بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مَیں نے خود دیکھا کہ جولوگ غلہ اندازے پر خریدتے، انہیں اِس بات پر تنبیہ کی جاتی کہ اسے اس جگہ پر نہ بیچیں، جب تک اسے ٹھکانے پر لاکر محفوظ نہ کرلیں۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فریب دہی سے قیمت بڑھانا منع فرمایا ہے۔ طرفہُ: ۶۹۶۳۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے اور یہ ایک قسم بیع تھی جو زمانہ جاہلیت کے لوگ آپس میں کیا کرتے تھے۔ ایک شخص اُونٹ خریدتا اِس شرط پر کہ قیمت اس وقت ادا کی جائے گی، جب اونٹنی جنے گی اور پھر اس کے بعد وہ بچہ (اُونٹنی) جو اس کے پیٹ میں ہے، جنے گی۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دو طرح کا لباس منع ہے کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔ پھر کپڑا اُٹھا کر اسے اپنے کندھے پر ڈال لے اور دو قسم کی بیع بھی منع ہے: ایک چھوکر اور دوسری پھینک کر (یعنی بغیر تحقیق۔)
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے اور٭ ابوالزناد سے، ان دونوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بیع سے منع فرمایا جو صرف چھونے یا پھینکنے سے قرار پاتی ہے۔
فروہ بن ابی مغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کم ہی ایسا دن آتا تھا کہ جس میں آپؐ حضرت ابوبکرؓکے گھر میں صبح یا شام کو نہ آتے ہوں۔ جب آپؐ کو مدینہ کی طرف جانے کا حکم ملا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اچانک آپؐ ہمارے پاس ظہر کے وقت تشریف لائے جس سے ہم گھبراگئے۔ حضرت ابوبکرؓ کو اِس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اِس گھڑی میں ہمارے پاس تشریف لائے ہیں، اِس کی وجہ کوئی خاص بات ہے جو پیش آئی ہے۔ جب حضورؐ حضرت ابوبکرؓ کے گھر داخل ہوئے۔ آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا: جو یہاں ہیں، انہیں باہر بھیج دیں۔ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میری دو بیٹیاں ہی ہیں، یعنی عائشہؓ اور اسمائؓ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ مجھے مکہ سے چلے جانے کا حکم ہوچکاہے؟ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں بھی آپؐ کے ساتھ ہی چلوں گا۔ فرمایا: ہاں۔ آپؓ کو بھی ساتھ ہی چلنا ہوگا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس دو اُونٹنیاں ہیں، میں نے ان دونوں کو اِسی سفر کے لئے تیار کیا ہے۔ آپؐ ان میں سے ایک لے لیں۔ فرمایا: میں نے قیمتاً اسے لے لیا ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے اور سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ شہری غیر شہری کے لئے بیع کرے، اور تم دھوکہ دینے کے لئے آپس میں قیمت نہ بڑھائو، اور کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، اور اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ دے، اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق طلب نہ کرے، اس نیت سے کہ اُس کے برتن میں جو کچھ ہے وہ خود انڈیل لے۔
(تشریح)بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ(بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ حسین نے جو منشی تھے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے اپنے ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دیا۔ پھر وہ محتاج ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (غلام) کو لیا اور فرمایا: مجھ سے یہ کون خریدے گا؟ تو نُعَیم بن عبداللہ نے اسے اتنی اتنی قیمتپر خرید لیا۔ تب آپؐ نے وہ غلام نعیم کے حوالے کردیا۔
(تشریح)سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا، کہا: عقیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عامر بن سعد نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ سے منع فرمایا ہے اور یہ اِس طرح ہوا کرتی تھی کہ بائع اپنا قابل فروخت کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینک دیتا(وہ اس کو یوں ہی لے لیتا) قبل اِس کے کہ وہ کپڑے کو اُلٹا ئے یا اسے دیکھے۔ اور آپؐ نے بیع ملامسہ سے بھی منع فرمایا ہے اور بیع ملامسہ یہ تھی کہ خریدار کپڑے کو صرف چھوئے، دیکھے نہیں۔