بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا بن اسحاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن محمد) بن عبداللہ بن صیفی سے، یحيٰ نے ابومعبد سے، ابومعبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے زید بن وہب اور ابوظبیان سے، ان دونوں نے حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اُس پر رحم نہیں کرے گا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔
عبداللہ بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان کیا کہ فضل بن علاء نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن اُمیہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ (بن محمد) بن عبداللہ بن صیفی سے روایت کی۔ انہوں نے ابومعبد سے سنا جو حضرت ابن عباسؓ کے غلام تھے۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو آپؐ نے اُن سے فرمایا: تم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو اہل کتاب میں سے ہیں اس لئے سب سے پہلی بات جس کی طرف تم ان کو بلاؤ یہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایک مانیں۔ جب وہ یہ سمجھ لیں تو پھر ان کو بتاؤ کہ اللہ نے اُن پر اُن کے دن رات میں پانچ نمازیں مقرر کی ہیں۔ جب وہ (نمازیں)پڑھنے لگیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان کے مالوں میں ان پر زکوٰة مقرر کی ہے جو اُن کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں کو لَوٹا دی جائے گی جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو پھر ان سے (زکوٰۃ) لو اور لوگوں کے عمدہ اور قیمتی مال (لینے)سے بچتے رہو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سُلیم سے روایت کی۔ ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا۔ اسود نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ حضرت معاذؓ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کا کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ ان کا اللہ پر حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ ان کو عذاب نہ دے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی آدمی کو قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا جسے وہ بار بار دُھرا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے یہ ذکر کیا اور وہ شخص اس سورة کو کم سمجھتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورة تو تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسماعیل بن جعفر نے کچھ بڑھایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید (خدریؓ) سے روایت کیا کہ میرے بھائی حضرت قتادہ بن نعمانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔
احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ عمرو نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ہلال سے روایت کی کہ ابو رجال محمد بن عبدالرحمٰن نے ان سے بیان کیا، ابورجال نے اپنی ماں عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت کی۔ اور ان کی ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ کی پرورش میں تھیں۔ عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی لشکر کا امیر مقرر کر کے بھیجا اور وہ اپنی نماز میں اپنے ساتھیوں کو (قرآن) پڑھ کر سنا تا اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ سے ختم کرتا ۔ جب وہ واپس آئے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا:اس سے پوچھو کہ وہ کس وجہ سے ایسا کرتا ہے تو انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اس میں رحمٰن کی صفات کا بیان ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس کو پڑھوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بتاؤ کہ اللہ اس سے محبت رکھتا ہے۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم احول سے، عاصم نے ابوعثمان نہدی سے، ابوعثمان نے حضرت اُسامہ بن زیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں آپؐ کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا پیغام رساں آپؐ کے پاس آیا۔ اس (بیٹی) نے آپؐ کو اپنے بیٹے کے پاس بلایا جو مرنے کے قریب تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ اور اُسے کہو کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لے لے اور اسی کا ہے جو وہ دے دے اور اس کے پاس ہر شے کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے کہو کہ وہ صبر کرے اور اللہ کی رضامندی چاہے۔ آپؐ کی بیٹی نے پیغام رساں کو واپس بھیجا کہ وہ قسمیں دیتی ہے کہ آپؐ اس کے پاس ضرور آئیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن عبادہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ بھی آپؐ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ وہ بچہ آپؐ کو دیا گیا اور اس کا دم ٹوٹ رہا تھا جیسے کہ وہ دم پرانی مشک میں ہے۔ یہ دیکھ کر آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ حضرت سعدؓ نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالا ہے اور اللہ بھی اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم کرتے ہیں۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے سعید بن جبیر سے، سعید نے ابوعبدالرحمٰن سُلمی سے، ابوعبدالرحمٰن نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکلیف دہ باتوں کے سننے پر اللہ سے بڑھ کر اور کوئی صبر کرنے والا نہیں۔ وہ اُس کا بیٹا پکارتے ہیں پھر بھی وہ ان کو عافیت دیتا ہے اور رزق بھی دیتا ہے ۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے مجھ سے بیان کیا۔ عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا مگر اللہ ہی۔ کوئی نہیں جانتا کہ رحم کیا کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں مگر اللہ ہی اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کو کیا ہوگا مگر اللہ ہی اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی مگر اللہ ہی اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا مگر اللہ ہی اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ گھڑی کب برپا ہوگی مگر اللہ ہی۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جو تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے تو اُس نے یقیناً جھوٹ بولا کیونکہ وہ فرماتا ہے: آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں اور جو تم سے یہ بیان کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا کیونکہ وہ فرماتا ہے: کوئی غیب نہیں جانتا مگر اللہ ہی۔
(تشریح)