بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوتیاح نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت انس (بن مالکؓ ) سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐنے فرمایا: سنو اور فرمانبرداری کرو۔ خواہ ایک ایسا حبشی ہی حاکم بنایا جائے؛ جس کا سر گویا منقّٰیکا دانہ ہے۔
(تشریح)محمد بن ابان نے ہم سے بیان کیا،( کہا:) غندر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابوتیاح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا: سنو اور فرمانبرداری کرو۔ خواہ حبشی کی ہو جس کا سر گویا منقیٰ کا دانہ ہے۔
(تشریح)مسلم نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت جا بر بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ حضرت معاذ بن جبل ؓنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے ۔
فضل بن سہل نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسن بن موسیٰ اَشْیَب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرحمن بن عبدا للہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہؓؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ امام) تم کو نماز پڑھاتے ہیں۔ اگر ٹھیک پڑھیں گے تو تمہیں ثواب ہوگا اور اگر غلطی کریں گے تو بھی تمہیں ثواب ہو گا اور اُن کو وبال۔
(تشریح)ابوعبداللہ نے کہااورمحمد بن یوسف نے ہم سے کہا اور اَوزاعی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) زُہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید بن عبدالرحمن سے، حمید نے عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت کی کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ کے پاس گئے اور وہ محصور تھے اور کہا کہ آپؓ تو مسلمانوں کے امام ہیں اور جو مصیبت آپؓ پر آپڑی ہے وہ ہم دیکھ رہے ہیں اور فتنہ کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے اور یہ ہم پر شاق ہے تو انہوں نے کہا: نماز ہی سب سے بہتر عمل ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ اس لئے جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو اور جب وہ براکام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو۔ اور زبیدی نے کہا: زہری کہتے تھے کہ ہماری رائے نہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ایسی مجبوری ہو کہ جس سے کوئی چارہ نہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے گھر میں ایک رات سویا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آئے اور چار رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ سوگئے۔ پھر اس کے بعد اٹھے۔ میں بھی آیا اور آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کا خراٹہ سنا۔ راوی نے لفظ غَطِیْطَہٗ یا خَطِیْطَہٗ کہا: اس کے بعد آپؐ نماز کے لئے نکلے۔
(تشریح)احمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرونے ہمیں بتایا کہ انہوں نے عبد ِرَبِّہ ابن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کُریب سے، کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے کہ میں ( اپنی خالہ) حضرت میمونہؓ کے پاس سویا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رات ان کے ہاں تھے۔ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے اور میں بھی آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کیا اور آپؐ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر سوگئے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے سانس لی اور جب سوتے تو گہری سانس لیتے۔ پھر آپؐ کے پاس مؤذن آیا اور آپؐ نے باہر جاکر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہا کہ میں نے بکیر سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے کریب نے اسی طرح بیان کیا تھا۔
(تشریح)مسددنے ہم سے بیان کیا ، کہا : اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں ایک رات سویا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر نمازپڑھنے لگے تو میںبھی اُٹھ کر آپؐ کے ساتھ نماز پڑھنے لگا اور آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھے سر سے پکڑا اور مجھ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا۔
(تشریح)اور محمد بن بشار نے بھی مجھ سے بیان کیا ، کہا : غندر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت معاذ بن جبلؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر واپس جاکر وہ اپنی قوم کی امامت کرتے۔ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی اور سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک شخص چلا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ ؓ نے اس کے متعلق بُرا منایا۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ ؐنے تین دفعہ فرمایا: تم بہت ہی ابتلاء میں ڈالنے والے ہو۔ تم بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔ تم تو بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔فَتَّانًا فرمایا ، یا فَاتِنًا اور آپؐ نے انہیں مفصل سورتوںمیں سے دو درمیانی سورتیں پڑھنے کے لئے فرمایا۔ عمرو کہتے تھے: مجھے وہ دو سورتیں یاد نہیں رہیں۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: زُہیر نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا : میں نے قیس سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابومسعودؓ نے مجھے بتایا کہ ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ ! بخدا میں صبح کی نماز سے فلاں شخص کی و جہ سے پیچھے رہ جاتا ہوں۔ اس لئے کہ وہ ہمیں نماز لمبی پڑھاتا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نصیحت میںاس دن سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں بعض نفرت دلانے والے ہیں۔ پس تم میں سے جو لوگوں کو نمازپڑھائے تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔ کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت مند بھی۔
(تشریح)