بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عبیدبن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابواسامہ سے ، ابواسامہ نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لئے شام کا کھانا رکھا جائے اور نماز کی تکبیر اقامت ہوچکی ہو تو پہلے کھانا کھائے اور جلدی نہ کرے ۔ اس سے پہلے فارغ ہوجائے اورحضرت ابن عمرؓ کے سامنے کھانا رکھا جاتااور تکبیر اقامت ہورہی ہوتی تو آپ نماز میں نہ آتے ۔ جب تک کہ کھانا نہ کھالیتے۔ حالانکہ وہ امام کی قرأت بھی سن رہے ہوتے ۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: جعفر بن عمرو بن امیہ نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ (بکری کے) بازوسے کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے ۔ تو آپؐ اٹھے اور چھری پھینک دی اور آپ ؐ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا ،کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حکم نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے روایت کی ،کہا: میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کیاکیا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپؐ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے تھے۔ یعنی ان کے کاموں میں مدد دیا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
اور زُہَیر اور وہب بن عثمان نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت نقل کی۔ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانے پر بیٹھا ہو تو جلدی نہ کرے۔ اپنی ضرورت پوری کرکے اس سے فارغ ہو۔ خواہ نماز کی تکبیر اقامت ہوچکی ہو۔ ابراہیم بن منذر نے وہب بن عثمان سے یہ روایت کی ہے اور یہ وہب مدنی تھے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: وُہَیْب نے ہم سے بیان کیا، کہا: ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت مالک بن حویرثؓ ہماری اس مسجد میں آئے اور کہا: میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں۔ میرا مقصود نماز پڑھنا نہیں بلکہ میں اس طرح نماز پڑھوں گا جس طرح کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا۔ میں نے ابوقلابہ سے کہا کہ حضرت مالکؓ کیسے نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہمارے اس بزرگکی طرح۔ جب پہلی رکعت میں سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اٹھنے سے پہلے بیٹھ جاتے۔
(تشریح)اسحٰق بن نصر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زائدہ سے، زائدہ نے عبدالملک بن عُمَیرسے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ابوبردہ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوئے اور آپؐ کی بیماری بڑھ گئی تو آپؐ نے فرمایا: ابوبکرؓ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: وہ تو نرم دل آدمی ہیں۔ جب آپؐ کی جگہ ہوں گے تو لوگوں کونماز نہیں پڑھاسکیں گے۔ آپؐ نے فرمایا : ابوبکر ؓ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس پرحضرت عائشہؓ نے پھر وہی بات دہرائی۔ تو آپؐ نے فرمایا: ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ اس پر پیغام لانے والا ان کے پاس آیا تو انہوں نے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نماز پڑھائی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر ؓسے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا، میں نے عرض کیا: حضرت ابوبکرؓ جب آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی و جہ سے لوگوں کو سنا نہ سکیں گے۔ اس لئے آپؐ حضرت عمر ؓ کو کہیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے حضرت حفصہؓ سے کہا: آپؐ سے کہیں کہ حضرت ابوبکرؓ جب آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنا نہیں سکیں گے۔ اس لئے آپ ؐ حضرت عمرؓ سے کہیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔حضرت حفصہؓ نے ایسا ہی کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خاموش رہو۔ تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ ابوبکرؓسے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ میں تو تم سے کبھی بھلائی پانے کی نہیں۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ انصاری نے مجھے بتایا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور خدمت کی اور آپؐ کے ساتھ رہے ( بتایا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری میں جس میں آپؐ نے وفات پائی۔حضرت ابوبکرؓ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ آخر جب پیر کا دن ہوا اور وہ صف بستہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ کا پردہ اٹھایا۔ آپؐ کھڑے ہوکر ہمیں دیکھنے لگے۔ گویا کہ آپؐ کا چہرہ قرآن مجید کا ورق تھا۔ پھر آپؐ نے تبسم فرمایا۔ قریب تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کی خوشی کے مارے ہم از خود رفتہ ہوجائیں۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹے تا وہ صف میں مل جائیں اور وہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لائیں گے۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ گرا دیا اور آپؐ اسی دن فوت ہوئے۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ،کہا: عبدالعزیز نے حضرت انس ؓسے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین روز نہیں نکلے۔ نماز کی تکبیر اقامت ہوئی اورحضرت ابوبکرؓ آگے بڑھنے لگے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ پکڑا اور اٹھایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکا تو ہم نے کوئی منظر نہیں دیکھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے زیادہ خوشکن ہوتا جب وہ چمکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابوبکرؓ کو اشارہ فرمایا کہ وہ آگے ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا۔ پھر فوت ہونے تک ہمیں آپؐ کو دیکھنے کا موقع نصیب نہ ہوا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے مجھے بتایا انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمزہ بن عبداللہ سے روایت کی ۔ حمزہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے انہیں خبر دی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپؐ کی بیماری سخت ہوگئی۔آپؐ کو نماز کے لئے کہا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: حضرت ابوبکر ؓ تو نرم دل آدمی ہیں۔ جب وہ قرأت کریں گے تو رونا انہیں بے بس کردے گا۔ آپؐ نے فرمایا: ان سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ پھر حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے دوبارہ کہا تو آپؐ نے فرمایا: ان سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ تم تویوسف والی عورتیں ہو۔ زبیدی اور زہری کے بھتیجے اور اسحق بن یحيٰ کلبی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث یونس کی طرح بیان کی اور عقیل اور معمر نے بھی زہری سے بروایت حمزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے اسے روایت کیا۔
(تشریح)