مذکورہ بالا روایت سنائی۔
حمید بن عبد الرحمان بن عوفؓ سے روایت ہے کہ میں نے معاویہؓ بن ابی سفیان کو سنا جبکہ وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کا گہرا فہم عطا فرماتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لوگوں کے پیچھے پھرنے والا مسکین نہیں ہوتا اور اسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں واپس بھجوا دیتی ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! پھر مسکین کون ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا جس کے پاس اتنا مال نہیں ہے جو اسے مستغنی کردے اور نہ ہی اس کا کسی کو پتہ لگتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کچھ مانگتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک یا دو کھجوریں یا ایک یا دو لقمے لوٹا دیں۔ مسکین تو وہ ہے جو (حرام اور سوال) سے بچتا ہے (حضرت ابو ہریرہؓ) کہتے ہیں اگر تم چاہو تو (یہ آیت قرآنی) پڑھو لَا یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافاً (البقرۃ: 274) وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے نہیں مانگتے۔
حمزہ بن عبد اللہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مسلسل مانگتا رہتا ہے۔ پھر وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ ہو گا۔ ایک اور روایت میں مُزْعَۃٌ یعنی ٹکڑے کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اپنے والدؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمی لوگوں سے مسلسل مانگتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کے چہرے میں گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ ہوگا۔