بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 103 hadith
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین سے، حسین نے ابن بریدہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ مزنیؓ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مغرب کی نماز سے پہلے نماز پڑھو۔ تیسری بار آپؐ نے فرمایا: یہ اس شخص کے لئے ہے جو پڑھنا چاہے۔ اس لئے کہ آپؐ نے ناپسند فرمایا کہ کہیں لوگ اس کو دستور نہ بنا لیں۔
(تشریح)اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ، ابن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے اس واقعہ کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ جب بہتان باندھنے والوں نے ان پر افترا پردازی کی تھی، وہ بیان فرماتی ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو جب آپؐ نے وحی کے آنے میں دیر محسوس کی بلایا کہ ان دونوں سے پوچھیں اور آپؐ اپنی زوجہ کے جدا کرنے کے متعلق ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے۔ حضرت اُسامہؓ نے تو اُسی کے مطابق مشورہ دیا جو وہ آپؐ کی زوجہ کی بریت کے متعلق جانتے تھے اور حضرت علیؓ نے کہا: اللہ نے آپؐ پر تنگی نہیں کی اور اس کے سوا اَور عورتیں بہت ہیں اور آپؐ اس خادمہ لڑکی سے پوچھیں وہ آپؐ سے سچ سچ بیان کر دے گی تو آپؐ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے بھی کوئی ایسی بات دیکھی جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو؟ وہ بولی: میں نے اس سے زیادہ کبھی کوئی بات نہیں دیکھی کہ وہ ایک کم سن لڑکی ہے، اپنے گھر والوں کا آٹا چھوڑ کر سوجایا کرتی ہے اور گھر کی بکری آتی ہے تو وہ آٹا کھا جاتی ہے۔ آپؐ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! میری طرف سے کون اس شخص سے نپٹے گا کہ جس نے مجھے میری زوجہ کے متعلق تکلیف پہنچائی ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنی زوجہ کے متعلق خیر ہی جانتا ہوں اور آپؐ نے حضرت عائشہؓ کی بریت کا ذکر کیا اور ابو اُسامہ نے بھی ہشام سے نقل کیا۔
محمد بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن ابی زکریاء غسانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: تم مجھے ایسے لوگوں کے متعلق کیا مشورہ دیتے ہو جو میرے گھر والوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں؟ مجھے ان کے متعلق کبھی کوئی بُری بات معلوم نہیں ہوئی۔ اور عروہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب حضرت عائشہؓ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! کیا آپؐ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ آپؐ نے اجازت دی اور ان کے ساتھ خادم بھیجا اور انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا: پاک ذات ہے تو، ہمیں شایاں نہیں کہ ہم ایسی بات کریں، پاک ذات ہے تو۔ یہ بہت ہی بڑا بہتان ہے۔
(تشریح)