بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت عبداللہ بن مالک ا بن بُحَیْنہ ؓسے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے۔ (عبدالعزیز نے) کہا: عبدالرحمن نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: بہز بن اسد نے ہمیں بتایا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعد بن ابراہیم نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حفص بن عاصم سے سنا۔ انہوں نے کہا: میںنے اَزد کے ایک آدمی سے سنا۔جو حضرت مالک بن بُحینہؓ کہلاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو رکعتیں پڑھ رہا ہے۔ حالانکہ نماز کی تکبیر ہوچکی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر ٹھہرے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتے ہو؟ کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتے ہو؟ غندر اور معاذ نے شعبہ سے، شعبہ نے حضرت مالک (بن بُحَیْنہ ؓسے) روایت کرتے ہوئے ابن اسحاق کی طرح بیان کیا۔ اور ابن اسحاق نے سعد سے، سعد نے حفص سے، حفص نے حضرت عبداللہ ابن بُحَیْنہؓ سے نقل کیا اور حماد نے کہا کہ سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حفص سے، حفص نے حضرت مالک (ابن بُحَیْنہؓ) سے روایت کی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے ایک سردی اور آندھی والی رات میںنماز کے لیے اذان دی۔ پھر انہوں نے کہا: اپنے اپنے ٹھکانوں میں ہی نماز پڑھ لو۔اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن سے فرمایا کرتے اور وہ کہتا:اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے،یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے پوچھا: تو انہوں نے کہا کہ ایک ابر کا ٹکڑا آیا اور وہ برسا یہاں تک چھت بہنے لگی اور وہ کھجوروں کی ٹہنیوں کی تھی۔ نماز کے لئے تکبیر اقامت ہوئی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ۔یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی پیشانی میں کیچڑ کا نشان دیکھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ ہشام سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی تھیں کہ آپؐ نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو تو پہلے شام کا کھانا کھائو۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیْل سے ،عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے رکھا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے اس کو شروع کرو اور کھانا چھوڑ کر نماز کے لئے جلدی نہ کرو۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: اعمش نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: اسود کہتے تھے: ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے کہ ہم نے نماز کی پابندی اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا تو( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپؐ فوت ہوگئے تھے نماز کا وقت ہوا اور اذان دی گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تو آپؐ سے عرض کیا گیا کہ ابوبکرؓ دل کے بہت نرم آدمی ہیں اگر آپؐ کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپؐ نے دوبارہ فرمایا: آپؐ سے پھر وہی عرض کیا گیا تو آپؐ نے تیسری بار پھر فرمایا: اور کہا: تم تو یوسف والی عورتیں ہو۔ ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تب حضرت ابوبکرؓ نکلے اور نماز پڑھائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ میں کچھ تخفیف محسوس کی تو آپؐ دو آدمیوں کے ساتھ سہارا لئے ہوئے نکلے۔ ( مجھے یہ ایسا ہی یاد ہے) گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپؐ کے پائوں بوجہ بیماری کی تکلیف کے} زمین پر لکیریں ٭{ڈالتے ہوئے جارہے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں مگر نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پرہی رہیں۔ پھر آپؐ کو لایا گیا ۔آخر آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ اعمش سے کہا گیا اور کیا حضرت ابوبکرؓ آپؐ کی نماز کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی اقتداء میں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے اپنے سر کو ہلا کر بتایا: ہاں۔ اس حدیث کا ایک حصہ ابودائود نے بھی شعبہ سے بروایت اعمش بیان کیا اور ابومعاویہ نے اس روایت میں یہ بڑھایا ہے کہ آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے بائیں طرف بیٹھے اور حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہوکر ہی نماز پڑھتے رہے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے روایت کرتے ہوئے بتایا، کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا، کہا: حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کہتی تھیں: جب نبی ﷺ کے لیے چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا اور آپؐ کی بیماری بڑھ گئی تو آپؐ نے اپنی ازواج سے اجازت لی کہ میرے گھرمیں ہی آپؐ کی تیمار داری کی جائے۔ تو آپؐ کو انہوں نے اجازت دی۔ اس پر آپؐ دو آدمیوں کے درمیان نکلے۔ آپؐ کے پائوں زمین پر لکیریں ڈال رہے تھے اورآپؐ حضرت عباسؓ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے۔ عبیداللہ کہتے تھے کہ میں نے اس کا ذکرحضرت ابن عباسؓ کے پاس جس طرح کہ حضرت عائشہؓ نے کہا تھا کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ کون آدمی ہے جس کاحضرت عائشہؓ نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے کہا : وہ حضرت علیؓ بن ابی طالب ہیں۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے محمود بن ربیع انصاری سے روایت کی کہ حضرت عتبان بن مالکؓ اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے اور وہ نابینا تھے اور یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! اندھیرا اور سیلاب ہوتا ہے اور میں نابینا ہوں۔ اس لئے یا رسول اللہ میرے گھر میں نماز پڑھئے ۔ جسے میں نماز گاہ بنائوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو انہوں نے گھر میں ایک طرف اشارہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس جگہ) نماز پڑھی۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوھاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا، کہا: عبدالحمید صاحب زیادی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباسؓ ایک بارش اور کیچڑ والے دن میں ہم سے مخاطب ہوئے اور مؤذن کو جب وہ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ پر پہنچا، کہا: کہو نماز اپنی اپنی جگہ پر پڑھی جائے۔ اس پر انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، جیسے کہ اسے انوکھا خیا ل کیا تو انہوں نے کہا: یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم اسے انوکھا سمجھتے ہو۔ یہ تو انہوں نے بھی کہا تھا جو مجھ سے بہترہیں۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔جمعہ واجب ہے مگر میں نے ناپسند کیا کہ میں تم کو تکلیف میں ڈالوں۔ نیز حماد نے عاصم سے ، عاصم نے عبداللہ بن حارث سے اور عبداللہ بن حارث نے حضرت ابن عباسؓ سے اس طرح بیان کیا۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے یہ کہا کہ میں نے ناپسند کیا کہ تم گنہگار ٹھہرو اور تم کیچڑ اپنے گھٹنوں تک ساندتے ہوئے آئو۔
آدم نے ہم سے بیان کیا ،کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: انس بن سیرین نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں آپؐ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا اور وہ شخص بھاری بھرکم تھا۔ تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپؐ کو اپنے گھر بلایا اور آپؐ کے لئے ایک چٹائی بچھادی اور چٹائی کا ایک حصہ دھویا تو آپؐ نے اس پر دو رکعتیں پڑھیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپؐ کو اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا۔
(تشریح)