بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
پھر آپؐ نے فرمایا: شہید پانچ ہیں۔ طاعونؔ سے مرنے والا اورپیٹ ؔکے عارضے سے مرنے والااور ڈوبؔ کر مرنے والااور مکانؔ کے گرنے سے دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہؔ میں مرنے والا اورفرمایا:: اگر لوگ جانتے کہ اذان میں اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے اور پھر ا س کے لئے قرعہ ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ پاتے، تو اس کے لئے ضرور قرعہ ڈالتے۔
اور اگر وہ جانتے کہ ظہر کی نماز کے لئے اوّل وقت جانے میں کیا ثواب ہے تو وہ اس کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور صبح کی نماز میں کیا ثواب ہے تو وہ ان میں آتے، اگر چہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت مالکؓ بن حویرث سے، حضرت مالکؓ بن حویرث نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: جب نماز کا وقت آئے؛ تم دونوں اذان دو اور تکبیر اقامت کہو۔ پھر تم دونوں میں سے جو بڑا ہو ؛ اما م ہو۔
محمد بن عبداللہ بن حوشب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوھاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید نے حضرت انس ؓسے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ ! کیا تم اپنے آثار (نشان قدم) پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی نہیں چاہتے۔ اور مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے قول وَ نَکْتُبُ مَاقَدَّمُوْا وَاٰثَارَھُمْ ( ان کے آثار) سے ان کے قدموں کے نشان مراد لئے ہیں ۔
اور ابن ابی مریم نے کہا: یحيٰ بن ایوب نے ہمیں بتایا کہ حمید نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ نے چا ہا کہ اپنے گھروں سے منتقل ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آرہیں۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایاکہ وہ اپنے گھروں٭ کو خالی کردیں اور فرمایا: کیا تم اپنے قدموں پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی نہیںچاہتے؟ اور مجاہد نے کہا: ان کے آثار سے ان کے قدموں کے نشان مراد ہیں اور زمین پر پیدل چلنا مراد ہے۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابو صالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: منافقوں پر فجر اورعشاء کی نماز سے زیادہ بوجھل اور کوئی نماز نہیں اور اگر وہ جانتے کہ ان میں کیا ثواب ہے تو وہ ان نمازوں میں آتے۔ اگر چہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ہی۔ میرے دل میں آیا کہ میں مؤذن سے کہوں کہ وہ نماز کے لئے اقامت کی تکبیر کہے ۔ پھر میںایک شخص سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ پھر میں انگارے لوں اور ان کے مکانوں کو آگ لگا دوں جو ابھی تک نماز کے لئے نہیں نکلے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملائکہ تم میں سے ایک کے لئے جب تک کہ وہ اپنی جائے نماز میں ہے، دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ بے وضو نہ ہوجائے۔ ( کہتے ہیں:) اے اللہ ! اسے معاف کر اے اللہ !اس پر رحم کر۔ تم میں سے ایک شخص نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ نماز کی وجہ سے وہ رکا رہے۔ سوائے نماز کے اور کسی بات نے اس کو اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنے سے نہ روکا ہو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا، (کہا:) عبیداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: خُبَیب بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے۔ حفص نے حضرت ابوہریرہؓ سے ،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: سات شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے سائے کے سوا کسی اور کا سایہ نہ ہوگا، اپنے سائے میں رکھے گا۔ انصاف کرنے والاامامؔ اور وہ نوجوانؔ جو اپنے رب کی عبادت میں پلا ہواور وہ شخصؔ جس کا دل مسجدوں سے وابستہ رہے اور وہ دو شخصؔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کی اور پھر وہ اسی پر قائم رہے اور اسی پر جدا ہوئے اور وہ شخصؔ جس کو ایک معزز اور خوبصورت عورت بلائے اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوںاور وہ شخصؔ جو چھپا کر صدقہ دے یہاں تک کہ اس کے بائیں کو بھی علم نہیں کہ اس کا دایاں کیا خرچ کرتا ہے اور وہ شخصؔ جسے اللہ تعالیٰ تنہائی میں یاد آئے اور اس کے آنسو بہنے لگیں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا، کہا: محمد بن مطرف نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو مسجد کو صبح شام جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اپنی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے۔