بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
اور ہشام سے مروی ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عائشہؓ کو کہلا بھیجا: مجھے اجازت دیں کہ مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے تو حضرت عائشہؓ نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! (میں اجازت دیتی ہوں) عروہ کہتے تھے: اور صحابہ میں سے کوئی اور شخص جب حضرت عائشہؓ کو کہلا بھیجتا تو وہ کہتیں: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی کسی کو ان کی ہمسائیگی میں اپنے سے مقدم نہیں کروں گی۔
عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ قاسم بن مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جُعَید سے روایت کی کہ میں نے حضرت سائب بن یزیدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صاع اس مد کا جو تمہارا آج ہے ایک مد اور تہائی مد تھا اور اس صاع کو بڑھایا گیا ہے۔ قاسم بن مالک نے جعید سے سنا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے لئے ان کے ماپ میں برکت دے اور ان کے لئے ان کے صاع اور مُد میں برکت دے یعنی مدینہ والوں کے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ ابوضمرہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ یہود ایک مرد اور عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو آپؐ نے ان کے متعلق حکم دیا اور وہ مسجد کے پاس اُس جگہ کے قریب سنگسار کئے گئے جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔
ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابو غسان نے ہمیں بتایا۔ ابوحازم نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوحازم نے حضرت سہلؓ سے روایت کی کہ مسجد کی اُس دیوار کے درمیان جو قبلے کی دیوار سے ملی ہوئی ہے اور منبر کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ جس میں سے بکری گزر جائے۔
ایوب بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر بن ابی اویس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے صالح بن کیسان سے روایت کی۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور اُن مضافات میں جایا کرتے تھے جو مدینہ کی بلندی پر واقع ہیں اور ابھی سورج بلند ہی ہوتا۔ اور لیث نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا اور یہ بلندی پر واقع گاؤں چار یا تین میل دور ہیں۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عمرو سے جو مطلب کے غلام تھے، عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُحد دکھلائی دیا تو آپؐ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان جو جگہ ہے اُس کو حرم قرار دیتا ہوں. (حضرت انس بن مالکؓ کی طرح) حضرت سہلؓ نے بھی اُحد کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کیا۔
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ مالک نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑدوڑ کرائی ۔ وہ گھوڑے جو کہ گھڑ دوڑ کے لئے تیار کئے گئے تھے اُن کو چھوڑا گیا اور ان کی دوڑ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک تھی اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے اُن کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے بنوزُریق کی مسجد تک تھی اور حضرت عبداللہؓ بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے لیث سے، لیث نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ اور اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ اور ابن ادریس اور ابن ابی غنیہ نے ہمیں بتایا۔ ان سب نے ابوحیان سے، ابوحیان نے شعبی سے، شعبی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے سنا جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے تھے۔