بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 29 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش سے منع فرمایا۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن دینار سے، اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ اُسے خریدوفروخت میں دھوکہ دے دیا جاتاہے۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم کسی سے خریدو تو یہ کہہ دیا کرو: دغا نہ ہو۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن دینار سے، اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذریعہ سے وہ پہچانا جائے گا ۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: عروہ (بن زبیر) بیان کرتے تھے کہ اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى…یعنی اور اگر تمہیں (یہ) خوف ہو کہ تم یتیموں (کے بارہ) میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو (صورت) تمہیں پسند ہو (کر لو) (یعنی غیر یتیم) عورتوں میں سے …نکاح کر لو۔ سے کیا مراد ہے؟ اُنہوں نے کہا: یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور وہ اُس کے مال اور خوبصورتی کی وجہ سے چاہتا ہو کہ اس قسم کی عورتوں کا جو (حق مہر) عام طور پر ہوتا ہے اس سے کم دے کر اُس سے نکاح کرلے۔ اس لئے وہ یتیم لڑکیوں کے ایسے نکاح سے روک دئیے گئے تھے سوائے اس کے کہ وہ پورا پورا مہر دے کر اُن سے انصاف کریں۔ پھر اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو اللہ نے یہ سورة نازل کی۔ وَ يَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ یعنی اور لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں (سے نکاح) کے متعلق (احکام) دریافت کرتے ہیں۔ شعیب نے وہ ساری حدیث بیان کی۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت زینب بنت اُم سلمہؓ سے، انہوں نے حضرت اُم سلمہؓ سے، حضرت اُم سلمہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو اور کبھی تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی نسبت اپنی دلیل کو اچھی طرح بیان کرتا ہے اور میں اُسی کے مطابق اُس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں جو میں سنتا ہوں۔ اس لئے میں نے کسی کو اُس کے بھائی کے حق میں سے دینے کا فیصلہ کیا تو وہ نہ لے کیونکہ میں تو اُس کو ایک آگ کا ٹکڑا ہی کاٹ کے دے رہا ہوں گا۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن ابی عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن ابی کثیر نے ہم سےبیان کیا۔ یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺسے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: باکرہ (کنواری) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اُس سے اجازت نہ لی جائے اور نہ ہی ثیبہ (بیوہ) کا جب تک اس سے مشورہ نہ لیا جائے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اُس کی اجازت کیونکر ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: جب خاموش ہوگی۔ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر باکرہ سے اجازت نہ لی جائے اور وہ نکاح نہ کرے اور ایک شخص حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ کھڑے کر دے کہ اُس نے اس کی رضا مندی سے اُس سے نکاح کیا اور قاضی اُس کے نکاح کو ثابت شدہ قرار دے اور وہ خاوند جانتا ہے کہ اُس کی شہادت باطل ہے تو کوئی قباحت نہیں کہ اُس سے جماع کرے اور یہ صحیح نکاح ہوگا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن سعید نے ہم سےبیان کیا۔ یحيٰ نے قاسم (بن محمد) سے روایت کی کہ جعفر کی اولاد میں سے ایک عورت ڈری کہ اُس کا ولی اس کا نکاح نہ کردے اور وہ ناپسند کرتی تھی تو اُس نے انصار میں سے بڑی عمر کے دو افراد عبدالرحمٰن اور مجمع کو جو دونوں جاریہ کے بیٹے تھے، کہلا بھیجا تو اُن دونوں نے کہا:تم ڈرو نہیں کیونکہ حضرت خنساء بنت خدامؓ کا نکاح اُس کے باپ نے کردیا تھا اور وہ ناپسند کرتی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو باطل قرار دیا۔ سفیان کہتے تھے: عبدالرحمٰن جو ہیں تو میں نے اُن سے سنا۔ وہ اپنے باپ سے یوں نقل کرتے تھے کہ حضرت خنساءؓ … (آخر تک ۔)
