بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل (بن خالد) سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ اور عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہم سےبیان کیا کہ زہری نے کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل جو وحی شروع ہوئی تو وہ نیند کی حالت میں سچے خواب تھے۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح صادق کی طرح پورے ہوجاتے۔ آپؐ (کا معمول تھا کہ غار) حرا میں آتے اور اس میں عبادت کرتے، یہ عبادت چند گنتی کی راتوں کی تھی اور آپؐ اس غرض کے لئے زاد لے جاتے تھے۔ پھر حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آجاتے اور وہ اتنا ہی زاد آپؐ کو دے دیتیں۔ (آپؐ اِسی طرح عبادت کرتے رہے) یہاں تک کہ اچانک حق آپؐ کے پاس پہنچا جبکہ آپؐ غار حرا میں تھے۔ وہاں فرشتہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: پڑھو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔(آپؐ نے فرمایا:) اس نے مجھے ایسا پکڑا اور بھینچا کہ میری ساری طاقت صرف ہوگئی ۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھینچا کہ میری طاقت صرف ہوگئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں۔ پھراس نے مجھے پکڑا اور تیسری بار اُس نے اِس زور سے مجھے بھینچا کہ میری ساری طاقت صرف ہو گئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ ، جس نے (سب اشیاء کو) پیدا کیا۔ … اور وہ اِ س آیت تک پہنچا: اُس نے انسان کو (وہ کچھ) سکھایا ہے جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔ آپ اس (وحیٔ الٰہی) کے ساتھ واپس آئے۔ آپؐ کےکندھے اور گردن کے درمیان پٹھے پھڑپھڑا رہے تھے۔ آپ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھادو، مجھے کپڑا اوڑھادو۔ چنانچہ اُنہوں نے آپؐ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ یہاں تک کہ گھبراہٹ آپؐ سے جاتی رہی۔ آپؐ نے فرمایا: خدیجہؓ مجھے کیا ہوگیا اور آپؐ نے اُن سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمانے لگے: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہوگیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے کہا: ہرگز نہیں، آپؐ کو خوشخبری ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا ، آپؐ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچی بات کہتے ہیں اور عاجز کا بوجھ اُٹھاتے ہیں اور مہمان کو نوازتے ہیں اور حق کی مشکلات میں مدد دیتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی بن قصی کے پاس آئیں اور وہ حضرت خدیجہؓ کے اُس چچا کے بیٹے تھے جو اُن کے باپ کے (حقیقی)بھائی تھے اور یہ ایسے شخص تھے جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عربی تحریر لکھنا جانتے تھے اور انجیل سے جو اللہ چاہتا کہ وہ لکھیں، عربی زبان میں لکھا کرتے تھے ۔ وہ بوڑھے تھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا: چچا کے بیٹے اپنے بھتیجے سے سنو۔ ورقہ نے کہا: میرے بھتیجے آپ کیا دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا اُن کو بتایا۔ ورقہ نے کہا: یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰؑ پر نازل کیا گیا۔ اے کاش میں اس زمانہ میں جوان ہوت، (اے کاش) میں اس وقت تک زندہ رہوں کہ جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھے وہ نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں۔ جب کبھی بھی کوئی شخص وہ وحی لایا ہے جو آپ لے کر آئے ہیں تو ضرور ہی اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کے زمانے نے مجھے زندہ پایا تو میں کمر باندھ کر آپ کی مدد کروں گا۔ پھر اس کے بعد ورقہ جلدی ہی فوت ہوگئے اور وحی کچھ دیر تک بند ہوگئی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ ہمیں خبر پہنچی اتنے غمگین ہوگئے کہ کئی بار آپؐ اس غم کے مارے صبح کو نکلے کہ تا اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے تئیں گرا کر ہلاک کر دیں مگر جب کبھی کسی پہاڑ کی چوٹی پر اس غرض سے چڑھتے کہ اپنے آپ کو اس سے گرا دیں تو جبریل آپؐ کے سامنے ظاہر ہوتے اور کہتے: محمد ! آپ سچ مچ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس سے آپؐ کے دل کو سکون حاصل ہوتا اور آپؐ کا نفس قرار پاتا اور آپ واپس لوٹ آتے۔ پھر جب وحی دیر تک موقوف رہتی تو اس ارادے سے صبح کو نکلتے ۔ جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تو جبریل آپؐ کے سامنے ظاہر ہوتے اور آپؐ سے ویسے ہی کہتے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: (سورة الانعام میں) جو فرمایا ہے فَالِقُ الْاِصْبَاحِ تو اس سے دن کو سورج کی روشنی اور رات کو چاند کی روشنی مراد ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے، اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک شخص کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ نے کہا: میں نے ابوسلمہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت ابوقتادہؓ سے سنا۔ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: سچی رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مؤمن کا خواب نبوت کے چھالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔
ابراہیم بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم اور دراوردی نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے یزید بن عبد اللہ بن خباب سے، اُنہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے ہیں: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے مجھ سےبیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: نبوت سے اب بشارت دینے والی ہی باتیں رہ گئی ہیں۔ لوگوں نے کہا: ان بشارت دینے والی باتوں سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اچھی خواب۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ ابن الہاد نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے ہیں : اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور چاہیئے کہ وہ اس کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور اگر اس کے سوا کوئی ایسی خواب دیکھے جس کو ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ چاہیئے کہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو وہ خواب اُس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یحيٰ بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا اور مسدد نے اُن کی اچھی تعریف کی۔ (کہا کہ) میں اُن سے یمامہ میں ملا تھا۔ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔ (اُنہوں نے کہا) ابوسلمہ نے ہم سے بیان کیا ۔ اُنہوں نے حضرت ابوقتادہ ؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے۔ اگر کوئی پریشان خواب دیکھے تو چاہیئے کہ اس سے پناہ مانگے اور اپنی بائیں طرف تھوک دے تو وہ خواب اُس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور نیز اُنہوں نے اپنے باپ سے یہ سند بھی روایت کی۔اُنہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث روایت کی۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اس حدیث کو ثابت اور حمید اور اسحاق بن عبداللہ (بن ابی طلحہ) اور شعیب (بن حجاب) نے بھی روایت کیا۔ اُنہوں نے حضرت انسؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں کو خواب میں دکھایا گیا کہ لیلۃ القدر آخری سات راتوں میں ہے اور کچھ لوگوں کو خواب میں یہ دکھایا گیا کہ وہ آخری دس راتوں میں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو۔
(تشریح)