بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 257 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے قتادہ سے روایت کی۔ قتادہ نے کہا: میں نے عقبہ بن صہبان ازدی سے سنا۔ عقبہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری پھینکنے سے روکا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ نہ تو شکار مارتی ہے اور نہ دشمن کو زخمی کرتی ہے۔ اور یہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ آنکھ کو پھوڑ دیتی ہے اور دانت توڑ دیتی ہے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا، کہا: سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا تو آپؐ نے اُن میں سے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہیں دیا۔ آپؐ سے پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اس نے اللہ کا شکر کیا تھا اور اس نے اللہ کا شکر نہیں کیا۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان تیمی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: دو آدمیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینکا تو آپؐ نے اُن میں سے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا تو وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپؐ نے اُسے جواب دیا اورمجھے نہ دیا۔ آپؐ نے فرمایا: اُس نے تو اللہ کا شکرکیا تھا اور تم نے شکر نہ کیا تھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعث بن سُلیم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن سُوَید بن مقرن سے سنا۔ انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے روکا۔ آپؐ نے ہمیں بیمار پرسی کرنے اور جنازے کے ساتھ جانے اور چھینک مارنے والے کا جواب دینے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام کا جواب دینے اور مظلوم کی مدد کرنے اور قسم دے کر مانگنے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ اور آپؐ نے ہمیں سات باتوں سے روکا۔ یعنی سونے کی انگوٹھی یا کہا: سونے کا چھلا پہننے سے اور حریر اور دیباج اور سندس کے پہننے سے اور ریشمی لال زِین پوشوں سے۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ جب کوئی چھینکے تو اللہ کا شکریہ کرے تو ہر ایک مسلمان پر جس نے اُسے سنا فرض ہے کہ اس کا جواب دے اور جو جمائی ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسے جہاں تک ہو سکے روکے۔ اور جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے ہمیں خبر دی۔ عبداللہ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ کہے: الْحَمْدُلِلہِ۔ اور اس کا بھائی یا (فرمایا:) اس کا ساتھی اسے کہے: يَرْحَمُكَ اللهُ۔ یعنی اللہ تم پر رحم کرے۔ اور جب وہ اُس سے يَرْحَمُكَ اللهُ کہے تو وہ کہے: يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ۔ یعنی اللہ تمہاری راہنمائی کرے اور تمہاری حالت کو درست کرے۔
عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی چھینکے اور اللہ کا شکر کرے تو ہر مسلمان پر جس نے اس کو سنا فرض ہے کہ اسے کہے: يَرْحَمُكَ اللهُ۔ یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے۔ اور جمائی جو ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے اُس کو روکے کیونکہ تم میں سے کوئی جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