بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
محمود نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن طائوس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت بھیجا گیا ۔ جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو ایک تھپڑ مار ا (اور اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی٭) اس پر وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور کہا: تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ پھر ویسی کردی اور فرمایا: پھر جائو اور موسیٰ ؑسے کہو کہ وہ ایک بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھے تو اسے اتنی ہی عمر دی جائے گی جتنے کو اس کا ہاتھ ڈھانپ لے۔ ہر ایک بال کے بدلے ایک سال۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا: اے میرے رب ! اس کے بعد کیا ہوگا؟ فرمایا: پھر موت۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا: تو پھر ابھی سہی ۔ پھر حضرت موسیٰ ؑنے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا کہ اس کو بیت المقدس سے ایک پتھر کی مار (فاصلہ) جتنا نزدیک کردے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو میں تم کو موسیٰ ؑکی قبر لال ٹیلے کے پاس راستہ کے قریب دکھا دیتا۔
(تشریح)سعید بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ ابنِ شہاب نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمن بن کعب سے مروی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبردی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ اُحد کے موقع پر شہیدوں کو دو دو کرکے دفن کیا۔
(تشریح)ابوالولید (طیاسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمن بن کعب (بن مالک) سے، عبدالرحمن نے حضرت جابرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کے خونوں سمیت دفن کرو، یعنی غزوہ اُحد کے موقع پر۔ اور انہیں غسل نہیں دیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوئے تو اآپؐ کی اَزواج میں سے بعض نے ایک گرجے کا ذکر کیا، جو انہوں نے حبشہ کے ملک میں دیکھا تھا۔ جسے ماریہ کہتے تھے۔ اور حضرت امّ سلمہ اور حضرت امّ حبیبہ رضی اللہ عنہما حبش کے ملک میں گئی تھیں اور انہوں نے اس کی خوبصورتی اور تصویروں کا حال بیان کیا۔ آپؐ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: وہ لوگ جب ان میں سے کوئی نیک شخص مرجائے تو اس کی قبر پر مسجد بناد یتے ہیں۔ پھر اس میں تصویریں بناتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔
(تشریح)محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) فلیح بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) بلال بن علی نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے جنازہ میں موجود تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ قبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐ کی آنکھوں کو دیکھا کہ آنسو بہارہی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہے جو آج رات بیوی کے پاس نہ گیا ہو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی قبر میں اترو۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: تب (حضرت ابوطلحہؓ ) اس کی قبر میں اترے۔ (عبداللہ) بن مبارک نے کہا: فلیح کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ آپؐ کی مراد اس سے ارتکاب گناہ تھا اور ابوعبداللہ (بخاریؒ) نے کہا: لِیَقْتَرِفُوْاکے معنی ہیں: کمائیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث(بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے، عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اُحد کے مقتولوں (یعنی شہدائ) میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں اکٹھا رکھتے۔ پھر پوچھتے ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد تھا ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپؐ اس کو لحد میں پہلے رکھتے اور فرماتے: میں قیامت کے دن ان لوگوں کا گو اہ ہوں اور ان کو ان کے خونوں میں ہی دفن کرنے کا حکم دیتے۔ نہ ان کو نہلایا جاتا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) یزید بن ابی حبیب نے مجھے بتایا۔ انہوںنے ابوالخیر (یزید بن عبداللہ) سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور آپؐ نے اُحد والوں کے لئے اسی طرح دعا کی جس طرح میت کے لئے کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ منبر کی طرف مڑ گئے اور فرمایا: دیکھو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارے لئے گواہ ہوں اور میں اللہ کی قسم! اپنے حوض کو اِس وقت دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا فرمایا: زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا تمہارے متعلق خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہوجائو گے، بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں لگ جائو گے۔
(تشریح)(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) لیث بن سعد نے ہمیں بتایا۔ (لیث نے کہا:) ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن مالک بن کعب سے، عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے شہیدوں میں سے دو دو مردوں کی ایک ہی کپڑے میں تکفین کرتے۔ پھر پوچھتے: اِن میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد تھا؟ جب آپؐ کو ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کرکے بتایا جاتا تو آپؐ اسے لحد میں پہلے اتارتے اور فرماتے: میں ان کا گواہ ہوں اور آپؐ نے ان کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی نہ انہیں غسل دیا۔
(عبداللہ بن مبارک نے کہا:) اوزاعی نے بھی ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحدکے شہیدوں کی نسبت پوچھتے: ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد تھا؟ جب آپؐ کو کسی ایک آدمی کی طرف اشارہ کرکے بتایا جاتا تو آپؐ اس کو اس کے ساتھی سے پہلے لحد میں اتارتے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میرے والد اور میرے چچا ایک ہی کمبل میں کفنائے گئے۔ سلیمان بن کثیر نے یوں کہا: زہری نے مجھے بتایا۔ (کہا:) اس شخص نے مجھ سے بیان کیا جس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔
(تشریح)