بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
اسحاق (واسطی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواُسامہ نے ہمیں بتایا، کہا: عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ اور نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… اور مجھ سے یوسف بن عیسیٰ مروَزی نے بھی بیان کیا، کہا: فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبیداللہ بن عمر نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے قاسم بن محمد سے اور قاسم نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بلالؓ تو رات کو اذان دیتا ہے۔ اس لئے تم کھائو اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن ام مکتومؓ اذان دے۔
(تشریح)اسحاق واسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جُریری سے۔ جُریری نے ابن بُرید ہ سے، ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مُغَفَّلؓ مُزَنی سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دواذانوں کے درمیان نماز ہے۔ یہ تین دفعہ فرمایا (اور پھر فرمایا:) اس شخص کے لئے جو چاہے۔
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: کہمس بن حسن نے ہمیں بتایا۔ کہمس نے عبداللہ بن بریدہ سے، ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دواذانوں کے درمیان نماز ہے۔ دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ پھر تیسری بار آپؐ نے فرمایا:اس کے لیے جو(پڑھنی ) چاہے۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے اور خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت مالک بن حویرثؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: دو آدمی نبی
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: غُندَر نے ہمیں بتایا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے عمرو بن عامر انصاری سے سنا کہ وہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: مؤذن جب اذان دیاکرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ جلدی سے ستونوں کی طرف جاکر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجاتے؛ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسی طرح وہ مغرب سے پہلے بھی دو رکعتیں پڑھتے۔ بحالیکہ اذان اور اقامت کے درمیان بہت وقت نہ ہوتا۔ عثمان بن جبلہ اور ابودائود نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ان کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا۔
(تشریح)معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا، کہا: وُہیب نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے مالک بن حویرث سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے چندآدمیوں کے ساتھ آیا اور ہم آپؐ کے پاس بیس راتیں رہے اور آپؐ بہت مہربان اور نرم دل تھے۔ جب آپؐ نے دیکھا کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہے تو آپؐ نے فرمایا: واپس جائو اور ان میں رہو۔ انہیں تعلیم دو اور نماز پڑھو اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک تمہارے لئے اذان دے اور چاہیے کہ تم میں سے بڑا تمہارا امام ہو۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مہاجر ابوحسن سے، مہاجر نے زید بن وہب سے، زیدنے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ مؤذّن نے اذان دینی چاہی تو آپؐ نے فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ پھر اس نے اذان دینی چاہی تو آپؐ نے فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ پھر اس نے اذان دینی چاہی تو آپؐ نے فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گرمی کی شدت بھی جہنم کی لپٹ ہوتی ہے۔
محمدبن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: ایوب نے ہمیں بتایا۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم تقریباً ایک ہی عمر کے جوان تھے۔ ہم آپ کے پاس بیس دن اور راتیں رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مہربان اور نرم دل تھے ۔ جب آپ سمجھے کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہے یا کہا: ہم مشتاق ہیں؛ تو آپؐ نے ان لوگوں کی بابت ہم سے پوچھا جن کو ہم اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائو اور ان میں رہو، اُنہیںتعلیم دو اور انہیں نیک باتیں بتائو۔ آپؐ نے بعض باتوں کا ذکر کیا جنہیں میں یاد رکھتا ہوں یا یہ کہا: میں یاد نہیں رکھتا اور فرمایا: تم اسی طرح نماز پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان دے اور چاہیے کہ تم میں سے بڑا تمہارا امام ہو۔