بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 74 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ چوہیا مسخ شدہ ہے اس بات کی علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے بکریوں کا دودھ رکھا جائے تو وہ پی لیتے ہیں اور جب اونٹوں کا دودھ رکھا جائے تو نہیں چکھتے۔ کعب نے ان سے کہا کہ کیا تم نے یہ رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا تو کیا مجھ پر تورات اتاری گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔
حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لئے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ (بھی) اس کے لئے خیر ہے۔
عبدالرحمان بن ابی بکرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے سامنے کسی شخص کی مدح کی۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے بار بار فرمایا تجھ پر افسوس ہے تونے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تونے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی۔ اگر تم میں سے کسی کو لا محالہ اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہی پڑے تو چاہئے کہ وہ کہے کہ میرا فلاں کے بارہ میں یہ خیال ہے اور اللہ ہی اس کے بارہ میں صحیح علم رکھتا ہے۔ میں اللہ کے مقابل پر کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا میرا اس کے بارہ میں یہ یہ خیال ہے اگر اسے اس بارہ میں واقعی علم ہو۔
عبدالرحمان بن ابی بکرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کے سامنے کسی شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے کہا کہ اس بات میں رسول اللہﷺ کے بعد ان سے افضل کوئی شخص نہیں آپؐ نے فرمایا تجھ پر افسوس تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی۔ آپؐ یہ بار بار فرما رہے تھے پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو لا محالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہی پڑے تو چاہئے کہ وہ کہے کہ میرا فلاں کے بارہ میں یہ خیال ہے۔ - اگر اس کے خیال میں وہ ایسا ہی ہو - میں اللہ کے مقابل پر کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ ایک روایت میں مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اَفْضَلَ مِنْہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو کسی شخص کی تعریف کرتے ہوئے سنا اور وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا تم نے ہلاک کر دیا یا (فرمایا) تم نے اس شخص کی پیٹھ توڑ دی۔
ابو معمر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور امراء میں سے ایک امیر کی تعریف کرنے لگا اور حضرت مقدادؓ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے مونہوں پر مٹی ڈالیں (یعنی اُن کی کچھ پرواہ نہ کریں۔)
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدادؓ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور اس کے چہرے پر کنکریاں پھینکنے لگے۔ حضرت عثمانؓ نے اسے کہا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے مونہوں پر مٹی ڈالو (یعنی ان کی کچھ پرواہ نہ کرو)۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں تو دو آدمیوں نے مجھے متوجہ کیا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ میں ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینے لگا تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو، تو میں نے وہ بڑے کو دے دی۔
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ بات کیا کرتے تھے اور کہتے تھے اے حجرہ والی سن! اے حجرہ والی سن! اور حضرت عائشہؓ نماز پڑھ رہی ہوتی تھیں جب آپؓ اپنی نماز مکمل کر چکیں تو آپؓ نے عروہ سے کہا کیا تم نے ابھی ان کو اور ان کی گفتگو کو نہیں سنا۔ نبی ﷺ اس طرح بات کیا کرتے تھے کہ اگر گننے والا اسے گننا چاہتا تو ضرور اسے گن لیتا۔