بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیاکہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے گوشت تین دن سے زیادہ تک کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپؐ نے کبھی منع نہیں کیا مگر صرف اس سال جس میں کہ لوگ قحط کی وجہ سے بھوکے تھے تو آپؐ کی مراد یہ تھی کہ غنی فقیرکو کھلائے اور ہم تو (قربانی کے جانور کے) پائے اٹھا کر رکھ چھوڑتے اور پھر پندرہ پندرہ دن کے بعد انہیں کھاتے۔ ان سے پوچھا گیا: آپؐ کو ایسی سخت ضرورت کیا تھی ؟ یہ سن کر وہ ہنس پڑیں کہنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت نے اس وقت تک کہ آپؐ اللہ سے جا ملے تین دن تک بھی گیہوں کی روٹی سالن کے ساتھ نہیں کھائی۔ اور (محمد) بن کثیر نے کہا: ہمیں سفیان (ثوری) نے بتایا کہ عبدالرحمٰن بن عابس نے ہم سے یہی بیان کیا۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہم سے بیان کیاکہ (ابوطوالہ) عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔
ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سُمی سے، سُمی نے ابوصالح (ذکوان) سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے ابواسامہ سے، ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا،کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا اور شہد پسند کرتے تھے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابرؓ (بن عبداللہ انصاری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیوں کے گوشت اپنےساتھ مدینہ بھی لے جاتے تھے۔ (عبداللہ بن محمد کی طرح) اس حدیث کو محمد (بن سلام) نے بھی (سفیان) بن عیینہ سے روایت کیا۔ اور ابن جریج کہتے تھے: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا حضرت جابرؓ نے یوں کہا ہے کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام تھے، روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہؓ سے فرمایا: اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کرے۔ اس پر حضرت ابوطلحہؓ مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر لے گئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بھی آپؐ کہیں اترتے خدمت کرتا اور میں آپؐ کو یہ دعا کرتے اکثر سنا کرتا تھا: اے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں ہم و غم سے اور درماندگی اور سستی سے اور بخل اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تنگ کرنے سے۔ میں آپؐ کی ہمیشہ خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ ہم خیبر سے لَوٹے اور آپؐ حضرت صفیہ بنت حییؓ کو لائے۔ آپؐ نے ان سے نکاح کرلیا تھا اور میں آپؐ کو دیکھتا کہ آپؐ اپنے پیچھے اپنے چغہ یا اپنے کمبل سے اُن کے لیے گول گدا بنا دیتے پھر ان کو اپنے پیچھے سوار کرتے ۔ جب ہم صہباء میں پہنچے تو آپؐ نے کھجور کا مالیدہ بنا کر دستر خوان پر رکھا۔ پھر آپؐ نے مجھے بھیجا اور میں نے کئی لوگوں کو کھانے کے لئے بلایا اور انہوں نے کھایا۔ اور یہی حضرت صفیہؓ کا ولیمہ تھا جو آپؐ نے کیا۔ پھر آپؐ آئے جب اُحد آپؐ کے سامنے ظاہر ہوا تو آپؐ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ جب آپؐ مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! میں مدینہ کے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان جو جگہ ہے اس کو ویسے ہی حرم قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! انہیں ان کے مُد میں اور ان کے صاع میں برکت دے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف بن ابی سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ کہتے ہیں: مجھے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بتایاکہ وہ حضرت حذیفہ (بن یمانؓ) کے پاس تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک پارسی نے آپؓ کو پانی پینے کو دیا۔ جب اس نے گلاس آپؓ کے ہاتھ میں رکھا تو آپؓ نے اس کو پھینک دیا اور کہنے لگے: اگر میں نے اس کو دو دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ منع نہ کیا ہوتا۔ گویا ان کی مراد تھی کہ میں گلاس کو اس طرح نہ پھینکتا مگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ریشمی کپڑے نہ پہنو اور نہ دیباج اور نہ سونے چاندی کے برتنوں میں پیو اور نہ ہی سونے چاندی کی رکابیوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ان کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ (وضاح) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ (بن دعامہ) سے، قتادہ نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے اس کی خوشبو بھی اچھی اور اس کا مزہ بھی اچھا۔ اور مثال اس مؤمن کی جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے اس کی خوشبو نہیں اور اس کا مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی مثال ہے اس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا حنظل کی سی ہے۔ اس کی کوئی خوشبو نہیں اور اس کا مزہ بھی کڑوا ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ سے، ربیعہ نے قاسم بن محمد (بن ابی بکر) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: بریرہؓ میں تین نمونے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے اسے خرید کر اس کو آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا: حقِ وراثت ہمارا ہوگا تو حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ شرط ان کے لئے کرو کیونکہ حقِ وراثت تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ قاسم کہتے تھے اور وہ آزاد کی گئی اور اسے اختیار دیا گیا کہ اپنے خاوند کے نکاح میں رہے یا اس سے الگ ہوجائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حضرت عائشہؓ کے گھر میں آئے اور ہانڈی آگ پر ابل رہی تھی۔ آپؐ نے کھانا منگوایا اور آپؐ کے لئے روٹی اور گھر کے سالن میں سے کچھ سالن لایا گیا۔ آپؐ نے (دیکھ کر) فرمایا: کیا میں نے گوشت نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! مگر وہ ایسا گوشت تھا جو بریرہؓ کو بطور صدقہ دیا گیا اور اس نے ہمیں بھی اس میں سے ہدیہ دیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
عبدالرحمٰن بن شیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نےکہا۔ مجھے (محمد بن اسماعیل) بن ابی فدیک نے بتایا۔ انہوں نے (محمد بن عبدالرحمٰن) بن ابی ذئب سے، محمد بن عبدالرحمٰن نے (سعید بن ابی سعید) مقبری سے، مقبری نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنا پیٹ بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ میں خمیری روٹی کھایا کرتا تھا اور نہ ریشمی کپڑا پہنتا تھا اور نہ میری خدمت کوئی غلام اور نہ کوئی لونڈی کرتی تھی اور میں اپنا پیٹ کنکریوں سے لگا دیتا تھا اور کسی آدمی سے ایک آیت کا مفہوم پوچھا کرتا تھا حالانکہ وہ مجھے خوب معلوم ہوتی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ (گھر) لے جائے اور کھانا کھلائے اور مسکینوں کے لئے تمام لوگوں سے بہتر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ تھے۔ ہمیں (گھر) لے جایا کرتے اور جو کچھ ان کے گھر میں ہوتا ہمیں کھلاتے یہاں تک کہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ ہمارے لئے گھی کی کپی نکالتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اس کو پھاڑ کر جو کچھ اس میں ہوتا کھالیتے۔