بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
عیاش بن ولید (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عطاء بن یزید سے، عطاء نے حضرت ابوسعید رضیاللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس پہننے اور دو طرح کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ یعنی صرف چھو کر اور پھینک کر کوئی سامان بیچنا اور خریدنا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوعثمان نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو ایسی بکری خریدے جس کا دودھ روک کر جمع کیا گیا ہو اور پھر اسے واپس کردے تو چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تاجروں کو آگے جاکر ملاجائے۔ طرفہُ: ۲۱۶۴۔
(یحيٰ) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے (عبدالرحمن بن ہرمز) اعرج سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اُونٹ اوربکری کا دودھ تم نہ روکے رکھا کرو اور جو ان کو اس کے بعد خریدے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ چاہے تو وہ ان کا دودھ دوہ کر رکھ لے اور چاہے تو ردّ کردے اور (بصورت ردّ) ایک صاع کھجور بھی دے۔ ابوصالح اور مجاہد اور ولید بن رباح اور موسیٰ بن یسار سے مذکور ہے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صاع کھجور نقل کیا اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ابن سیرین سے ایک صاع اناج مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) پھر اسے تین دن تک اختیار ہے اور بعض نے کہا کہ ابن سیرین سے ایک صاع کھجور مروی ہے اور تین دن کا انہوں نے ذکر نہیں کیا اور (ایک صاع) کھجور اکثر (روایات میں) وارد ہوا ہے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ (امام) مالکؒ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قافلہ کے سواروں کو (جو مال بیچنے کے لئے لائیں) آگے جا کر نہ ملا کرو اورنہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرے اور فریب دینے کی غرض سے نرخ نہ بڑھائو اور نہ شہری غیر شہری کا مال (لاد کر) بیچے اور بکری کا دودھ تھن میں نہ روکا کرو اور جو ایسی بکری خریدے تو اُسے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار ہے۔ اس کا دودھ دوہنے کے بعد اگر اسے پسند آئے تو اسے روک لے۔ اگر ناپسند ہے تو اسے مع ایک صاع کھجور کے واپس کردے۔
(تشریح)محمد بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ مکی (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ زیاد (بن سعد خراسانی) نے مجھے بتایا کہ ثابت نے جو عبدالرحمن بن زید کے آزاد کردہ غلام تھے، ان کو خبردی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسی بکری خریدی جس کا دودھ تھنوں میں روک کر اکٹھا کیا گیا ہو اور وہ اسے دوہے؛ اگر اس نے اسے پسند کرلیا ہے تو اسے رکھ لے اور اگر اس نے ناپسند کیا ہے تو اس کے دودھ کے بدلے ایک صاع کھجور دینا ہوگی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعید مقبری نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ (کیسان) سے،انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو چاہیے کہ اسے کوڑے لگائے اور طعن و تشنیع اور ملامت نہ کرے اور اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے اور طعن وتشنیع اور ملامت نہ کرے اور پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دے، گو بالوں کی ایک رسی ہی کے بدلے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: (امام) مالکؒ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کی بابت دریافت کیا گیا کہ اگر وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو( تو کیا حکم ہے؟) آپؐ نے فرمایا کہ اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک بٹی ہوئی رسی کے عوض۔ ابن شہاب نے کہا: میں نہیں جانتا (آنحضرت ﷺ نے یہ فقرہ) تیسری بار کے بعد (فرمایا) یا چوتھی بار کے بعد۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: (امام) مالکؒ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کی بابت دریافت کیا گیا کہ اگر وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو( تو کیا حکم ہے؟) آپؐ نے فرمایا کہ اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک بٹی ہوئی رسی کے عوض۔ ابن شہاب نے کہا: میں نہیں جانتا (آنحضرت ﷺ نے یہ فقرہ) تیسری بار کے بعد (فرمایا) یا چوتھی بار کے بعد۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں زہری سے خبر دی کہ عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے آپؐ سے (بریرہؓ کے خریدنے کا ) ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بریرہؓ کو) خرید لو اور آزاد کردو، کیونکہ ترکہ اسی کو ملتا ہے جو آزاد کرے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جس کے وہ لائق ہے۔ پھر فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط کی جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں، وہ باطل ہے خواہ سو شرطیں کرے۔ اللہ کی شرط نہایت سچی اور نہایت مضبوط ہے۔
حسان بن ابی عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے نافع سے سنا۔ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ حضرت عائشہرضیاللہ عنہانے بریرہؓ کی قیمت (اس کے مالکوںسے) کرائی۔ پھر آنحضرت ﷺ نماز کے لئے نکلے۔ جب آپؐ واپس تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے کہا کہ انہوں نے بریرہؓ کے بیچنے سے انکار کردیا ہے مگر اس شرط پر کہ ترکہ ان کا ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترکہ تو اسے ملتا ہے جو آزاد کرے۔ (ہمام کہتے تھے:) میں نے نافع سے کہا: بریرہؓ کا خاوند آزاد تھا یا غلام؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔
(تشریح)