بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ کہا: ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی۔ کہا: میں نے ابوعمرو شیبانی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہمیں اس گھر والے نے خبردی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ عزوجل کو کونسا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا۔ انہوں نے پوچھا: اس کے بعد کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر والدین سے نیکی کرنا۔ پوچھا: پھر اس کے بعد کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (حضرت عبداللہؓ) کہتے تھے: انہوں نے یہ باتیں مجھ سے بیان کیں (اور کہا:) اگر میں آپؐ سے اَور پوچھتا تو آپؐ مجھے اور بتاتے۔
اور لیث نے کہا: ہشام نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسماءؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ تھیں، اپنے باپ کے ساتھ ان دنوں میں آئیں کہ جب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور مہلت دی تھی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے کہا کہ میری ماں اپنی خواہش سے آئی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اپنی ماں سے نیک سلوک کرو۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُمارہ بن قعقاع بن شُبرمہ سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون زیادہ حق دار ہے جس سے میں حسن معاشرت کے ساتھ پیش آؤں ۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اُس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: پھر تمہارا باپ۔ اور ابن شبرمہ اور یحيٰ بن ایوب نے کہا کہ ہم سے ابوزُرعہ نے اسی طرح سے بیان کیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) اور شعبہ سے روایت کی۔ ان دونوں نے کہا: حبیب (بن ابی ثابت) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ اور محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب سے، حبیب نے ابوالعباس (سائب) سے، ابوالعباس نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:میں جہاد کو جاتا ہوں۔ آپؐ نے پوچھا:کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اُس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر اُنہی کے متعلق جہاد کرو۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، اُن کے باپ نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، حمید نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے سے بڑے گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آدمی اپنے والدین پر کس طرح لعنت کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ایک آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ پھر اُس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ اور وہ اُس کی ماں کو گالی دیتا ہے پھروہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا:ایک بار تین شخص اکٹھے چلے جا رہے تھے کہ ان کو بارش نے آلیا۔ وہ راستہ چھوڑ کر پہاڑ کی ایک غار میں چلے گئے تو اُن کی غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک پتھر آگرا۔ اس (پتھر) نے اُن پر (غار) بند کر دی تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ایسے نیک عملوں میں غور کرو جو تم نے اللہ کے لئے کئے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو، شاید وہ اس پتھرکو ہٹا دے۔ اِس پر اُن میں سے ایک نے یوں دعا کی: اے میرے اللہ! میرے بہت ہی بوڑ ھے ماں باپ تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں اُن کے لئے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب شام کو اُن کے پاس آتا تو میں دودھ دوہ کر پہلے اپنے والدین سے شروع کرتا، ان کو اپنے بچوں سے پہلے دودھ پلاتا، اور ایک دن ایسا ہوا کہ مجھے درخت چرانے کے لئے دُور جانا پڑا۔ میں اس وقت آیا کہ شام ہوچکی تھی۔ میں نے اُن کو سوئے ہوئے پایا۔ میں نے دودھ دوہا جیسا کہ دوہا کرتا تھا اور دوہا ہوا دودھ لا کر اُن کے سرہانے کھڑا ہوگیا۔ میں ناپسند کرتا تھا کہ اُن کو اُن کی نیند سے جگاؤں اور یہ بھی ناپسند کرتا تھا کہ اُن سے پہلے بچوں کو دوں حالانکہ بچے میرے پاؤں کے پاس بلبلا رہے تھے۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ پس اگر تُو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا مندی کے لئے کیا تھا تو ہمارے لئے اس پتھر کو کچھ ہٹاکہ ہم اس سے آسمان تو دیکھیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کے لئے تھوڑا سا پتھر ہٹا دیا اور وہ اس سے آسمان دیکھنے لگے۔ اور دوسرے نے یوں دعا کی: اے اللہ! میری ایک چچا کی بیٹی تھی جس سے میں محبت رکھتا تھا، ایسی سخت محبت جو مرد عورتوں سے رکھتے ہیں۔ میں نے اس کو ورغلانا چاہا اور اُس نے نہ مانا جب تک کہ میں اس کو ایک سو اشرفی نہ لادوں۔ میں نے محنت مزدوری کرکے ایک سو اشرفیاں اکٹھی کیں اور ان کو لے کر اُس سے ملا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ کہنے لگی: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈرو اور یہ مُہر جائز طریق کے بغیر نہ کھولو۔ یہ سنتے ہی میں اس سے الگ ہوکر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا مندی کی خاطر کیا تھا تو اس پتھر کو ہمارے لئے ہٹا دے۔ چنانچہ اللہ نے وہ پتھر کچھ اورہٹا دیا۔ اور دوسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور ایک فرق چاول کے معاوضے میں مزدوری پر لگایا تھا۔ جب وہ اپنا کام کرچکا کہنے لگا: میرا حق مجھے دو تو میں نے اُس کا حق اُس کے سامنے پیش کیا۔ وہ اس کو چھوڑ گیا اور اس نے اسے منظور نہ کیا تو میں ان چاولوں کو بوتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے، بیل اور ان کا چرواہا اکٹھے کرلئے۔پھر وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ سے ڈرو اور مجھ پر ظلم نہ کرو اور میرا حق مجھے دو۔ میں نے کہا: ان گائے، بیلوں اور اُن کے چرواہے کے پاس جاکر انہیں لے لو۔ وہ کہنے لگا: اللہ سے ڈرو اور مجھ سے ہنسی مت کرو۔ میں نے کہا: میں تم سے ہنسی نہیں کرتا۔ وہ گائے، بیل اور اُن کا چرواہا لے لو۔ اس نے ان کو لیا اور لے کر چلا گیا۔ اگر تُو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا مندی کے لئے کیا تھا تو جو باقی رہتا ہے اس کو بھی کھول دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے وہ پتھر ہٹا دیا۔
سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مسیب سے، مسیب نے ورّاد سے، ورّاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے، حضرت مغیرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے ماؤں کی نافرمانی تم پر حرام کی ہے اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ خود نہ دے اور کہے کہ لاؤ۔ اور بیٹیوں کو زندہ گاڑنا بھی حرام کیا ہے۔ اور تمہارے لئے قیل و قال اور بہت سوالات کرنا اور مال کو ضائع کرنا ناپسند کیا ہے۔
اسحاق (بن شاہین واسطی) نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ) واسطی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سعید بن ایاس) جُریری سے، جُریری نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ بڑے سے بڑے گناہ کیا ہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! ضرور۔ آپؐ نے تین بار فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپؐ اس وقت تکیہ لگا کر بیٹھے تھے۔ اُٹھ بیٹھے اور فرمایا: سنو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ سنو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ آپؐ ان کلمات کو اتنی بار دہراتے رہے کہ میں نے سمجھا آپؐ خاموش نہیں ہوں گے۔
محمد بن ولید نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبیداللہ بن ابی بکر نے مجھے بتایا۔ (عبیداللہ نے) کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا یا کہا کہ کبیرہ گناہوں کے متعلق آپؐ سے پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور ناحق خون کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، پھر آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ فرمایا: جھوٹی بات کہنا یا فرمایا: جھوٹی شہادت دینا۔ شعبہ نے کہا: اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جھوٹی شہادت دینا۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے ہمیں بتایا ۔ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) مجھے میرے باپ نے بتایا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتی تھیں: میری ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شوق سے میرے پاس آئیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں ان سے نیک سلوک کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ (سفیان) ابن عیینہ کہتے تھے: اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل کی ہے: یعنی اللہ تمہیں اُن لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑتے۔
(تشریح)