بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے کہا کہ میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے پوچھا۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کھایا تھا؟ حضرت سہلؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے اللہ نے آپؐ کو مبعوث کیا اس وقت تک کہ اللہ نے آپؐ کو وفات دی، میدہ نہیں دیکھا۔ ابوحازم کہتے تھے: میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمہارے پاس چھلنیاں تھیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے اللہ نے آپؐ کو مبعوث کیا اس وقت تک کہ آپؐ کو اللہ نے وفات دی، چھلنی نہیں دیکھی۔ کہتے تھے: میں نے پوچھا: تم بن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے؟ کہتے تھے: ہم ان کو پیستے تھے اور ان میں پھونک مارتے پھر جو اُڑ جاتا وہ اڑ جاتا اور جو باقی رہتا ہم اس کو گوندھ کر کھاتے۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ رَوح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی ۔ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ لوگوں کے پاس سے گزرے کہ جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو بلایا مگر انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور آپؐ نے جَو کی روٹی سے بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت نے جب سے آپؐ مدینہ میں آئے جَو کی روٹی سے لگاتار تین راتیں بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوطوالہ (عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری) سے، ابوطوالہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔
ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتے ۔ ان کا نان بائی کھڑا ہوتا۔ حضرت انسؓ کہتے: کھاؤ مجھے علم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کہ آپؐ اللہ سے جاملے، پتلی چپاتی دیکھی بھی ہواور نہ کبھی سموچی دَم پختہ بکری دیکھی ہو۔
عبداللہ بن ابی الاسود نے ہمیں بتایا کہ معاذ (بن ہشام) نے ہم سے بیان کیاکہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خوان پر کھایا اور نہ ہی طشتری میں اور نہ آپؐ کے لئے باریک چپاتیاں پکائی گئیں۔ میں نے قتادہ سے پوچھا: وہ لوگ کس پہ رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: دستر خوان پر ۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ان کی عادت تھی کہ جب ان کے رشتہ داروں میں سے کوئی فوت ہو جاتا اور اس وجہ سے عورتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر وہ منتشر ہو جاتیں صرف ان کے ہی گھر والے اور خاص لوگ رہ جاتے تو تلبینہ کی ہانڈی پکانے کا حکم دیتیں جو پکائی جاتی۔ پھر سالن تیار کیا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا۔ پھر کہتیں: اسے کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپؐ فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل کی طاقت کوبحال کردیتا ہے اور غم کو کسی قدر غلط کرتا ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ جملی سے، عمرو نے مرہ ہمدانی سے، مرہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے، حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپؐ نے فرمایا: مردوں میں سے بہت کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے کوئی کامل نہیں ہوئی۔ اور عائشہؓ کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسی ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔
عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوحاتم اشہل بن حاتم سےسنا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثمامہ بن انس سے، ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کے ایک غلام کے پاس گیا جو درزی تھا۔ اس نے آپؐ کے سامنے ایک پیالہ رکھا جس میں ثرید تھا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے اور وہ اپنے کام میں لگ گیا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے کتلے ڈھونڈڈھونڈ کر کھاتے تھے۔ کہتے تھے: میں بھی ان کو ڈھونڈنے لگا اور آپؐ کے سامنے رکھتا۔ کہتے تھے: اس کے بعد میں کدو کو پسند کیا کرتا تھا۔
(تشریح)