بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے احمد بن ابی بکر ابو مصعب نے بیان کیا، کہا: محمد بن ابراہیم بن دینار نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! میں آپ سے بہت باتیں سنتا ہوں۔انہیں بھول جاتا ہوں۔فرمایا: اپنی چادر پھیلا دی۔حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بھر کر ڈالا۔پھر فرمایا: اس کو اکٹھا کرلو۔میں نے اسے اکٹھا کر لیا۔اس کے بعد میں کوئی بات نہ بھولتا تھا۔ ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی فر یک نے یہی حدیث بیان کی۔انہوں نے یا یہ لفظ کہے: آپ نے اپنے ہاتھ سے چلو بھر کر اس میں ڈال دیا۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دوطرح کی یاد داشتیں محفوظ رکھی ہیں۔ ان میں ایک جو ہے اس کو تو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسری جو ہے اگر اس کو پھیلاتا تو یہ نرخرا کاٹ دیا جاتا۔ { ابو عبد اللہ نے کہا: بَلْعُومُ جہاں سے کھانا گزرتا ہے۔}
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: علی بن مدرک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابوزرعہ سے۔ ابوزرعہ نے حضرت جریر سے روایت کی کہ نبی
عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں یہ بتلایا۔ انہوں نے معروف بن خربوز سے، معروف نے ابوطفیل سے، ابوطفیل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عمرو نے ہمیں خبر دی۔ کہا: سعید بن جبیر نے مجھے خبر دی۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ لوف بکالی کا خیال ہے کہ موسی بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اور موسیٰ ہیں۔ اس پر حضرت ابن عباس نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ ہمیں بتلایا کہ (آپ نے فرمایا:) موسی نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر بنی اسرائیل میں تقریر کی تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون سب سے بڑھ کر عالم ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: میں سب سے بڑھ کر عالم ہوں تو اللہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ کیونکہ انہوں نے جواب میں یہ نہیں کہا تھا: اللہ ہی کو علم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسی نے کہا: اے میرے رب! ان سے کس طرح ملا جائے؟ تو انہیں کہا گیا کہ مچھلی کو ایک ٹوکری میں اٹھا لو اور جب تم اس کو نہ پاؤ تو وہ شخص وہیں کہیں ہوگا۔ اس پر حضرت موسی پڑے اور اپنے نوجوان خادم یوشع بن نون کو ساتھ لے لیا اور ٹوکری میں ایک مچھلی اُٹھالی۔ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو وہ دونوں سر ٹکا کر سو گئے اور مچھلی ٹوکری سے سرک کر نکل گئی اور وہ پانی کو چیرتے سمندر میں اپنی راہ لگی اور حضرت موسی اور آپ کے خادم کو تعجب ہوا۔ وہ دونوں اپنی باقی ماندہ رات اور سارا دن چلتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت موسی نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمیں دو۔ کیونکہ ہم نے اس سفر سے بہت تکلیف پائی ہے اور حضرت موسی نے ذرا بھی تھکان محسوس نہیں کی۔ اس وقت کہ جب وہ اُس مکان سے آگے گزر گئے، جہاں جانے کا اُن کو حکم ہوا تھا۔ ان کے خادم نے کہا: دیکھا آپ نے، جب ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی بھول گیا۔ حضرت موسی نے کہا: یہی تو وہ ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے۔ اس پر وہ دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں کا کھوج ڈھونڈتے واپس لوٹے۔ جب وہ دونوں اس چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو کپڑے اوڑھے ہوئے ہے۔ حضرت موسی نے سلام کیا اور خضر نے کہا: تمہارے ملک میں کہاں سلامتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت موسیٰ نے کہا: کیا میں آپ کی پیروی کروں؟ اس شرط پر کہ آپ مجھے راستی میں سے باتیں سکھائیں جو آپ کو سکھلائی گئیں ہیں؟ انہوں نے کہا: اے موسیٰ! تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ مجھے علم الہی سے وہ علم حاصل ہے جو اس نے مجھے خود سکھایا ہے۔ تم اس کو نہیں جانتے اور تمہیں بھی ایک علم حاصل ہے جو تمہیں (اللہ نے) سکھایا ہے۔ میں اس میں تمہیں مستقل مزاج پائیں گے اور میں آپ کے کسی علم سے انکار نہیں کروں گا۔ اس پر دونوں کنارے چل پڑے۔ ان دونوں کی کوئی کشتی نہ تھی۔ اتنے میں ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ وہ ان دونوں کو سوار کر لیں۔ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں تو خضر نے کہا: اے موسیٰ! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم سے اتنا بھی کم نہیں کیا، جتنا کہ اس چڑیا کے چونچ مارنے نے۔ یہ کہہ کر خضر اس کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اس کو اکھیڑ ڈالا۔ پر حضرت موسیٰ نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا تھا۔ آپ نے ان کی کشتی میں عمداً سوراخ کر دیا ہے تا کشتی والوں کو غرق کر دیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا: میری بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجیئے اور میری اس بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا ہے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ اس کا سر اوپر سے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کا سرا کھیٹر ڈالا۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا: آپ نے تو ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے بدلے مار ڈالا ہے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں: (خضر کی) یہ بات زیادہ تاکید کرنے والی تھی۔ اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے۔ یہاں تک کہ بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کو مہمان ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کو تھی۔ خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ سیدھی کر دی۔ حضرت موسیٰ نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے۔ انہوں نے کہا: اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے ہم تو چاہتے تھ کہ کاش وہ صبر کرتے تا اُن دونوں کا حال ہم سے بیان کر دیا جاتا۔
(تشریح)ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے مجھے بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت ابو موسی سے روایت کی۔وہ کہتے: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: يا رسول الله! اللہ کی راہ میں لڑنا کیا ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم میں سے ایک غصے کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور حمیت کی وجہ سے بھی لڑتا ہے۔اس پر آپ نے اس کی طرف سر اٹھایا۔راوی نے کہا: اور آپ نے اس کی طرف سر اس لئے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔آپ نے فرمایا: جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ ہی کا بول بالا ہو تو یہ (لڑنا) اللہ عزوجل کی راہ میں ہوگا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا: عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے۔عیسیٰ بن طلحہ سے عیسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو جمرة عقبہ کے پاس دیکھا، جبکہ آپ سے مسئلے پوچھے جارھے تھے۔ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! میں نے کنکر پھینکنے سے پہلے قربانی کر دی ہے۔آپ نے فرمایا: (اب) کوئی حرج نہیں۔دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈ والیا ہے۔آپ نے فرمایا: (اب) قربانی کرلے۔کوئی حرج نہیں۔آپ سے کوئی بات بھی ایسی نہیں پوچھی گئی جس کو آگے پیچھے کیا گیا ہو۔مگر آپ نے یہی فرمایا: (اب) کرلے اور کوئی حرج نہیں۔
(تشریح)ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں اعمش سلیمان بن مہران نے بتلایا۔ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چلا جارہا تھا اور آپ ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں آپ چند یہودیوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس سے روح کے متعلق پوچھو۔ ان میں سے بعض نے کہا: اس سے نہ پوچھو۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی بات بیان کر دے جو تم ناپسند کرو۔ اور بعض نے کہا کہ ہم تو ضرور پوچھیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: ابو قاسم! روح کیا ہے؟ آپ خاموش رہے۔ میں سمجھا: آپ کو وحی ہو رہی ہے اور میں کھڑا ہوگیا۔ جب وحی کی حالت آپ سے ہٹ گئی تو آپ نے فرمایا: اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ اعمش نے کہا کہ ہماری قرأت میں یہ آیت یوں ہے: وَمَا اُوْتُوا یعنی انہیں نہیں دیا گیا۔
(تشریح)ہم سے عبید اللہ بن موسی نے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے۔ اسرائیل نے ابو اسحاق سے۔ ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن زبیر نے مجھ سے کہا: حضرت عائشہ آپ سے بہت راز کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے آپ کو کعبہ کے متعلق کیا بتلایا؟ میں نے کہا: انہوں نے بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ قریب نہ ہوتا. حضرت ابن زبیر نے کہا: یعنی کفر سے۔ تو میں کعبہ کو توڑ ڈالتا اور اس کے دو دروازے رکھتا۔ ایک دروازہ سے لوگ داخل ہوتے اور ایک دروازہ سے وہ نکلتے۔ چنانچہ حضرت ابن زبیر نے ایسا کر دیا۔
(تشریح)نیز ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے قمادہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے جبکہ حضرت معاذ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے، فرمایا: معاذ بن جبل! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! حضور کی خدمت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: معاذ! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی خدمت میں ہوں۔ (فرمایا: معاذ! انہوں نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی خدمت میں ہوں)۔ تین بار (آپ نے پکارا) فرمایا: جو کوئی بھی اپنے دل کی سچائی سے یہ اقرار کرے گا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کا رسول ہے تو اللہ ضرور اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس کے متعلق خبر نہ دوں کہ وہ خوش ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: تب تو وہ بھروسہ کرلیں گے۔ حضرت معاذ نے مرتے وقت یہ بات بتلائی تا کہ وہ گناہ سے بچ جائیں۔