بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: حضرت حسان بن ثابتؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے خاندان کی کیونکر ہجو کرو گے؟ حضرت حسانؓ نے کہا: میں آپؐ کو ان سے اس طرح نکال دوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔ اور (اسی سند سے) ہشام بن عروہ سے مروی ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہؓ کے سامنے حضرت حسانؓ کو بُرا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے کہا: اسے بُرا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کیا کرتا تھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسانؓ سے فرمایا: ان کی ہجو کرو یا فرمایا: ان کی ہجو کا جواب دو اور جبریل تمہارے ساتھ ہوں گے۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حنظلہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ شعر سے بھرے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ اُسے خراب کرکے رکھ دے، یہ اس کے لئے بہتر ہوگا اس سے کہ وہ شعر سے بھرے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اُونٹ ہانکے لئے جارہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ۔ وہ کہنے لگا: یہ تو قربانی کا اُونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ۔ وہ کہنے لگا: یہ تو قربانی کا اُونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم پر افسوس، اس پر سوار ہوجاؤ۔
اصبغ (بن فرج) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن وہب نے مجھے خبر دی۔ یونس نے مجھ سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ھَیثم بن ابی سنان نے اُنہیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے ان کے واقعات کے بیان کرنے کے اثنا میں سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرکرتے تھے، کہتے تھے: تمہارا ایک بھائی ہے جو بیہودہ نہیں کہتا۔ آپ کی مراد اس سے حضرت ابن رواحہؓ تھے۔ انہوں نے (ہی یہ شعر) کہا ہے: ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اُس کی کتاب پڑھ کر سناتے ہیں اُس وقت جب صبح کی پَو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ اس نے ہمیں اندھے پن کے بعد سیدھا راہ دکھایا جس سے ہمارے دل یقین کئے ہوتے ہیں کہ جو اُس نے کہا وہ ہوکر رہے گا۔ وہ رات اس طرح گزارتا ہے کہ اس کا پہلو اس کے بستر سے الگ رہتا ہے جبکہ بستر کافروں سے بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں۔ (یونس کی طرح) عقیل نے بھی اس حدیث کو زُہری سے نقل کیا۔ اور زبیدی نے بھی زُہری سے نقل کیا۔ (انہوں نے اس کی سند یوں بیان کی) سعید اور اعرج سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ نیز اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے بھائی(عبدالحمید) نے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، ابن ابیعتیق نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاریؓ سے سنا۔ وہ حضرت ابوہریرہؓ سے شہادت لے رہے تھے، کہتے تھے: ابوہریرہؓ! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: اے حسان! رسول اللہ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس سے اس کی تائید فرما۔ حضرت ابوہریرہ ؓنے کہا: ہاں۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ افلح نے جو ابوالقعیس کے بھائی تھے حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے کہا: بخدا میں اسے اس وقت تک اجازت نہ دوں گی جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لوں گی کیونکہ ابوالقعیس کا بھائی تو وہ نہیں ہے جس نے مجھے دودھ پلایا بلکہ ابوالقعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ شخص تو وہ نہیں ہے جس نے مجھے دودھ پلایا تھا بلکہ اس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔ عروہ کہتے تھے: اسی وجہ سے حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں کہ دودھ پلانے کی وجہ سے وہ رشتے حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حکم نے ہم سے بیان کیا۔ حکم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسوَد سے، اسوَد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے واپسی کے لیے) کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہؓ کو اپنے خیمے کے دروازے پر اداس غمگین دیکھا کیونکہ انہیں حیض آگیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: عَقْرَى حَلْقَى یہ قریش کا محاورہ ہے۔ تم تو اَب ہمیں روکے رکھو گی۔ پھر آپؐ نے پوچھا: کیا تم نے قربانی کے دن طواف زیارت کرلیا تھا؟ کہنے لگیں: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر کوچ کرو۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابونضر سے جو عمر بن عبیداللہ کے غلام تھے روایت کی کہ ابومُرہ نے جو حضرت اُم ہانیؓ بنت ابی طالب کے غلام تھے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت اُم ہانیؓ بنت ابی طالب سے سنا۔ وہ کہتی تھیں: جس سال مکہ فتح کیا گیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ میں نے آپؐ کو نہاتے ہوئے پایا اور آپؐ کی بیٹی فاطمہؓ نے آپؐ کو پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے آپؐ کو سلام کیا۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابوطالب کی بیٹی اُمّ ہانی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا آنا ہو اُمّ ہانی، خوشی سے آئیں۔ جب آپؐ اپنے نہانے سے فارغ ہوگئے آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہو کر مڑے میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری ماں کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو مار ڈالے گا جس کو میں نے پناہ دی ہے یعنی فلاں بن ہُبَیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُمّ ہانی! ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی۔ حضرت اُم ہانیؓ کہتی تھیں: اور یہ چاشت کا وقت تھا۔