بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
اس پر میں وہاں سے نکل کر چلا گیا اور حضرت محمد بن مسلمہؓ کو میں نے پایا اور میں اُن کو لے آیا تو انہوں نے میرے ساتھ یہ شہادت دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ اس میں ایک بردہ دینا ہوگا، غلام ہو یا لونڈی۔ ابن ابی زناد نے بھی اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت مغیرہؓ سے روایت کی۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں چل کر بھی آتے اور سوار ہوکر بھی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے عبداللہ بن زبیرؓ سے کہا: مجھے میری ہم نشینوں کے ساتھ دفن کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھر میں مجھے دفن نہ کرنا کیونکہ میں ناپسند کرتی ہوں کہ مجھے اس وجہ سے پاک ٹھہرایا جائے ۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مقبری سے، مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ میری اُمت اُن امتوں کا رویہ نہ اختیار کرلے جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں، بالشت سے بالشت اور ہاتھ سے ہاتھ۔ آپؐ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! فارسیوں اور رومیوں کی طرح؟ آپؐ نے فرمایا: اور کون لوگ ہیں؟ وہی تو ہیں۔
محمد بن عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعمر صنعانی نے جو یمن کے تھے ہمیں بتایا۔ ابوعمر نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خُدریؓ سے، حضرت ابوسعید خدریؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: ضرور اُن لوگوں کی چالوں پر چلو گے جو تم سے پہلے تھے، بالشت سے بالشت اور ہاتھ سے ہاتھ یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں بھی داخل ہوئے ہوں تو تم بھی اُن کے پیچھے ہی جاؤ گے۔ ہم نے کہا: یارسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ کی ؟ آپؐ نے فرمایا: پھر اور کس کی۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے، عبداللہ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نفس بھی ظلم سے مارا جاتا ہے تو اس کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر بھی ضرور ہوتا ہے۔ اور کبھی سفیان نے یوں کہا کہ اس کے خون کا حصہ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے پہلے پہل قتل کی رسم جاری کی۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ سلمیؓ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے رسول اللہ ﷺ کی اسلام پر (قائم رہنے کی) بیعت کی۔ اس بدوی کو مدینہ میں (ہی) بخار ہوگیا تو وہ بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کردیں، رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا۔ پھر وہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کردیں، آپؐ نے انکار کیا۔ پھر وہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کردیں، آپؐ نے انکار کیا۔ اس پر وہ بدوی نکل کر چل دیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مدینہ تو ایک بھٹی کی طرح ہے۔ اپنی مَیل کو نکال باہر پھینکتا ہے اور اس کی پاکیزہ چیز خالص ہوجاتی ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو قرآن پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج ہوا جو حضرت عمر ؓنے کیا تو حضرت عبدالرحمٰنؓ نے منیٰ میں کہا: اگر تم امیر المؤمنین کے پاس ہوتے۔ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ کہنے لگا کہ فلاں شخص کہتا ہے: اگر امیرالمؤمنین کا وصال ہو جائے تو ہم فلاں شخص سے بیعت کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے (سن کر) فرمایا: آج شام کو میں لوگوں میں کھڑاا ہوں گا اور اُن لوگوں کے متعلق خبردار کروں گا جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں سے اُن کا حق چھین لیں۔ میں نے کہا: آپؓ ایسا نہ کریں کیونکہ حج (اچھے بُرے) ہر قسم کے لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ آپؓ کی مجلس میں ایسے لوگ زیادہ ہوں گے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپؓ کی گفتگو کو اَور معنوں میں نہ لے جائیں اور پھر ہر اُڑانے والا اس کو اُڑاتا نہ پھرے۔ آپؓ اس وقت تک ٹھہر جائیں کہ مدینہ جو کہ دارہجرت اور سنت نبوی کا مقام ہے، وہاں نہ پہنچ جائیں۔ وہاں آپؓ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ مہاجرین اور انصار کے ساتھ الگ تھلگ ہوں گے وہ آپؓ کی بات کو محفوظ رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں پہلے ہی موقع میں جو مجھے مدینہ میں ملے گا ضرور اس بات کو بیان کروں گا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: ہم مدینہ آئے تو حضرت عمرؓ نے بیان کیا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپؐ پر کتاب نازل کی۔ منجملہ اُن احکام کے جو آپؐ پر نازل کئے گئے رجم کا بھی حکم تھا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوہریرہؓ کے پاس تھے اور انہوں نے کتان کے دو گیرو رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے کپڑے سے ناک صاف کیا اور کہنے لگے: واہ واہ ابوہریرہ، وہ کتان کے کپڑے میں ناک صاف کرتا ہے۔ میں نے اپنے تئیں ایسا زمانہ بھی دیکھا ہے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے منبر سے حضرت عائشہؓ کے حجرے تک چلتے ہوئے بے ہوش ہو کر گرپڑتا تھا تو کوئی آنے والا آتا اور وہ اپنا پاؤں میری گردن پر رکھ دیتا اور وہ سمجھتا کہ میں مجنون ہوں حالانکہ مجھے جنون نہ ہوتا۔ یہ (بےہوشی) تو صرف بھوک کی وجہ سے ہوتی۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا گیا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ اگر میرا تعلق آپؐ سے نہ ہوتا تو میں بوجہ چھوٹا ہونے کے (عید میں) آپؐ کے ساتھ شریک نہ ہوتا۔ آپؐ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کی حویلی کے پاس ہے اور وہاں آکر آپؐ نے نماز پڑھی۔ پھر آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے اذان کا ذکر نہیں کیا اور نہ اقامت کا۔ پھر آپؐ نے صدقہ کا حکم دیا۔ اس پر عورتیں اپنے کانوں اور بالیوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں۔ آپؐ نے بلالؓ کو حکم دیا اور وہ عورتوں کے پاس آئے اور پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے۔