بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح (ذکوان) اور ابوسفیان (طلحہ بن نافع قریشی) سے، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت کی۔ حضرت جابرؓ نے کہا: ابوحمید (ساعدی) نقیع سے ایک پیالہ دودھ کا لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تم نے اس کو ڈھانپ کیوں نہ لیا گو کوئی لکڑی ہی اس پر آڑی رکھ دیتے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی کہ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن (اعرج) سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمدہ صدقہ بہت دودھ دینے والی اونٹنی ہے جو خالصتاً اللہ کے لئے کسی کو دی جائے اور وہ بہت دودھ دینے والی بکری ہے جو خالصتاً اللہ کے لئے دی جائے۔ صبح بھی برتن بھر کر دودھ دے اور شام کو بھی۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے، اوزاعی نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور پھر کلی کی اور فرمایا: اس کی بھی چکنائی ہوتی ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے ہشام (بن عروہ) نے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد پسند تھا۔
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ میں سمجھتا ہوں وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ حضرت جابرؓنے کہا: حضرت ابوحمیدؓ جو ایک انصاری شخص تھے نقیع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو ڈھانپ کیوں نہ لیا گو ایک لکڑی ہی اس پر آڑی رکھ دیتے۔ اور (اعمش نے کہا:)مجھے ابوسفیان نے حضرت جابرؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بتائی۔
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ شعبہ نے ابواسحاق سے روایت کی۔ ابواسحاق نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے آئے اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے ساتھ تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے تھے: ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: میں نے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آپؐ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا اور ہمارے پاس سراقہ بن جعشم ایک گھوڑے پر سوار ہوکر آیا۔ آپؐ نے اس پر دعا کی۔ آخر سراقہ نے آپؐ سے التجا کی کہ اس کے خلاف دعا نہ کریں اور یہ کہ وہ لَوٹ جاتا ہے تو نبیﷺ نے ایسا ہی کیا۔
اور ابراہیم بن طہمان نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سدرة المنتہیٰ تک اٹھا کر لے گئے تھے تو وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ چار دریا ہیں ۔ دو دریا تو باہر نمایاں ہیں اور دو دریا اندر پوشیدہ ہیں۔ جو نمایاں ہیں وہ تو نیل اور فرات ہیں اور جو اندر پوشیدہ تھے تو وہ جنت میں دو دریا ہیں۔ پھر میرے سامنے تین پیالے لائے گئے ۔ ایک پیالے میں دودھ تھا اور ایک پیالے میں شہد اور ایک پیالے میں شراب تھی۔ جس میں دودھ تھا اس کو میں نے لیا اور میں پی گیا تو مجھ سے کہا گیا تم نے اور تمہاری امت نے فطرت پر عمل کیا۔ ہشام اور سعید اورہمام نے قتادہ سے نقل کیا۔ قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت مالک بن صعصعہؓ سے، حضرت مالکؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہروں کے متعلق اسی طرح روایت کی اور انہوں نے تین پیالوں کا ذکر نہیں کیا۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہؓ مدینہ میں سب انصاریوں سے زیادہ کھجوروں کے باغ رکھتے تھے اور ان کو اپنے باغوں میں سے سب سے پیارا باغ بیرحاء کا باغ تھا اور وہ مسجد کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا پاک شیریں پانی پیا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ حضرت ابوطلحہؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ فرماتا ہے: تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے (خدا کے لئے) خرچ نہ کرو۔ اور میرے باغوں میں سے مجھے سب سے پیارا بیرحاء کا باغ ہے اور اب یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ ایک نیک عمل ہوگا اور اللہ کے ہاں یہ ذخیرہ ہو گا۔ اس لئے یا رسول اللہ ! جہاں اللہ آپؐ کو مناسب سوجھائے وہاں اس کو خرچ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: واہ واہ! یہ تو چلتا مال ہے۔یا فرمایا: نفع بخش مال ہے۔ عبداللہ (بن مسلمہ) نے اس کے متعلق شک کیا کہ کونسا لفظ فرمایا ہے۔ اور (آپؐ نے فرمایا:) میں نے سن لیا جو تم نے کہا ہے اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو قریبی رشتہ دار وں میں تقسیم کردو ۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں کئے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے اپنے قریبیوں اور چچا کی اولاد میں اس کو بانٹ دیا۔ اور اسماعیل اور یحيٰ بن یحيٰ نے رَايِحٌ نقل کیا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ زہری نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ نے دودھ پیا اور ایک بار آپؐ ان کے گھر آئے اور میں نے ایک بکری دوہی اور کنویں سے پانی نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دودھ میں ڈالا تو آپؐ نے پیالہ لیا اور اسے پیا اور آپؐ کے بائیں طرف حضرت ابوبکرؓ تھے اور آپؐ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ آپؐ نے اپنا بچا ہوا اس اعرابی کو دیا او ر پھر فرمایا: جو دائیں طرف ہو (اس کو دو) اور پھر جو اس کے دائیں طرف ہو۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ ابوعامر (عقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ فلیح نے سعید بن حارث سے، سعید نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پا س گئے اور آپؐ کے ساتھ آپؐ کے ایک ساتھی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہارے پاس پانی ہو جو آج رات مشک میں رہا ہو ورنہ یہیں سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔حضرت جابرؓ نے کہا: اور وہ شخص اپنے باغ میں پانی لگا رہا تھا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے۔ اس شخص نے کہا: یارسول اللہ! میرے پاس رات کا رکھا ہوا پانی ہے۔ آپؐ جھونپڑی کو چلیں۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: وہ ان دونوں کو لے گیا اور ایک پیالے میں پانی ڈالا۔ پھر اس پر گھر کی بکری سے دودھ دوہا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے پیا پھر اس شخص نے بھی پیا جو آپؐ کے ساتھ تھا۔