بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حُمید نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ثابت بُنانی سے اس آدمی کی بابت پوچھا، جو تکبیر اقامت کے بعد بات کرے تو انہوں نے مجھے بتایا: حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپؐ کو روک لیا؛ جبکہ نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی جا چکی تھی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے بڑھ کرہوتی ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا) لیث نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: یزید) ابن الہاد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن خباب سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے پچیس درجے بڑھ کر ہوتی ہے۔
شعیب نے کہا: اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: اس سے ستائیس درجے بڑھ کر یہ نماز ہوتی ہے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا ، کہا : میں نے سالم سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ام درداء سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ حضرت ابودردائؓ میرے پاس آئے اور وہ غصے میں تھے۔ میں نے کہا: تمہیں کس بات نے برہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کی کوئی بات بھی نہیں دیکھتا ۔ سوائے اس کے کہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سُمَیّ سے ؛جو کہ ابوبکر(بن عبدالرحمن) کے آزاد کردہ غلام تھے، سُمَیّ نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثنا ء میں کہ ایک شخص راستے پر چلا جا رہا تھا۔ اس نے کانٹوں والی شاخ راستے پر پائی وہ اس نے ہٹادی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر کی اور اس کے گناہ معاف کردئیے ۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میرے دل میںآیا کہ میں کہوں: لکڑیاں اکٹھی کی جائیں اور کہوں کہ اذان دی جائے۔ پھر کسی آدمی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہیں ان کو چھوڑ کر ان آدمیوں کے پاس جائوں جو نہیں آئے۔ ان کے گھروں کو مع ان کے جلادوں اور قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ان میں سے کسی کو علم ہوتا کہ اسے گوشت کی ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے پائے ملیں گے تو وہ( اس کے لئے) عشاء کی نماز میں ضرور موجود ہوتا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز باجماعت اس کی اس نماز سے پچیس گنا بہتر ہے جو وہ اپنے گھر یا اپنے بازار میں پڑھے اور یہ اس لئے کہ جب وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے۔ پھر وہ مسجد کی طرف نکلے۔ بحالیکہ اسے صرف نماز ہی نکال رہی ہو تو جو قدم بھی وہ اٹھائے گا، اس ایک قدم پر اس کا ایک درجہ بلند اور ایک گناہ دور کردیا جائے گااور جب وہ نماز پڑھے گا تو جب تک وہ اپنی نماز گاہ میں رہے گا، ملائکہ اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے۔ (کہیں گے:) اے اللہ! اس پر خاص رحمت فرما۔ اس پر رحم فرما اور تم میں سے ایک آدمی نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کا انتظار کرے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جماعت کی نماز اکیلے کی نمازسے پچیس حصے بڑھ کر ہے اور رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھرحضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو (قرآن مجید میں) پڑھ لو: اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا۔ قرآن بوقت فجر ایسا ہے کہ اس کے ساتھ شہادتیں قائم ہوں گی۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے برید بن عبداللہ سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے نماز کا سب سے بڑا ثواب حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دور سے چل کر آتے ہیں۔ پھر وہ ہیں جو ان سے زیادہ دور سے آنے والے ہیں اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ امام کے ساتھ پڑھتا ہے۔ وہ اس شخص سے زیادہ ثواب حاصل کرنے والا ہوگا جو نماز پڑھ کر سوجاتا ہے۔