بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابویعفور سے، ابویعفور نے کہا: میں نے حضرت (عبداللہ) بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات یا چھ غزوات میں نکلے ۔ ہم آپؐ کے ساتھ ٹڈیاں کھایاکرتے تھے۔ سفیان (ثوری)، ابوعوانہ اور اسرائیل نے بھی اس حدیث کو ابویعفور سے نقل کیا۔ انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت کی اس میں سات غزوات کا ذکر کیا۔
(تشریح)ابوعاصم (نبیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حیوہ بن شریح سے، حیوہ نے کہا: ربیعہ بن یزید دمشقی نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوادریس خولانی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓنے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ہم ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ایسی سرزمین میں ہیں جہاں شکار ہوتا ہے۔ میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے اور نیز اپنے اس کتے سے جو سدھایا ہوا نہیں ہوتا، شکارکرتا ہوں۔ نبیﷺ نے فرمایا: یہ جو تم نے ذکر کیا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں ہو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم کو چارہ نہ ہو اور اگر تم لاچار ہو تو پھر ان کو دھولیا کرو اور کھاؤ اور یہ جو تم نے ذکر کیا ہے کہ تم ایسی سرزمین میں ہو جہاں شکار ہوتا ہے تو پھر جو تم اپنی کمان سے شکار کرو اللہ کا نام لو اور کھاؤ اور جو تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرو اللہ کا نام لو اور کھالو اور جو تم اپنے اس کتے کے ذریعہ سے شکار کرو جو سکھایا ہوا نہیں ہے اس کو وقت پر ذبح کرلو تو اس کو بھی کھالو۔
مکی بن ابراہیم نے نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یزید بن ابی عبید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس دن انہوں نے خیبر فتح کیا تو جب شام ہوئی تو انہوں نے آگیں جلائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ آگیں کن چیزوں کے پکانے کے لئے جلائی ہیں، لوگوں نے کہا: پالتو گدھوں کے گوشت کے لیے۔ آپؐ نے فرمایا: جو ان ہانڈیوں میں ہے اس کو انڈیل دو اور اس گوشت کی ہانڈیوں کو بھی توڑ دو۔ لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: جو ان ہانڈیوں میں ہے وہ انڈیل دیتے ہیں اور ان کو دھو لیتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا: یا ایسا ہی کرلو۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسروق سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے، عبایہ نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحلیفہ میں تھے ۔ لوگوں کو بھوک لگی۔ ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پیچھے تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور ہانڈیاں رکھ دیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس آپہنچے۔ آپؐ نے ان ہانڈیوں کے متعلق حکم دیا اور وہ انڈیل دی گئیں۔ پھر آپؐ نے تقسیم کی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور لوگوں میں گھوڑے کم تھے۔ انہوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس نے ان کو تھکا دیا۔ اس پر ایک شخص نے ہاتھ بڑھاکر اس کو تیر مارا اور اللہ نے اس کو وہی روک دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بعض ایسے جنگلی جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی۔ اس لئے جو بھاگ کر تمہیں مغلوب کر دے تو اس سے اسی طرح کرو۔ عبایہ کہتے تھے: اور میرے دادا نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں یا کہا کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں کل دشمن سے مڈ بھیڑ نہ ہوجائے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں تو کیا ہم بانس کی کھپانچ سے ہی ذبح کرلیں۔ آپؐ نے فرمایا: جو بھی خون کو گرائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ کھاؤ مگر دانت اور ناخن نہ ہوں۔ اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ دانت جو ہے تو وہ ہڈی ہے اور ناخن جو ہیں تو وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں۔
(تشریح)معلّی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے جو ابن المختار ہیں، ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: مجھے سالم نے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہؓ (بن عمر) سے سنا۔ حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کے نشیب میں ملے اور یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل نہیں کی گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے سامنے دسترخوان رکھا جس میں کچھ گوشت تھا۔ زید نے اس کے کھانے سے انکار کیا۔ پھر کہنے لگے: میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم (لوگ) اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو اور صرف وہی کھاتا ہوں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود بن قیس سے، اسود نے حضرت جندب بن سفیان بجلیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی ذبح کی تو کچھ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کرلیں۔ جب آپؐ نماز پڑھ کر لَوٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے نماز سے پہلے ہی (جانور) ذبح کرلئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کی ہو وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے اور جس نے ہمارے نماز پڑھنے تک قربانی ذبح نہ کی ہو تو وہ اللہ کا نام لےکر ذبح کرے۔
محمد بن ابی بکر مُقدّمی نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبداللہ) بن کعب بن مالکؓ سے سنا وہ حضرت (عبداللہ) بن عمر ؓکو بتا رہے تھے کہ ان کے باپ نے ان کو بتایا۔ ان کی ایک لونڈی تھی جو سلع پہاڑ پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو ایک پتھر توڑا اور اس سے اس کو ذبح کر ڈالا تو حضرت کعبؓ نے اپنے گھر والوں سے کہا: اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ جاؤں اور آپؐ سے پوچھ نہ لوں یا (کہا) آپؐ کے پاس کسی کو نہ بھیج دوں جو آپؐ سے پوچھے۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے یا کسی کو آپؐ کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے بنی سلمہ کے ایک شخص سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ (بن عمر) کو خبر دی کہ حضرت کعب بن مالکؓ کی ایک لونڈی ان کی بکریاں اس پہاڑی پر چرا رہی تھی جو بازار میں ہے یعنی سلع کی پہاڑی تو ایک بکری گر کر زخمی ہوئی۔ اس نے ایک پتھر توڑا اور اس کو ذبح کر ڈالا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے ان کو کھانے کی اجازت دی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے والد(عثمان بن جبلہ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے سعید بن مسروق سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے اپنے دادا (حضرت رافع بن خدیج ؓ)سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس چھریاں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جو چیز بھی خون کو بہادے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے وہ کھاؤ مگر ناخن اور دانت نہیں۔ ناخن جو ہیں تو وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں اور دانت جو ہیں تو ہڈی ہے۔ اور ایک اونٹ بھاگ گیا، آخر اس کو روک لیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی ایسے وحشی جانور ہوتے ہیں جو قابو میں نہیں آتے جیسے کہ جنگلی جانوروں میں ہوتے ہیں۔ تواس میں سے جو تمہیں بے بس کر دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے نافع سے, نافع نے حضرت کعب بن مالکؓ کے ایک بیٹے سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری ذبح کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے اسے کھانے کی اجازت دی۔ اور لیث نے کہا: ہم سے نافع نے بیان کیا۔ انہوں نے ایک انصاری شخص سے سنا۔ وہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ )سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کررہے تھے کہ حضرت کعبؓ کی ایک لونڈی نے … پھر یہی واقعہ بیان کیا ۔