بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 29 hadith
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے۔ جب آپؓ سرغ میں پہنچے تو انہیں یہ خبر پہنچی کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے حضرت عمر ؓ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ملک کے متعلق سنو کہ وہاں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی ملک میں پھوٹ پڑی ہو اور تم وہاں ہو تو اُس ملک سے بھاگ کر نہ نکلو۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ سرغ سے لوٹ آئے اور ابن شہاب سے مروی ہے کہ اُنہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر ؓحضرت عبدالرحمٰنؓ کی یہ حدیث سن کر ہی لوٹ آئے تھے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سختیانی سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہبہ میں پلٹنے والا اُس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو چاٹنے لگ جاتا ہے۔ بُری مثال ہمارے شایاں نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زُہری سے روایت کی۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص نے ہمیں بتایا کہ اُنہوں نے حضرت اُسامہ بن زیدؓ سے سنا۔ وہ حضرت سعدؓ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیماری کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ ایک مکروہ عذاب ہے یا فرمایا: سزا ہے جس سے بعض اُمتوں کو سزا دی گئی۔ پھر اسی عذاب سے اب کچھ باقی رہ گئی ہے۔ کبھی چلی جاتی ہے اور کبھی آجاتی ہے۔ اس لئے جو شخص سنے کہ وہ کسی سرزمین میں ہے تو وہاں نہ جائے اور جو کسی سرزمین میں ہو جس میں کہ طاعون پڑ جائے تو پھر اس سے بھاگ کر نہ نکلے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زُہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا:نبی ﷺ نے جو شفعہ کا حق رکھا ہے تو وہ ہر ایک ایسی جائیداد میں ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، جب حدیں پڑ جائیں اور راستے الگ الگ نکال دئیے جائیں تو پھر شفہ نہیں اور بعض لوگوں نے کہا: ہمسائے کو بھی شفعہ کا حق ہے۔ پھر جو حق اُنہوں نے مضبوط کیا تھا اُسی کو لے کر اُسے باطل کر دیا اور کہا: اگر کوئی شخص گھر خریدے اور وہ ڈرے کہ کہیں ہمسایہ شفعے کے ذریعہ سے نہ لیوے تو وہ سو حصوں میں سے ایک حصہ خریدے، پھر باقی حصے خریدے تو پڑوسی کو پہلے حصہ میں شفعہ کرنے کا حق ہوگا اور باقی گھر میں اُس کو شفعہ کا کوئی حق نہیں اور اس کے لئے جائز ہوگا کہ وہ اس کے متعلق حیلہ کرے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے عمرو بن شرید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت مسور بن مخرمہؓ آئے اور انہوں نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا اور میں اُن کے ساتھ حضرت سعدؓ کے پاس چلا گیا تو حضرت ابورافعؓ نے حضرت مسورؓ سے کہا: کیا تم سعد بن ابی وقاصؓ کو مشورہ نہیں دیتے کہ وہ مجھ سے میرا وہ گھر خرید لیں جو اُن کی حویلی میں ہے؟ تو حضرت سعدؓ نے کہا: میں اُن کو چار سو سے زیادہ نہیں دوں گا، وہ بھی اقساط کے ساتھ ۔ انہوں نے کہا: مجھے تو پانچ سو نقد ملتے تھے مگر میں نے وہ گھر نہیں دیا اور اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کی جائیداد کا زیادہ حقدار ہے تو میں تم کو یہ کبھی نہ بیچتا یا کہا: کبھی نہ دیتا۔ (علی بن مدینی کہتے تھے کہ)میں نے سفیان سے کہا کہ معمر نے یوں نہیں کہا۔ تو انہوں نے کہا: لیکن انہوں نے مجھے ایسا ہی بتایا اور بعض لوگوں نے کہا: اگر حق شفعہ بیچنا چاہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ حیلہ کر کے شفعہ کو باطل کردے اور بیچنے والا مشتری کو وہ گھر ہبہ کر دے اور اس کی حد بندی کر دے اور اُس کو اُس کے حوالے کر دے اور خریدار اِس کے عوض میں بیچنے والے کو ایک ہزار درہم دے تو پھر شفعہ کے حقدار کو اس گھر کے متعلق شفعہ کا حق نہیں رہے گا۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے، ابراہیم نے عمرو بن شرید سے، عمرو نے حضرت ابورافعؓ سے روایت کی کہ حضرت سعدؓ نے اُن سے