بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اپنی صفیں سیدھی رکھو۔ کیونکہ صفوں کی درستی بھی اقامت صلوٰۃ کے حکم میں شامل ہے۔
(تشریح)عمروبن خالد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : زہیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے ، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: کہ اپنی صفیں ٹھیک کرو۔ میں تو تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔ ہم میں سے ایک اپنے ساتھی کے کندھے سے اپنا کندھا اور اس کے قدم سے اپنا قدم ملایا کرتا تھا۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق سے، اسحاق نے حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے گھر میں نماز پڑھی اور میری ماں حضرت ام سلیمؓ ہمارے پیچھے تھیں ۔
(تشریح)موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) ثابت بن یزید نے ہم سے بیان کیا ۔ (ثابت نے کہا) کہ عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک رات اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیںجانب نماز پڑھنے لگا تو آپؐ نے میرا ہاتھ یا بازو پکڑ کر مجھے اپنی د ا ہنی طرف کھڑا کردیا ۔ آپؐ نے مجھے اشارہ فرمایا کہ میرے پیچھے سے گھوم آ۔
معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : فضل بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: سعید بن عبید طائی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بشیر بن یسار انصاری سے، بشیر نے حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کی کہ وہ مدینہ میں آئے اوران سے دریافت کیا گیا کہ جس زمانہ میں آپ ؓنے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا اس سے کون سی نئی بات آپؓ ہم میں پاتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی نئی بات نہیں پائی سوائے اس کے کہ تم صفیں ٹھیک نہیں رکھتے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : دائود نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے کریب سے جوکہ حضرت ابن عباسؓ کے آزادکردہ غلام تھے۔ کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور میں آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے مرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کرلیا اور آپؐ نے نماز پڑھی اور سوگئے۔ اس کے بعد مؤذن آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ اٹھے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا ، کہا : عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید انصاری سے، یحيٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور حجرہ کی دیوار پست تھی۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ کھڑے ہوکر آپؐ کی نماز کی اقتداء میں پڑھنے لگے اور انہوں نے صبح کو اس سے متعلق ذکر کیا۔ دوسری رات بھی آپؐ تہجد پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوگئے۔ آپؐ کی نماز کی اقتداء میں نماز پڑھنے لگے۔ دو یا تین راتیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد جب (نماز کا وقت) ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور نماز کے لئے نہیں نکلے۔ جب آپؐ صبح کو باہر گئے تو لوگوں نے اس کا ذکرکیا۔ آپؐ نے فرمایا: میںڈر گیا کہ تم پر رات کی نماز فرض ہوجائے گی۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابن ابی فدیک نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مقبری سے، مقبری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی؛ جسے آپؐ دن کو بچھایا کرتے تھے اور رات کو اس کا حجرہ بنالیتے۔ کچھ لوگ آپؐ کے پاس اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے آپؐ کے پیچھے نماز پڑھی۔
عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا، کہا : وہیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم ابوالنضرسے، سالم نے بسر بن سعید سے، بُسرنے حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حجرہ بنالیا۔بسر کہتے تھے کہ میرا خیال ہے زید کا قول ہے: ایک چٹائی کا حجرہ رمضان میں بنایا آپؐ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی اور آپؐ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے آپؐ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ جب آپؐ کو ان کے متعلق علم ہوا تو آپؐ بیٹھے رہے۔ پھر آپؐ ان کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: مجھے پتہ لگ گیا تمہاری اس کاروائی کا جو میں نے دیکھی۔ سو تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو۔ کیونکہ بہترین نماز آدمی کی وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھتا ہے سوائے فرض نمازکے۔ عفان نے کہا: وہیب نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) موسیٰ نے ہمیں بتایا کہ میں نے ابوالنضر سے سنا۔ انہوں نے بسر سے، بسر نے حضرت زیدؓ سے، حضرت زیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ روایت کی)۔
(تشریح)ابویمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ بن مالک انصاری نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپؐ کا داہنا پہلو چھل گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اس وجہ سے آپؐ نے اس دن ہمیں نمازوں میں سے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپؐ کے پیچھے بیٹھ کرنماز پڑھی۔ پھر جب سلام پھیرا تو آپؐ نے فرمایا: امام تو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ سو جب وہ کھڑاہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھائو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب کہے : سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ تو تم کہو: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ۔