بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: یزید بن ابی عبید نے سلمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مجھ سے ایسی بات نقل کرے جو میں نے نہیں کہی تو چاہیے کہ وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنالے۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: وکیع نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سفیان سے، سفیان نے مُطرف سے، مُطرف نے ابو حیفہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کوئی نہیں مگر اللہ کی کتاب یا وہ سمجھ ہے جو ایک مسلمان آدمی کو دی گئی ہے یا جو اس ورق میں ہے۔ ابوحیفہ کہتے تھے میں نے کہا: اس ورق میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت دینا اور قیدی کو چھڑوانا اور یہ کہ مسلمان کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جاوے۔
(تشریح)ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ خزاعہ قبیلے نے بنولیٹ قبیلے کے ایک آدمی کو مکہ کے سال فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جس کو بنولیت نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا۔ نبی ﷺ کو اس کے متعلق اطلاع دی گئی تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا: اللہ نے مکہ سے خون ریزی کو یا ہاتھیوں کو روک دیا تھا۔ محمد بن سیرین نے کہا: اس لفظ کو شک کے ساتھ ہی رکھو۔ اور رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو اس پر مسلط کر دیا۔ مگر خبر دار پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں ہوئی اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہے۔ خیال رکھنا کہ وہ میری خاطر دن کی ایک گھڑی بھر کے لیے ہی حلال ہوئی تھی یا دیکھو کہ وہ اب اس وقت حرام ہے۔ اس کے کانٹے نہ توڑے جائیں اور اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر گمشدہ چیز کے متعلق اعلان کرنے والے کو اجازت ہے۔ اور جو شخص مارا جائے تو اس کے لیے دو باتوں میں سے جو بات بہتر ہو، وہ اختیار کی جائے۔ یا تو اس کی دیت دلائی جائے یا قاتل کو قصاص کے لیے مقتول کے وارثوں کے سپرد کر دیا جائے۔ اتنے میں اہل یمن سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ مجھے لکھ ہیں۔ فرمایا: فلاں کے باپ کو لکھ دو۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیونکہ ہم اپنے گھروں پر اور اپنی قبروں میں اسے ڈالتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: سوائے اذخر کے بھی۔ ابو عبداللہ (بخاری) نے کہا: ابو عبد اللہ سے پوچھا گیا: آپ نے اس کو کیا بات لکھ کر دی؟ کہا: یہی خطبہ لکھ کر دیا۔
(تشریح)ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو نے ہمیں بتلایا۔ کہا: وہب بن منبہ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے اپنے بھائی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ کہتے تھے: صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے پاس مجھ سے زیادہ حدیثیں ہوں جو آپ سے مروی ہوں، سوائے ان حدیثوں کے جو حضرت عبداللہ بن عمر و روایت کیا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ وہب کی طرح معمر نے بھی یہی بیان کیا۔ معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔
(تشریح)ہم سے یحی بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یونس نے مجھے بتلایا کہ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عبید اللہ بن عبد اللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: جب نبی ﷺ پر آپ کی بیماری نے سخت حملہ کیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی لکھنے کا سامان لاؤ تا میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم بھولو نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: نبی ﷺ پر بیماری نے غلبہ کیا ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمارے لیے کافی ہے۔ اس پر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور شور بہت ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: اٹھو میرے پاس سے چلے جاؤ۔ میرے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔ حضرت ابن عباس باہر چلے گئے۔ وہ کہا کرتے تھے: بڑا نقصان سارے کا سارا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لکھنے سے روک دیا۔
(تشریح)ہم سے صدقہ نے بیان کیا۔ ابن عیینہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے ہند سے، ہند نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی۔ نیز عمرو اور سعید نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے ہند سے، ہند نے حضرت ام سلمہ سے۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ ایک رات جاگے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج رات کیا فتنے اُتارے گئے اور کیا خزانے کھولے گئے۔ کوٹھڑیوں والیوں کو جگاؤ۔ دنیا میں کتنی ہی پوشاک پہنے ہیں جو آخرت میں لگی ہوں گی۔
(تشریح)ہم سے سعید بن غفیر نے بیان کیا۔ کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: خالد نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے۔ نیز حشمہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے: نبی ﷺ نے اپنی آخری زندگی میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں اپنی اس رات کا کچھ پتہ بھی ہے؟ اس سے سو برس کے آخر تک جو لوگ بھی سطح زمین پر موجود ہیں، ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
ہم سے آدم نے بیان کیا۔کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا حکم نے ہمیں بتلایا۔کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے : میں اپنی خاله حضرت میمونہ بنت حارث کے گھر سو یا جو کہ نبی ﷺ کی بیوی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کی رات اُن کے ہاں تھے۔نبی ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی۔پھر اپنے گھر آئے اور چار رکعتیں نماز پڑھی۔پھر سو گئے۔اس کے بعد اُٹھے اور فرمایا: یہ نتھا سو گیا ہے۔یا کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جو اس سے ملتا جلتا تھا۔اس کے بعد آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہو گئے اور میں بھی آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا اور پانچ رکعتیں نماز پڑھی۔پھر دور کعتیں نماز پڑھی۔اس کے بعد آپ سو گئے۔یہاں تک کہ میں نے آپ کے خرانٹے سنے۔پھر آپ نماز کے لیے باہر گئے۔
(تشریح)حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ہم سے عبدالعزیز بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَوْ لَا ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: لوگ کہتے آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ہیں کہ ابو ہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے۔اگر ثُمَّ يَتْلُو إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا كتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی مِنَ الْبَيِّنَاتِ إِلَى قَوْلِهِ الرَّحِيمُ حدیث بیان نہ کرتا۔یہ کہہ کر انہوں نے یہ آیت پڑھی: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ ۔۔۔۔وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ تک۔ ہمارے بھائی مہاجرین کو تو منڈیوں میں خرید وفروخت کرتی اور ہمارے بھائی انصار کو ان کی جائدادوں کے متعلق کام کاج مصروف رکھتا تھا اور ابو ہریرہ اپنا پیٹ بھر کر رسول اللہ ﷺ سے لپٹا رہتا تھا اور وہ ان موقعوں پر حاضر رہتا جہاں وہ حاضر نہ ہوتے اور وہ باتیں یا درکھتا جو وہ یاد نہ رکھتے۔