بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
عثمان (بن ابی شیبہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے روایت کی کہ میں نے اسود (بن یزید) سے کہا: کیا آپ نے حضرت عائشہؓ امّ المؤمنین سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن میں نبیذ تیار کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پوچھا: اے امّ المؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: ہر اہل بیت کو خصوصاً اس کے متعلق منع کیا ہے یعنی یہ کہ کدو کے تونبے اور رال کے روغن شدہ برتن میں نبیذ نہ بنائیں۔ ابراہیم کہتے تھے: (میں نے اسود سے پوچھاکہ) حضرت عائشہؓ نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا؟ اسود نے کہا: میں تم سے صرف اتنا ہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا۔ کیا میں وہ بھی بیان کروں جو میں نے نہیں سنا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ(سلیمان) شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع کیا۔ (شیبانی کہتے تھے:) میں نے (حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے) کہا: کیا ہم سفید گھڑے میں نبیذ بناکر پیا کریں؟ انہوں نے کہا:نہیں۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالجویریہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے باذق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم باذق سے پہلے ہی یہ حکم کرچکے ہیں کہ جو بھی نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا: (باذق) مشروب تو حلال و طیب ہے۔ انہوں نے کہا: حلال طیب کے بعد حرام خبیث ہی رہ جاتا ہے۔
عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا اور شہد پسند کرتے تھے۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے،(ابن جریج نےکہا) کہ عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منقّٰی اور کھجور اور کچی اور پکی کھجوروں (کی شراب) سے منع فرمایا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن ابی کثیر نے ہمیں خبر دی۔ یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ پختہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو اور نیز پختہ کھجوروں اور منقّٰی کو اکٹھا کرکے ان کی نبیذ بنائی جائے اور چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بھگوکر ان کی نبیذ تیار کی جائے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ یونس نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن قاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے سنا کہ حضرت ابواسید ساعدیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کی دعوت دی اور اس دن ان کی بیوی ہی ان کی خدمت کرنے والی تھی حالانکہ وہ دلہن تھی۔ وہ کہتی تھی: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا چیز بھگو کر شربت تیار کیا؟ میں نے آپؐ کے لئے رات کو ایک لگن میں کچھ کھجوریں بھگودی تھیں۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ میں ابوطلحہؓ، ابودجانہؓ اور سہیل بن بیضاءؓ کو کچی اور پکی کھجوروں کی خلیط شراب پلاہی رہاتھا کہ شراب حرام کی گئی۔ یہ سن کر میں نے اس کو پھینک دیااور میں ہی ان کا ساقی تھااور میں سب سے چھوٹا تھا اور ہم خلیط کو ان دنوں شراب سمجھا کرتے تھے۔ اور عمرو بن حارث نے اپنی سند میں یوں کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سفیان (بن عیینہ) سے سناکہ سالم ابونضر نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عمیر سے جو امّ الفضلؓ کے غلام تھے، سنا۔ عمیر نے حضرت امّ الفضلؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ وہ کہتی تھیں: عرفہ کے دن لوگوں نے رسول اللہﷺ کے روزے کے متعلق شک کیا تو میں نے آپؐ کوایک برتن بھیجا جس میں کچھ دودھ تھا۔ آپؐ نے پی لیا۔ کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے متعلق شک کیا تو حضرت امّ الفضلؓ نے آپؐ کو ایک پیالہ بھیجا۔ جب سفیان سے پوچھا جاتا (آیا یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل؟) تو وہ کہتے کہ یہ حضرت امّ الفضلؓ سے مروی ہے۔