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیا جائے اور باکرہ(کنواری) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لی جائے۔ لوگوں نے کہا: اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ وہ خاموش رہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر کوئی انسان ثیبہ (بیوہ) عورت کے نکاح کے متعلق دو جھوٹے گواہوں کے ذریعہ سے یہ حیلہ کرے کہ اس عورت کے مشورہ سے نکاح ہوا ہے اور قاضی اس شخص سے اس عورت کے نکاح کو ثابت شدہ قرار دے اور وہ خاوند جانتا ہو کہ اُس نے اُس سے کبھی نکاح نہیں کیا تو یہ نکاح اس شخص کے لئے جائز ہو سکتا ہے اور اس عورت کے ساتھ اس شخص کے ٹھہرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
ابوعاصم (ضحاک بن مخلد) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، اُنہوں نے ذکوان سے، ذکوان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت لی جائے۔ میں نے کہا: کنواری تو شرماتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کی اجازت اس کی خاموشی میں ہے اور بعض لوگوں نے کہا: اگر کوئی شخص کسی یتیم یا کنواری لڑکی پر فریفتہ ہو اور وہ نہ مانے۔ پھر وہ حیلہ کرکے دو جھوٹے گواہ اس بات پر لے آئے کہ اس نے اس سے نکاح کیا تھا اور وہ اب بالغ ہوچکی ہے اور وہ یتیم لڑکی راضی ہوگئی ہے تو قاضی جھوٹی گواہی کو قبول کرلے اور خاوند اس کے باطل ہونے کو جانتا ہو تو اس کے لئے تعلق قائم کرنا جائز ہوگا۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا پسند کرتے تھے اور شہد بھی پسند کرتے تھے اور آپؐ کی عادت تھی کہ جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی ازواج کے پاس سے ہو آتے اور اُن کے پاس بیٹھتے۔ ایک دن آپؐ حفصہؓ کے پاس گئے اور اُن کے ہاں اُس سے زیادہ دیر ٹھہرے رہے جو آپؐ عموماً ٹھہرا کرتے تھے۔ میں نے اِس کے متعلق پوچھا تومجھے بتایا گیا کہ اُن کی قوم میں سے ایک عورت نے شہد کی کُپّی ہدیۃًبھیجی اور اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کا شربت پلایا۔ میں نے کہا: اچھا۔ اللہ کی قسم ہم بھی آپؐ کے لئے ضرور کوئی حیلہ کریں گی۔ میں نے سودہؓ سے اس کا ذکر کیا اور میں نے اُن سے کہا: جب آنحضرتؐ تمہارے پاس آئیں اور وہ تمہارے پاس بیٹھیں تو تم آنحضرتؐ سے کہنا: یا رسول اللہ! آپؐ نے ہینگ کھائی ہے؟ تو آپؐ یہی کہیں گے: نہیں۔ تو تم کہنا: یہ بُو کیا ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے سخت تکلیف ہوتی تھی اگر آپؐ سے بو محسوس ہوتی ہو، تو آپؐ یہی کہیں گے کہ حفصہؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے تو تم آنحضرت ؐسے کہنا: اس شہد کی مکھی نے عُرفُط کا رَس چوسا ہوگا اور میں بھی یہی کہوں گی اور صفیہؓ تم بھی ایسا ہی کہنا۔ جب آپؐ سودہؓ کے پاس آئے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: سودہؓ کہتی تھیں: اُسی ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں! تم سے ڈر کر میں قریب ہی تھی کہ آپؐ سے جلدی سے وہی بات کہہ دوں جو تم نے مجھے کہی تھی اور ابھی آپؐ دروازے پر ہی تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے ہینگ کھائی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں تو۔ میں نے کہا: یہ بُو کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: حفصہؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا ۔ میں نے کہا: اس شہد کی مکھی نے عُرفُط کا رَس چوسا ہوگا۔ (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:) جب آپؐ میرے پاس آئے میں نے بھی آپؐ سے اِسی طرح کہا اور آپؐ صفیہؓ کے پاس آئے تو اُنہوں نے بھی آپؐ سے اِسی طرح کہا۔ پھر جب آپؐ حفصہؓ کے پاس آئے وہ آپؐ کو کہنے لگیں: یا رسول اللہ! کیا آپؐ کو وہی شربت نہ پلاؤں ؟ آپؐ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: سودہؓ کہنے لگیں: سبحان اللہ ہم نے آپؐ کو شہد سے محروم کردیا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں، میں نے اُن کو کہا: چپ کرو۔
(تشریح)