بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ مالک نے نافع، عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کی۔ یہ تینوں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جو اتراتے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹ کے چلتا ہے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ سعید بن ابی سعید مقبری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت ابوہریره رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: تہ بند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوا تو وہ آگ میں گیا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے،اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنے تہ بند کو گھسیٹا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا (کہا:) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک شخص نیا جوڑا پہن کر اتراتے ہوئے چلا جارہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی کہ اتنے میں اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں لڑھکتا ہوا چلا جا رہا ہے۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ نے سالم بن عبداللہ سے، سالم بن عبد اللہ نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے تکبر سے اپنے کپڑے کو گھسیٹا اللہ اس کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یارسول اللہ! میری تہ بند کا ایک طرف ڈھیلا ہو جاتا ہے سوائے اس کے کہ میں اس کا خیال رکھوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ ان لوگوں میں سے نہیں جو تکبر سے ایسا کیا کرتے ہیں۔
محمد (بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: سورج گرہن ہوا اور اس وقت ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپؐ جلدی سے اٹھے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور لوگ بھی ادھر ادھر سے اکٹھے ہوئے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں اور سورج روشن ہوگیا ۔ اس کے بعد آپؐ ہم سے متوجہ ہوئے اور فرمایا: سورج اور چاند اللہ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ جب تم ان نشانوں میں سے کوئی نشان دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے اس وقت تک دعائیں کرو کہ وہ اسکو ہٹا دے۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ( نضر ) بن شمیل نے ہمیں خبر دی کہ عمر بن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ عون بن ابی جحیفہ نے ہم سے بیان کیا۔ عون نے اپنے باپ حضرت ابوجحیفہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے بلالؓ کو دیکھا کہ وہ ایك سُم دار چھڑی لائے اور اسے گاڑ دیاپھر نماز کی تکبیر کہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ایک جوڑا پہنے نکلے جسے آپؐ نے اوپر اٹھایا ہوا تھا۔ آپؐ نے اس چھڑی کی طرف منہ کرکے دو رکعتیں پڑھیں اور میں نے دیکھا کہ لوگ اور جانور آپؐ کے سامنے سے اس چھڑی کے پرے سے گزر تے تھے۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا۔ لیث نے کہا: عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھے بتایا، عبد الرحمٰن نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص اپنا تہ بند گھسیٹتے ہوئے چلا جارہا تھا کہ اتنے میں اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں لڑھکتا ہوا چلاجا رہا ہے۔ (عبد الرحمٰن کی طرح) اس حدیث کو یونس (بن یزید) نے بھی زہری سے روایت کیا اور شعیب نےحضرت ابوہریرہؓ سے اس کو مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ ان کے باپ نے اپنے چچا جریر بن زید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں سالم بن عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ ان کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا اتنے میں وہ کہنے لگے کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اس حدیث کو سنا۔
مطر بن فضل(مروَزی) نے ہم سے بیان کیا کہ شبابہ (بن سوار) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں محارب بن دثار سے ملا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھے اور وہ اس مکان کو آرہے تھے جس میں وہ فیصلے کیا کرتے تھے تو میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہنے لگے: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کپڑے کو لٹکا کر تکبر کی وجہ سے گھسیٹا اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ میں نے محارب سے پوچھا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے تہ بند کا ذکر کیا؟ انہوں نے کہا: آپؓ نے نہ تہ بند کی تخصیص کی اور نہ قمیص کی۔ (محارب کی طرح) جبلہ بن سحیم، زید بن اسلم اور زید بن عبد اللہ نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اور لیث نے بھی نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ اور (لیث کی طرح) موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اس میں یوں ہے جس نے اپنا کپڑا تکبر سے لٹکا کر گھسیٹا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ فرماتی ہیں: رفاعہ قرظیؓ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں بیٹھی ہوئی تھی اور حضرت ابوبکرؓ بھی آپؐ کے پاس تھے، کہنے لگی: یارسول اللہ ! میں رفاعہؓ کے نکاح میں تھی اور اس نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق کو قطعی قرار دیا۔ میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیرؓ سے نکاح کیا اور یا رسول اللہ بات یہ ہے اللہ کی قسم اس کے ساتھ تو ایسا ہی ہے جیسے یہ حاشیہ اور اس نے اپنی اوڑھنی کا حاشیہ پکڑا۔حضرت خالد بن سعید (بن عاصؓ)نے جو باہر دروازے پر کھڑے تھے ابھی ان کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اس کی یہ بات سنی تو خالدؓ بولے۔ ابوبکرؓ کیا آپ اس عورت کو اس بات سے نہیں روکتے جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھول کر بیان کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کچھ نہیں کہا آپؐ صرف مسکراتے ہی رہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا: شاید تم چاہتی ہو کہ رفاعہؓ کی طرف لوٹو۔ اس وقت تک نہیں کہ وہ تجھ سے مزہ نہ اٹھائے اور تو اس سے مزہ نہ اٹھائے، تو اس کے بعد یہی قاعدہ ہوگیا۔