ایک گھر کا سودا چار سو مثقال پر کیا تو حضرت ابورافعؓ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کی جائیداد کا زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو کبھی نہ دیتا اور بعض لوگوں نے کہا: اگر وہ گھر کا ایک حصہ خرید لے اور شفعہ کو باطل کرنا چاہے تو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دے تو اس بچہ کو قسم بھی نہ دی جائے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے ابوحمید ساعدی سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقوں کے وصول کرنے کے لئے کارکن مقرر کیا ۔ اُسے ابن التبیہ پکاراکرتے تھے۔ جب وہ آیا تو آپؐ نے اس سے حساب لیا۔ وہ کہنے لگا: یہ تو آپؐ کا مالیہ ہے اور یہ (میرا)ہدیہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں بیٹھ کیوں نہ رہے کہ تمہیں ہدیے آتے رہتے اگر تم سچے ہی ہو۔ پھر آپؐ ہم سے مخاطب ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: اما بعد میں تم میں سے ایک شخص کو اُن کاموں میں سے جن کا اللہ نے مجھے نگران بنایا ہے ایک کام پر مقرر کرتا ہوں اور وہ آکر کہتا ہے یہ تمہارا مالیہ ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا۔ وہ اپنے باپ اور ماں کے گھر بیٹھ کیوں نہ رہا کہ اس کے پاس اس کے تحفے آتے رہتے۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص بغیر اپنے حق کے کچھ بھی لے گا تو وہ قیامت کے دن اس کو اُٹھائے ہوئے اللہ سے ملے گا۔ اس لئے میں تم میں سے کسی کو نہ پہچانوں کہ وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے کہ ایک اونٹ کو اُٹھائے ہوئے ہو جو بڑبڑ ا رہا ہو یا گائے کو جو بائیں بائیں کر رہی ہو یا بکری کو جو ممیا رہی ہو۔ پھر آپؐ نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اتنے اونچے اُٹھائے کہ آپؐ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دی: بارے خدایا ! کیا میں نے یہ پہنچا دیا ہے؟ (ابوحمید کہتے تھے) جب آنحضرت ﷺ یہ فرمارہے تھے تو اُس وقت میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں اور میرے کان سن رہے تھے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے، ابراہیم نے عمرو بن شرید سے، عمرو نے حضرت ابو رافعؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے پڑوسی کے مکان کا زیادہ حقدار ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر کوئی شخص ایک گھر بیس ہزار درہم پر خریدلے تو کوئی قباحت نہیں کہ وہ حیلہ کرکے اس گھر کو بیس ہزار درہم پر خریدے اور وہ اس کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم گن کر دے اور بیس ہزار درہم میں سے جو (دس ہزار ایک درہم) باقی رہ گئے ہیں،اُس کے عوض وہ اُسے ایک دینار دے دے۔ اس صور ت میں اگر شفعہ کا حقدار اُس مکان کو بیس ہزار درہم پر لینا چاہے تو لے لے ورنہ اس کو گھر لینے کا کوئی اختیار نہیں۔ ایسی صورت میں اگر اس گھر کا کوئی اور حقدار ہوگا تو خریدار بیچنے والے کو اُسی قیمت پر واپس کر دے جو اس نے اس کو دی تھی اور یہ قیمت نوہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار ہے کیونکہ اس بیع کا حقدار جب کوئی اور نکل آیا تو اُس ایک دینار کے عوض خریداری ختم ہو جائے گی۔ پھر اگر خریدار نے اس گھر میں کوئی عیب پایا ہو اور وہ گھر کسی اور حقدار کا نہیں تو خریدار اس گھر کو بیچنے والے کو بیس ہزار درہم لے کر واپس کردے گا۔ (امام بخاری نے )کہا: اس طرح ان لوگوں نے مسلمانوں کے درمیان فریب کو جائز قرار دیا۔ (امام بخاری نے) کہا: حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: مسلمان کی فروخت میں نہ بیماری ہو اور نہ ملونی اور نہ ہی کوئی دھوکہ۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ابراہیم بن میسرہ نے مجھ سےبیان کیا۔ ابراہیم نے عمرو بن شرید سے روایت کی کہ حضرت ابورافعؓ نے حضرت سعد بن مالکؓ سے ایک گھر کا سودا چار سو مثقال پر کیا۔ (عمرو بن شرید نے) کہا: اور اُنہوں نے کہا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کے مکان کا زیادہ حقدار ہے تو میں تمہیں نہ دیتا۔
(تشریح)