بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
یحيٰ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اُس کا قدساٹھ ہاتھ تھا۔ جب اللہ اُن کو پیدا کرچکا تو فرمایا: جاؤ اُن چند فرشتوں پر جو بیٹھے ہیں سلام کہو اور جو وہ تمہیں جواب دیں اس کو غور سے سنو۔ کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری ذریت کا جواب ہوگا۔ آدم نے کہا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ تو انہوں نے کہا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ تو انہوں نے اس (کے سلام) پر وَرَحْمَةُ اللهِ بڑھایا۔ اب جو بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم ہی کی صورت پر داخل ہوگا۔ اس کے بعد اس وقت تک بناوٹ کم ہوتی گئی ہے۔
(تشریح)محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے بہتوں کو سلام کریں۔
اورابراہیم بن طہمان نے کہا: ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے صفوان بن سلیم سے، صفوان نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے بہتوں کو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ لیث نے کہا: یزید نے مجھ سے بیان کیا۔ یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو (بن عاصؓ) سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کی کون سی بات بہتر ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانتے ہو اس کو بھی سلام کہو اور اس کو بھی جسے تم نہ پہچانو۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی، کہا: سلیمان بن یسار نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فضل بن عباسؓ کو اپنے پیچھے اُونٹنی کی پشت پر سوار کر لیا اور فضلؓ خوبصورت شخص تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے ٹھہر گئے کہ اُن کے سوالوں کا جواب دیں۔ اور خثعم (قبیلہ) کی ایک خوبصورت عورت سامنے سے آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھے۔ فضلؓ اس کو دیکھنے لگے اور ان کو اس کا حسن پسند آیا۔ نبی ﷺ نے مڑ کر جو دیکھا تو فضلؓ اس کو دیکھ رہے تھے۔ تو آپؐ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے فضلؓ کی ٹھوڑی کو پکڑا اور اس کے منہ کو پھیر دیا تا کہ اسے نہ دیکھے۔ وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! اللہ کا فرض حج کے متعلق اپنے بندوں پر ایسے وقت مقرر ہوا کہ میرا باپ اتنا بوڑھا تھا کہ اونٹنی پر سیدھا نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ تو کیا میں اُس کی طرف سے حج کروں تو یہ اس کے حج کو ادا کردے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعامر نے ہمیں بتایا۔ زُہیر (بن محمد) نے ہم سے بیان کیا۔ زہیر نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے اپنے آپ کو بچاتے رہو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو اپنی مجلسوں سے کوئی چارہ نہیں۔ ہم ان میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم نے بیٹھنا ہی ہے تو راستے کو اس کا حق دو۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! راستے کا حق کیا ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا اور تکلیف دہ چیز کو ہٹانا اور سلام کا جواب دینا اور بھلی بات کا حکم دینا اور بُری بات سے روکنا۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے کہا کہ شقیق نےمجھے بتایا۔ شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہماری عادت تھی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم یوں کہتے: اللہ پر سلامتی ہو پیشتر اس کے کہ اس کے بندوں پر سلامتی ہو، جبریل پر سلامتی ہو اور میکائیل پر سلامتی ہو اور فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ ہی تو سلامتی ہے اس لئے جب کوئی تم میں سے نماز میں بیٹھے تو یوں کہے: تمام تحفے اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تمام عبادتیں اور مالی قربانیاں۔ اے نبی تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو۔ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ کیونکہ جب وہ یوں کہے گا تو ہر نیک بندے کو جو آسمان اور زمین میں ہے یہ دعا پہنچے گی۔ پھر یہ کہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس کے بعد بہتر سے بہتر دعا جو مانگنا چاہے مانگے۔
(تشریح)محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ مخلد (بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے کہا: مجھے زیاد (بن سعد) نے بتایا کہ انہوں نے ثابت سے سنا جو کہ (عبدالرحمٰن) بن زید کے غلام تھے۔ ثابت نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل کو اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے بہتوں کو سلام کریں۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے زیاد نے بتایا کہ ثابت نے ان کو خبر دی جو کہ عبدالرحمٰن بن زید کے غلام تھے۔ ثابت نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سوار پیدل کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے بہتوں کو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شیبانی سے، شیبانی نے اشعث بن ابی شعثاء سے، اشعث نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، معاویہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات باتوں یعنی بیمار پرسی کرنے، جنازوں کے ساتھ جانے، چھینک مارنے والے کو جواب دینے اور کمزور کی یاوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے اور عام طور پر سلام کرنے اور قسم دے کر مانگنے والے کی قسم پورا کرنے کا حکم دیا اور آپؐ نے ہمیں چاندی کے برتن میں پینے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور ریشمی لال زین پوشوں پر سوار ہونے اور حریر اور دیباج اور قسی اور استبرق کے پہننے سے منع فرمایا۔
(تشریح)