بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 95 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ نیز لیث (بن سعد) نے کہا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جعفر بن عمرو بن امیہ نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ عمرو بن امیہ (ضمری) نےان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ایک بکری کے شانے سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے۔ اتنے میں نماز کے لئے آپؐ کو بلایا گیا۔ آپؐ نے اُسے اور اس چھری کو جس کے ساتھ آپؐ کاٹ رہے تھے، رکھ دیا پھر آپؐ کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
معلّیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھا جائے اور نماز کے لئے تکبیر ہو تو پہلے شام کا کھانا کھاؤ۔ اور ایوب سے روایت ہے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی۔
اور اسی سند سے ایوب (سختیانی) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ کے بارے میں روایت کی کہ ایک دفعہ انہوں نے رات کا کھانا کھایا اور وہ امام کی قرأت سن رہے تھے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب نماز کی تکبیر ہو اور شام کا کھانا بھی سامنے آئے تو پہلے کھانا کھاؤ۔ وہیب اور یحيٰ بن سعید نے ہشام سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: جب شام کا کھانا رکھا جائے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت انس )بن مالکؓ) کہتے تھے: میں حجاب کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ حضرت اُبیّ بن کعبؓ بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحشؓ کے دلہا بنے اور آپؐ نے مدینہ میں ہی ان سے نکاح کیا تھاتو آپؐ نے دن چڑھنے کے بعد لوگوں کو کھانے کے لئے بلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور کچھ لوگ بھی آپؐ کے ساتھ بیٹھے رہے۔ جب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوئے۔ آپؐ چلے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا۔ یہاں تک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرے کے دروازے تک پہنچے پھر آپؐ نے خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ آپ واپس لَوٹے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ لَوٹا تو کیا دیکھا کہ وہ وہیں اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپؐ یہ دیکھ کر دوبارہ واپس چلے آئے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ دوبارہ واپس ہوگیا۔ حضرت عائشہؓ کے حجرے کے دروازے پر پہنچ کر پھر آپؐ واپس لَوٹ گئے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ لَوٹ آیا۔ کیا دیکھا کہ وہ اس وقت اٹھ کر چلے گئے تھے۔ پھر آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور حجاب کا حکم نازل کیا گیا۔
(تشریح)