بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں تبایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی کہ ان دونوں نے نعمان بن بشیر سے روایت کی کہ ان کے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کو لائے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے جیسے اس کو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: اس کو واپس لے لو۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا( انہوں نے کہا: عبداللہ) بن طائوس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہبہ سے پھر جانے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے واپس (کھا) لیتا ہے۔
اور بکر ( بن مضر) نے عمرو( بن حارث) سے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بکیر سے، بکیر نے حضرت ابن عباسؓ کے غلام کریب سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ نے اپنی ایک لونڈی آزاد کردی تو آپؐ نے ان سے فرمایا: اگر تم اپنے ننھیال والوں سے کسی کو دے کر صلہ رحمی کرتیں تو یہ بات تمہارے ثواب کو زیادہ کرنے کا موجب ہوتی۔ طرفہُ: ۲۵۹۲۔
حامد بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) سے، حصین نے عامر (شعبی)سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا اور وہ منبر پر تھے، کہتے تھے: میرے باپ نے ایک عطیہ مجھے دیا تو عمرہ بنت رواحہؓ نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ ٹھہرائو۔ اس پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہؓ سے ہے، ایک عطیہ دیا ہے اور اس نے مجھ سے کہاہے کہ میں آپؐ کو یا رسول اللہ گواہ ٹھہرائوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے باقی تمام بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی ناراضگی سے بچو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔انہوںنے کہا: اس پر وہ لَوٹ آئے اور انہوں نے اپنا عطیہ واپس لے لیا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے بتایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوئے اور آپؐ کی بیماری سخت ہوگئی تو آپؐ نے اپنی ازواج سے اجازت لی کہ آپؐ بیماری کے دِنوں میں میرے گھر میں رہیں۔ انہوں نے آپؐ کو اجازت دی۔ آپؐ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لئے ہوئے باہر نکلے۔ آپؐ کے پائوں زمین پر لکیر ڈالتے جاتے تھے اور آپؐ حضرت عباسؓ کے درمیان اور ایک اور شخص کے درمیان تھے۔ اور عبیداللہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے جو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا، ذکر کیا۔ تو انہوں نے (مجھ سے) کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ شخص کون تھا جس کا حضرت عائشہؓ نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوںنے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ تھے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث (بن سعد) سے، لیث نے یزیدسے، یزید نے بکیر سے، بکیر نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت کی کہ حارث کی بیٹی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ( جو آنحضرت ﷺ کی زوجہ تھیں) نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک لونڈی آزادکردی اور نبی ﷺ سے اجازت نہ لی۔ جب ان کی باری کا وہ دن آیا جس میں آپؐ ان کے پاس آیا کرتے تھے، کہنے لگیں: یا رسول اللہ! کیا آپؐ کو علم ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کردی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اسے آزاد کردیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: واہ اگر تم وہ لونڈی اپنے ننھیال والوں کو دے دیتیں تو یہ بات تمہارے ثواب کو زیادہ بڑھانے والی ہوتی۔ اور بکر بن مضر نے عمرو (بن حارث) سے، عمرو نے بکیر سے، بکیر نے کریب سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت میمونہؓ نے اپنی لونڈی کو آزاد کردیا تھا۔ طرفہُ: ۲۵۹۴۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ( بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ پھر ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا آپؐ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے اور آپؐ ان میں سے ہر زوجہ کا دن اور اس کی رات مقرر کردیتے تھے۔ مگر حضرت سودہؓ بنت زمعہ نے اپنا دِن اور اپنی رات نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ کو دے دیا تھا۔ اس سے وہ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی چاہتی تھیں۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبدالمالک) ابوعمران جونی سے، انہوں نے طلحہ بن عبداللہ سے جو قبیلہ بنی تیم بن مرہ میں سے ایک شخص تھے۔ طلحہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں؛ تو ان میں سے کس کو میں ہدیہ بھیجوں؟ آپؐ نے فرمایا: ان میں سے اس کو جس کا دروازہ تم سے زیادہ نزدیک ہو۔
(تشریح)