بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے انہیں خبردی کہ انہوں نے حضرت صعبؓ بن جثامہ لیثی سے سنا۔ وہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، بتلاتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گورخر ہدیہ پیش کیا اور آپؐ اس وقت ابواء یا ودّان میں تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے اسے لَوٹا دیا۔ حضرت صعبؓ کہتے تھے: جب آپؐ نے میرے چہرے سے معلوم کیا کہ میں نے آپؐ کے ہدیہ قبول نہ کرنے کو محسوس کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: یہ بات نہیں کہ ہم تمہارا ہدیہ واپس کررہے ہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ ہم احرام میںہیں۔
ثابت بن محمد نے مجھ سے بیان کیا: مِسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محارب سے، محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور آپؐ نے مجھے قیمت ادا کی اور زیادہ دیا۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت ابوحمید ساعدی ص سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا:نبی ﷺ نے قبیلہ اَزد میں سے ایک شخص کو جسے ابن اُتبیہ٭ کہتے تھے، زکوٰۃ وصول کرنے پر( کارکن) مقرر فرمایا۔ جب وہ آیا تو اس نے کہا: یہ تو آپ کا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر وہ اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر ہی کیوں نہ بیٹھا رہا اور پھر دیکھتا اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کوئی بھی تم میں سے (اس زکوٰۃ کے مال سے) کچھ لے گا تو وہ ضرور ہی قیامت کے دن اپنی گردن پر اس (مال) کو اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اُونٹ ہوگا تو وہ بڑبڑا رہا ہوگا، یا گائے ہوگی تو وہ بائیں بائیں کررہی ہوگی، یا بکری ہوگی تو وہ مَیں مَیں کررہی ہوگی۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے، یہاں تک کہ ہم نے آپؐ کی بغلوں کی سپیدی دیکھ لی۔ (آپؐ نے فرمایا:) اے میرے اللہ ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔اے میرے اللہ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔ یہ فقرہ تین دفعہ فرمایا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن منکدر نے ہمیں بتایا (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت جابر ص سے سنا، کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دوں گا۔ تین بارفرمایا۔ تو وہ مال اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تھے اور حضرت ابوبکرؓ نے ایک مُنادی کو حکم دیا تو اس نے مُنادی کی کہ نبی ﷺ کے ذمہ جس کا کوئی وعدہ یا قرضہ ہو تو چاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے مجھے تین لپ بھر کر دئیے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہؓ کو ان میں سے کوئی قبانہ دی۔ مخرمہؓ نے (اپنے لڑکے کو) کہا: بیٹا ! تم میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا تو انہوں نے کہا: اندر جائو اور آنحضرت ﷺ سے کہو کہ میں آپؐ کو بلاتا ہوں۔ (مِسور) کہتے تھے: میں نے آپؐ سے کہا کہ میرے والد آپؐ کو بلاتے ہیں۔ آپؐ ان کے پاس باہر آئے اور آپؐ کے کندھوں پر ان میں سے ایک قبا تھی۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہارے لئے یہ چھپا رکھی تھی۔ (مِسور) کہتے تھے: میرے والد نے اسے دیکھا اور کہا: مخرمہ اب تو خوش ہوگیا۔
(تشریح)محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا( انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے حمید بن عبدالرحمن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہلاک ہوگیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیوں؟ اُس نے کہا : میں رمضان میں اپنی بیوی سے مباشرت کربیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا:کیا دوماہ لگاتار روزے رکھنے کی طاقت ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: آیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ اتنے میں ایک انصاری شخص کھجور کا ایک ٹوکرا لایا اور عرق یعنی یہ ٹوکرا پندرہ صاع کا ہوتا ہے۔ اس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے لے جائو اور اسے صدقہ میں دے دو۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ہم سے زیادہ محتاج ہو اُس کو دوں؟ اُسی ذات کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی گھر والے ہم سے بڑھ کر محتاج نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جائو اپنے گھر والوں کو ہی کھلائو۔
(تشریح)ہم سے عبدان نے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں عبداللہ نے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں یونس نے خبر دی۔ اور لیث (بن سعد) نے کہا: مجھ سے یونس نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے ابن کعب بن مالک نے بتایا۔ ان کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ان کے باپ حضرت عبداللہؓ جنگ اُحد میں شہید ہوگئے تو ان کے قرض خواہوں نے اپنے قرضوں کا سختی سے مطالبہ شروع کردیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ساری بات آپؐ سے عرض کی۔ آپؐ نے قرض خواہوں سے کہا کہ وہ میرے باغ کا میوہ قبول کرلیں اور میرے باپ کو قرضہ سے آزاد کردیں۔ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا۔ اِس پر رسول اللہ ﷺ نے اُن کو میرا باغ٭ نہ دیااور نہ ان کے لئے میوہ تڑوایا بلکہ فرمایا: میں کل صبح انشاء اللہ تمہارے پاس آئوں گا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپؐ ہمارے پاس آئے اور کھجور کے درختوں میں اِدھر اُدھر پھرے اور ان کے لئے پھلوں میں برکت کی دعا مانگی۔ پھر میں نے ان خوشوں کو کاٹا اور ان قرض خواہوں کو ان کے حقوق اداکردئیے اور ان کھجوروں کے پھلوں سے تھوڑی سی کھجوریں ہمارے لئے بھی بچ رہیں۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پا س آیا۔ آپؐ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐ سے واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: عمرؓ سنو! اور وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ کیوں نہ ہوتا ۔ بخدا ہمیں تو علم ہے کہ آپؐ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔
(تشریح)یحيٰبن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی شئے لائی گئی۔ آپؐ نے پی ۔ آپؐ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور آپؐ کے بائیںطرف بڑی عمر والے تھے۔ آپؐ نے لڑکے سے پوچھا: تم مجھے اجازت دو کہ میں انہیں دیدوں ۔ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ سے جو حصہ مجھے ملا ہے میں تو اپنے سوا کسی کو نہ دوں گا۔ اس پر آپؐ نے اس کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محارب (بن دثار) سے روایت کی(محارب نے کہا:) میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سفر میں ایک اُونٹ بیچا۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو آپؐ نے فرمایا: مسجد میں آئو اور دو رکعتیں پڑھو۔ پھر آپؐ نے قیمت تول کردی۔ شعبہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں۔ (حضرت جابرؓ نے یوں کہا:) مجھے تول کر دیا اور ترازو کو جھکا دیا۔ تو اس میں سے کچھ میرے پاس ہمیشہ ہی رہا؛ یہاں تک کہ حرہ کی جنگ میں شام والوں نے اس کو لے لیا۔